تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ یَوْمَىِٕذٍتُحَدِّثُ ﴾ اس دن زمین بیان کرے گی ﴿ اَخْبَارَهَا ﴾”اپنی خبریں۔“ یعنی عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گی جو انھوں نے اس کی پیٹھ پر کیے ہیں کیونکہ زمین بھی ان گواہوں میں شمار ہو گی جو بندوں کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ یہ سب اس لیے ہو گا ﴿ بِاَنَّرَبَّكَاَوْحٰىلَهَا﴾ کہ اللہ تعالیٰ اس کو حکم دے گا کہ وہ ان تمام اعمال کے بارے میں خبر دے جو اس کی سطح پر کیے گئے ہیں۔ پس زمین اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يومئذٍ تحدِّث}: الأرض {أخبارَها}؛ أي: تشهد على العاملين بما عملوا على ظهرها من خيرٍ وشرٍّ؛ فإن الأرض من جملة الشهود الذين يشهدون على العباد بأعمالهم. ذلك {بأنَّ ربَّك أوحى لها}؛ أي: أمرها أن تخبر بما عمل عليها؛ فلا تعصي لأمره.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔