ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزلزال (99) — آیت 4

یَوۡمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخۡبَارَہَا ۙ﴿۴﴾
اس دن وہ اپنی خبریں بیان کرے گی۔ En
اس روز وہ اپنے حالات بیان کردے گی
En
اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کردے گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4){ يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا:} یعنی زمین وہ سب کچھ بیان کرے گی جو اس پر کیا گیا اور بتائے گی کہ کس نے کس وقت کیا نیکی یا کیا بدی کی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی اور صحابہ سے پوچھا کہ جانتے ہو کہ اس کی خبریں کیا ہیں صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس کی خبریں یہ ہیں کہ جس بندے یا بندی نے زمین کی پشت پر جو کچھ کیا ہوگا، اس کی گواہی دے گی۔ کہے گی فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں عمل، فلاں فلاں دن میں کیا تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ اس روز وہ اپنی پوری خبریں بیان کر دے گی [4]
[4] قیامت کے دن زمین کی گواہی :۔
سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی تو صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”جانتے ہو اس کی خبریں کیا ہیں؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر بندے اور بندی پر گواہی دے گی کہ اس نے میری پشت پر کیا کچھ کام کیے۔ وہ کہے گی کہ اس نے فلاں دن یہ یہ کام کیے۔ یہی اس کی خبریں ہیں“ [ترمذي، ابواب التفسير]
قدیم زمانے کے انسان تو شاید زمین کے اس طرح خبریں بیان کرنے پر متعجب ہوں مگر آج کے زمانہ کا انسان تو یہاں دنیا میں ہی یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ویڈیو فلم کی ایجاد کے بعد یہ بات انسان کے لئے قطعاً حیران کن نہیں رہ گئی۔ جس میں جائے وقوع کی پوری تصویریں بھی سامنے آجاتی ہیں اور ہر انسان کی گفتگو کو بھی منضبط کر کے اس طرح واقعات کو مربوط کر دیا جاتا ہے کہ دیکھنے والے کو یہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ وہ اصل واقعہ کے بجائے اس کی فلم دیکھ رہا ہے۔ انسان اس دنیا میں جو اعمال بجا لا رہا ہے۔ ان سب کی فلمیں تیار ہو رہی ہیں۔ اسی طرح ہر انسان کی آوازیں فضا میں محفوظ ہیں اور اس کے اعمال کے اثرات جو زمین پر ثبت ہو رہے ہیں یہی چیزیں اس دن زمین پیش بھی کر دے گی اور بیان بھی کر دے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اس دن زمین بیان کرے گی ﴿ اَخْبَارَهَا اپنی خبریں۔ یعنی عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گی جو انھوں نے اس کی پیٹھ پر کیے ہیں کیونکہ زمین بھی ان گواہوں میں شمار ہو گی جو بندوں کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ یہ سب اس لیے ہو گا ﴿ بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا کہ اللہ تعالیٰ اس کو حکم دے گا کہ وہ ان تمام اعمال کے بارے میں خبر دے جو اس کی سطح پر کیے گئے ہیں۔ پس زمین اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يومئذٍ تحدِّث}: الأرض {أخبارَها}؛ أي: تشهد على العاملين بما عملوا على ظهرها من خيرٍ وشرٍّ؛ فإن الأرض من جملة الشهود الذين يشهدون على العباد بأعمالهم. ذلك {بأنَّ ربَّك أوحى لها}؛ أي: أمرها أن تخبر بما عمل عليها؛ فلا تعصي لأمره.