ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 2

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَ ہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ ﴿۲﴾
کیا لوگوں نے گمان کیا ہے کہ وہ اسی پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہہ دیں ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی۔ En
کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیئے جائیں گے اور اُن کی آزمائش نہیں کی جائے گی
En
کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان ﻻئے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اگر انہوں نے ”ہم ایمان لائے“ کہہ دیا ہے تو انھیں چھوڑ دیا جائے گا اور ان کی آزمائش [1] نہ کی جائے گی۔
[1] یہ سورت اس زمانہ میں نازل ہوئی جب مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے تھے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو دل سے تو اسلام کی حقانیت پر یقین رکھتے تھے مگر مصائب و مشکلات سے گھبرا کر اپنے ایمان کا اعلان نہیں کرتے تھے۔ کچھ ایسے بھی مسلمان تھے جو اسلام لانے کی حد تک تو بہت مخلص تھے مگر مشکلات کے وقت گھبرا جاتے تھے اور مسلمانوں کا ایک کثیر طبقہ ایسا راسخ الایمان لوگوں کا بھی تھا جو ان مصائب کو اللہ کی رضا کی خاطر بڑی فراخدلی اور خندہ پیشانی سے برداشت کر رہا تھا۔ اس آیت میں ہر طرح کے لوگوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ یہی مصائب و مشکلات ہی ان کے ایمان کی کسوٹی ہیں اور انہی سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ فلاں شخص کس حد تک اپنے ایمان کے دعویٰ میں پختہ ہے۔