11۔ اور اللہ تعالیٰ ضرور یہ دیکھ [19] کے رہے گا کہ ایمان والے کون ہیں اور منافق کون؟
[19] راہ حق میں تکالیف و مصائب پیغمبروں کی میراث ہے :۔
یعنی اللہ تعالیٰ بار بار ایسے مواقع پیدا کرتا رہتا ہے جس سے سب کو معلوم ہو جاتا ہے۔ کہ فلاں شخص ایمان کے کس درجہ میں ہے۔ پختہ ایمان والا کون کون ہے، کمزور ایمان والا کون اور منافق کون ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ معرکہ حق و باطل کوئی وقتی اور عارضی سی چیز نہیں۔ اور نہ ہی یہ معرکہ ایسی چیز ہے جس کے نتائج صرف کسی معرکہ کارزار میں سامنے آئیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ انبیاء چونکہ سب سے زیادہ پختہ ایمان والے ہوتے ہیں۔ اس لئے سب سے زیادہ ایذائیں اور مشکلات خود انہی کے حصہ میں آتی ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: «اَشدُّالْبَلَاءِعَلَيالأَنْبِيَاءِثُمَّالأَمْثَلْفَالْأَمْثَل» یعنی سب سے سخت مشکلات و مصائب انبیاء پر آتی ہیں پھر ان سے کم درجہ کے ایمان والوں پر پھر ان سے کم درجہ کے ایمان والوں پر۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان پر مشکلات کا دور آتا ضرور ہے۔ البتہ اس کا معیار یہ ہو گا کہ جتنا زیادہ پختہ ایمان والا ہو گا اتنی ہی سخت اس کی آزمائش ہو گی۔ ضمناً اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شریعت کی پیروی میں تکلیف پہنچنا پیغمبروں کی میراث ہے اور ضروری نہیں کہ یہ تکلیف کافروں کے ہاتھوں ہی پہنچے، یہ مشرکوں کی طرف سے بھی پہنچ سکتی ہے۔ اہل بدعت اور دوسرے گمراہ فرقوں سے بھی اور منافقوں سے بھی۔ لہٰذا مبارک ہیں وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں ستائے جائیں۔ ان کی عزت پر حملہ ہو یا ان کا کوئی جانی یا مالی نقصان ہو، ان کے لئے سب کچھ باعث فخر ہوتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔