ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ القمر (54) — آیت 47

اِنَّ الۡمُجۡرِمِیۡنَ فِیۡ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ ﴿ۘ۴۷﴾
بلکہ قیامت ان کے وعدے کا وقت ہے اور قیامت زیادہ بڑی مصیبت اور زیادہ کڑوی ہے۔ En
بےشک گنہگار لوگ گمراہی اور دیوانگی میں (مبتلا) ہیں
En
بیشک گناه گار گمراہی میں اور عذاب میں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 47){ اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ فِيْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ:} مجرمین سے مراد مشرکین ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ» [المطففین: ۲۹] بے شک وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے،ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنسا کرتے تھے۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ» [الرحمٰن: ۴۳] یہی ہے وہ جہنم جسے مجرم لوگ جھٹلاتے تھے۔ یعنی مشرکین اپنی دانست میں بڑے دانا اور صحیح راستے پر چلنے والے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ بہت بڑی گمراہی اور دیوانگی میں مبتلا ہیں۔