تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار جا رہے تھے یہ منافق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر ہاتھ رکھے پتھروں سے ٹھوکریں کھاتا ہوا یہ کہتا ہوا ساتھ جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف دیکھتے بھی نہ تھے جس مسلمان نے اس کا یہ قول سنا تھا اس نے اسی وقت جواب بھی دیا تھا کہ تو بکتا ہے جھوٹا ہے تو منافق ہے۔ یہ واقعہ جنگ تبوک کے موقعہ کا ہے، مسجد میں اس نے یہ ذکر کیا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16928:مرسل]
سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ تبوک جاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منافقوں کا ایک گروہ بھی تھا جن میں ودیعہ بن ثابت اور مخشی بن حمیر وغیرہ تھے۔ یہ آپس میں کہ رہے تھے کہ نصرانیوں کی لڑائی عربوں کی آپس کی لڑائی جیسی سمجھنا سخت خطرناک غلطی ہے اچھا ہے انہیں وہاں پٹنے دو پھر ہم بھی یہاں ان کی درگت بنائیں گے۔
اس پر ان کے دوسرے سردار مخشی نے کہا: ”بھئی ان باتوں کو چھوڑو ورنہ یہ ذکر پھر قرآن میں آئے گا۔ کوڑے کھا لینا ہمارے نزدیک تو اس رسوائی سے بہتر ہے“،
آگے آگے یہ لوگ یہ تذکرے کرتے جا ہی رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جانا ذرا دیکھنا یہ لوگ جل گئے ان سے پوچھ تو کہ یہ کیا ذکر کر رہے تھے؟ اگر یہ انکار کریں تو تو کہنا کہ تم یہ یہ باتیں کر رہے تھے۔“
ودیعہ نے تو یہ کہا لیکن مخشی بن حمیر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرا اور میرے باپ کا نام ملاحظہ فرمائیے پس اس وجہ سے یہ لغو حرکت اور حماقت مجھ سے سرزد ہوئی معاف فرمایا جاؤں۔
پس اس سے جناب باری تعالیٰ نے درگذر فرما لیا اور اس آیت میں اسی سے درگذر فرمانے کا ذکر بھی ہوا ہے اس کے بعد اس نے اپنا نام بدل کر عبدالرحمٰن رکھا سچا مسلمان بن گیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ مجھے اپنی راہ میں شہید کرتا کہ یہ دھبہ دھل جائے چنانچہ یمامہ والے دن یہ بزرگ شہید کر دیئے گئے، اور ان کی نعش بھی نہ ملی، رضی اللہ عنہ وارضاہ۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ہشام:121،122/4]
ان منافقوں نے بطور طعنہ زنی کے کہا تھا کہ لیجئے کیا آنکھیں پھٹ گئیں ہیں اب یہ چلے ہیں کہ رومیوں کے قلعے اور ان کے محلات کو فتح کریں بھلا اس عقلمندی اور دور بینی کو تو دیکھئے۔
ہاں ان میں ایک شخص تھا جسے ان شاءاللہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا ہو گا یہ کہا کرتا تھا کہ اللہ میں تیرے پاک کلام کی ایک آیت سنتا ہوں جس میں میرے گناہ کا ذکر ہے جب بھی سنتا ہوں میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور میرا دل کپکپانے لگتا ہے، پروردگار تو میری توبہ قبول فرما اور مجھے اپنی راہ میں شہید کر اور اس طرح کہ نہ کوئی مجھے غسل دے نہ کفن دے نہ دفن کرے۔ یہی ہوا جنگ یمامہ میں یہ شہداء کے ساتھ شہید ہوئے تمام شہداء کی لاشیں مل گئیں لیکن ان کی نعش کا پتہ ہی نہ چلا۔
جناب باری تعالیٰ کی طرف سے اور منافقوں کو جواب ملا کہ اب بہانے نہ بناؤ تم گو زبانی ایماندار بنے تھے لیکن اب اسی زبان سے تم کافر ہو گئے۔ یہ قول کفر کا کلمہ ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی ہنسی اڑائی۔ ہم اگر کسی سے درگذر بھی کر جائیں لیکن تم سب سے یہ معاملہ نہیں ہو گا تمہارے اس جرم اور اس بدترین خطا اور اس مقولہء کفر کی تمہیں سخت ترین سزا بھگتنی پڑے گی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولئن سألتَهم}: عما قالوه من الطعن في المسلمين وفي دينهم، يقولُ طائفةٌ منهم في غزوة تبوك: ما رأينا مثلَ قُرَّائنا هؤلاء - يعنون: النبي - صلى الله عليه وسلم - وأصحابه - أرغب بطوناً وأكذب ألسناً وأجبن عند اللقاء ... ونحو ذلك ، لما بلغهم أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قد علم بكلامهم؛ جاؤوا يعتذرون إليه ويقولون: {إنَّما كُنَّا نخوضُ ونلعبُ}؛ أي: نتكلَّم بكلام لا قصدَ لنا به ولا قَصَدْنا الطعن والعيب، قال الله تعالى مبيِّناً عدم عذرهم وكذبهم في ذلك: {قل} لهم: {أبالله وآياتِهِ ورسوله كنتم تستهزئون. لا تعتذروا قد كفرتم بعد إيمانكم}؛ فإنَّ الاستهزاء بالله ورسوله كفرٌ مخرجٌ عن الدين؛ لأنَّ أصل الدين مبنيٌّ على تعظيم الله وتعظيم دينه ورسله، والاستهزاء بشيء من ذلك منافٍ لهذا الأصل ومناقضٌ له أشدَّ المناقضة، ولهذا؛ لما جاؤوا إلى الرسول يعتذرون بهذه المقالة، والرسول لا يزيدهم على قوله: {أبالله وآياتِهِ ورسوله كنتُم تستهزِئون. لا تعتَذِروا قد كفرتُم بعد إيمانِكم}. وقوله: {إن نعفُ عن طائفةٍ منكم}: لتوبتهم واستغفارهم وندمهم، {نعذِّبْ طائفةً}: منكم بسبب أنهم {كانوا مجرمين}: مقيمين على كفرِهم ونفاقهم.
وفي هذه الآيات دليلٌ على أن من أسرَّ سريرة، خصوصاً السريرة التي يمكر فيها بدينه ويستهزئ به وبآياته ورسوله؛ فإنَّ الله تعالى يظهرها ويفضح صاحبها ويعاقبُهُ أشدَّ العقوبة. وأنَّ مَن استهزأ بشيء من كتاب الله أو سنة رسوله الثابتة عنه أو سَخِرَ بذلك أو تنقَّصه أو استهزأ بالرسول أو تنقَّصه؛ فإنَّه كافرٌ بالله العظيم. وأنَّ التوبة مقبولةٌ من - كلِّ ذنبٍ وإن كان عظيماً.