ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 65

وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ لَیَقُوۡلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوۡضُ وَ نَلۡعَبُ ؕ قُلۡ اَ بِاللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَ رَسُوۡلِہٖ کُنۡتُمۡ تَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۶۵﴾
اور بلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے تو ضرور ہی کہیں گے ہم تو صرف شغل کی بات کر رہے تھے اور دل لگی کر رہے تھے۔ کہہ دے کیا تم اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول ہی کے ساتھ مذاق کر رہے تھے؟ En
اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے ہم تو یوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے
En
اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے ره گئے ہیں؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت65){وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ …:} منافق آپس میں گپیں لگاتے ہوئے اللہ، اس کے رسول اور آیاتِ الٰہی کا مذاق اڑاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی ذریعے سے یا وحی الٰہی سے اطلاع ہوتی اور آپ پوچھتے تو وہ کہتے ہم تو یوں ہی راستہ کاٹنے کے لیے شغل کی باتیں اور دل لگی کر رہے تھے۔ فرمایا ان سے کہیے کہ تمھارے آپس کے شغل اور دل لگی کا اللہ اور اس کے رسول اور اس کی آیات کے ساتھ مذاق سے کیا تعلق اور کیا دل لگی کے لیے تمھیں یہی ملے ہیں؟ وہ لوگ بار بار معذرت کرتے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

65۔ 1 منافقین آیات الٰہی کا مذاق اڑاتے، مومنین کا استہزا کرتے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلمات کہنے سے گریز نہ کرتے جس کی اطلاع کسی نہ کسی طریقے سے بعض مسلمانوں کو اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوجاتی۔ لیکن جب ان سے پوچھا جاتا تو صاف مکر جاتے اور کہتے کہ ہم تو یوں ہی ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہنسی مذاق کے لئے کیا تمہارے سامنے اللہ اور اس کی آیات و رسول ہی رہ گیا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ اگر مقصد تمہارا آپس میں ہنسی مذاق کا ہوتا تو اس میں اللہ، اس کی آیات و رسول درمیان میں کیوں آتے، یہ یقینا تمہارے اس خبث اور نفاق کا اظہار ہے جو آیات الٰہی اور ہمارے پیغمبر کے خلاف تمہارے دلوں میں موجود ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

65۔ اور اگر آپ ان سے پوچھیں (کہ کیا باتیں کر رہے تھے؟) تو کہہ دیں گے: ”ہم تو صرف مذاق اور دل لگی کر رہے تھے“ آپ ان سے کہئے: ”کیا تمہاری ہنسی اور دل لگی، اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ہی [78] ہوتی ہے؟
[78] منافقوں کی دل لگی کا موضوع؟
غزوہ تبوک میں منافقین کی ایک جماعت بھی شامل تھی۔ جنہیں چار و ناچار ساتھ جانا پڑ گیا تھا۔ مگر راستہ میں بھی انہیں شرارتیں ہی سوجھتی رہیں اور ایسی باتیں کرنے لگے جس سے مسلمانوں کے حوصلے پست ہو جائیں۔ مثلاً ایک نے کہا: یہ مسلمان بھی عجیب غلط فہمی اور دیوانگی میں مبتلا ہیں جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر ہم مکہ کے قریش پر غالب آ گئے ہیں تو قیصر روم کا مقابلہ کرنے کے لیے چڑھ دوڑے ہیں حالانکہ روم وہ عظیم طاقت ہے جو کسریٰ کو بھی شکست دے چکا ہے اور اس وقت اس کا طوطی بول رہا ہے۔ دوسرا کہنے لگا میں تو سمجھتا ہوں کہ ہم سب جکڑ بند کر کے قید کر دیئے جائیں گے اور شاید ان کے ہاتھوں ہماری بڑی سخت پٹائی بھی ہو۔ پھر کبھی انہیں یہ خیال بھی آنے لگتا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پیغمبر کو اللہ تعالیٰ ہماری ان باتوں پر اور دلوں کے حالات پر وحی کے ذریعہ مطلع کر دے۔ چنانچہ ان کا یہ خطرہ سچ ثابت ہوا۔ اور جب آپ کو فی الواقع بذریعہ وحی ان لوگوں کے حالات سے مطلع کیا گیا تو آپ نے انہیں بلا کر باز پرس کی تو کہنے لگے: ہم تو یہ باتیں اس طویل سفر میں محض دل بہلاوے کے طور پر کر رہے تھے سنجیدگی سے نہیں کر رہے تھے۔ اللہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ کیا تمہیں اس دل بہلاوے اور ہنسی مذاق کے لیے ایسی ہی باتیں سوجھتی ہیں جن میں اللہ اور اس کے رسول کی سبکی ہوتی ہو اور اسلام کی سربلندی کے مقصد کو نقصان پہنچتا ہو؟ اور کوئی بات تمہیں دل بہلاوے کے لیے نہیں سوجھتی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مسلمان باہم گفتگو میں محتاط رہا کریں ٭٭
ایک منافق کہہ رہا تھا کہ ہمارے یہ قرآن خواں لوگ بڑے پیٹو، اور بڑے فضول اور بڑے بزدل ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اس کا ذکر ہوا تو یہ عذر پیش کرتا ہوا آیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو یونہی وقت گزاری کے لیے ہنس بول رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں تمہارے ہنسی کے لیے اللہ تعالیٰ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن ہی رہ گیا ہے یاد رکھو! اگر کسی کو ہم معاف کر دیں گے تو کسی کو سخت سزا بھی کریں گے،
اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار جا رہے تھے یہ منافق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر ہاتھ رکھے پتھروں سے ٹھوکریں کھاتا ہوا یہ کہتا ہوا ساتھ جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف دیکھتے بھی نہ تھے جس مسلمان نے اس کا یہ قول سنا تھا اس نے اسی وقت جواب بھی دیا تھا کہ تو بکتا ہے جھوٹا ہے تو منافق ہے۔ یہ واقعہ جنگ تبوک کے موقعہ کا ہے، مسجد میں اس نے یہ ذکر کیا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16928:مرسل]‏‏‏‏
سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ تبوک جاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منافقوں کا ایک گروہ بھی تھا جن میں ودیعہ بن ثابت اور مخشی بن حمیر وغیرہ تھے۔ یہ آپس میں کہ رہے تھے کہ نصرانیوں کی لڑائی عربوں کی آپس کی لڑائی جیسی سمجھنا سخت خطرناک غلطی ہے اچھا ہے انہیں وہاں پٹنے دو پھر ہم بھی یہاں ان کی درگت بنائیں گے۔
اس پر ان کے دوسرے سردار مخشی نے کہا: بھئی ان باتوں کو چھوڑو ورنہ یہ ذکر پھر قرآن میں آئے گا۔ کوڑے کھا لینا ہمارے نزدیک تو اس رسوائی سے بہتر ہے،
آگے آگے یہ لوگ یہ تذکرے کرتے جا ہی رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جانا ذرا دیکھنا یہ لوگ جل گئے ان سے پوچھ تو کہ یہ کیا ذکر کر رہے تھے؟ اگر یہ انکار کریں تو تو کہنا کہ تم یہ یہ باتیں کر رہے تھے۔‏‏‏‏
سیدنا عمار صلی اللہ علیہ وسلم نے جا کر ان سے یہ کہا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عذر معذرت کرنے لگے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہنسی ہنسی میں ہمارے منہ سے ایسی بات نکل گئی۔
ودیعہ نے تو یہ کہا لیکن مخشی بن حمیر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرا اور میرے باپ کا نام ملاحظہ فرمائیے پس اس وجہ سے یہ لغو حرکت اور حماقت مجھ سے سرزد ہوئی معاف فرمایا جاؤں۔
پس اس سے جناب باری تعالیٰ نے درگذر فرما لیا اور اس آیت میں اسی سے درگذر فرمانے کا ذکر بھی ہوا ہے اس کے بعد اس نے اپنا نام بدل کر عبدالرحمٰن رکھا سچا مسلمان بن گیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ مجھے اپنی راہ میں شہید کرتا کہ یہ دھبہ دھل جائے چنانچہ یمامہ والے دن یہ بزرگ شہید کر دیئے گئے، اور ان کی نعش بھی نہ ملی، رضی اللہ عنہ وارضاہ۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ہشام:121،122/4]‏‏‏‏
ان منافقوں نے بطور طعنہ زنی کے کہا تھا کہ لیجئے کیا آنکھیں پھٹ گئیں ہیں اب یہ چلے ہیں کہ رومیوں کے قلعے اور ان کے محلات کو فتح کریں بھلا اس عقلمندی اور دور بینی کو تو دیکھئے۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی ان باتوں پر مطلع کر دیا تو یہ صاف منکر ہو گئے اور قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی ہم تو آپس میں ہنسی کھیل کر رہے تھے۔
ہاں ان میں ایک شخص تھا جسے ان شاءاللہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا ہو گا یہ کہا کرتا تھا کہ اللہ میں تیرے پاک کلام کی ایک آیت سنتا ہوں جس میں میرے گناہ کا ذکر ہے جب بھی سنتا ہوں میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور میرا دل کپکپانے لگتا ہے، پروردگار تو میری توبہ قبول فرما اور مجھے اپنی راہ میں شہید کر اور اس طرح کہ نہ کوئی مجھے غسل دے نہ کفن دے نہ دفن کرے۔ یہی ہوا جنگ یمامہ میں یہ شہداء کے ساتھ شہید ہوئے تمام شہداء کی لاشیں مل گئیں لیکن ان کی نعش کا پتہ ہی نہ چلا۔
جناب باری تعالیٰ کی طرف سے اور منافقوں کو جواب ملا کہ اب بہانے نہ بناؤ تم گو زبانی ایماندار بنے تھے لیکن اب اسی زبان سے تم کافر ہو گئے۔ یہ قول کفر کا کلمہ ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی ہنسی اڑائی۔ ہم اگر کسی سے درگذر بھی کر جائیں لیکن تم سب سے یہ معاملہ نہیں ہو گا تمہارے اس جرم اور اس بدترین خطا اور اس مقولہء کفر کی تمہیں سخت ترین سزا بھگتنی پڑے گی۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ اور اگر آپ ان سے دریافت کریں۔ اس بارے میں جو وہ مسلمانوں اور ان کے دین کی بابت طعن و تشنیع کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ غزوہ تبوک کے موقع پر کہتا تھا ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے ....ان کی مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام تھے .... جو کھانے میں پیٹو، زبان کے جھوٹے اور میدان جنگ میں بزدلی دکھانے والے ہیں۔(تفسیر طبری، 6؍220)
جب انھیں یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ہرزہ سرائی کا علم ہوگیا ہے تو معذرت کرتے اور یہ کہتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ﴿لَیَقُوْلُ٘نَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ ہم تو بات چیت کرتے تھے اور دل لگی یعنی ہم تو ایک ایسی بات کہہ رہے تھے جس سے ہمارا کوئی مقصد تھا اور نہ طعن اور عیب جوئی ہی ہمارا مقصود تھا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا عدم عذر اور ان کا جھوٹ واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُ٘لْ ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَبِاللّٰهِ وَاٰیٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ٘ كُنْتُمْ تَ٘سْتَهْزِءُوْنَؔ۠۰۰ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ کیا تم اللہ سے، اس کے حکموں سے اور اس کے رسول سے ٹھٹھے کرتے تھے؟ تم بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ کیونکہ دین کی اساس اللہ تعالیٰ، اس کے دین اور اس کے رسول کی تعظیم پر مبنی ہے۔ ان میں سے کسی کے ساتھ استہزاء کرنا اس اساس کے منافی اور سخت متناقض ہے۔ بنابریں جب وہ معذرت میں یہ بات کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس سے زیادہ کچھ نہ فرمایا ﴿ اَبِاللّٰهِ وَاٰیٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ٘ كُنْتُمْ تَ٘سْتَهْزِءُوْنَؔ۠ ۰۰ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ دل لگی کرتے تھے؟ اب معذرتیں نہ کرو تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کیا۔فرمایا: ﴿ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآىِٕفَةٍ مِّنْكُمْ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں۔ ان کی توبہ و استغفار اور ان کی ندامت کی وجہ سے۔ ﴿نُعَذِّبْ طَآىِٕفَةًۢ تو تم میں سے کسی دوسرے گروہ کو عذاب دیتے ہیں ﴿ بِاَنَّهُمْ کیونکہ وہ۔ یعنی اس سبب سے کہ ﴿كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ وہ گناہ گار تھے یعنی اپنے کفر و نفاق پر قائم ہیں۔ یہ آیات کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کوئی اپنا بھید چھپاتا ہے خاص طور پر وہ بھید جس میں اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف سازش، اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استہزا ہو تو اللہ تعالیٰ اس بھید کو کھول دیتا ہے، اس شخص کو رسوا کرتا ہے اور اسے سخت سزا دیتا ہے۔ اور جو کوئی کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سنت ثابتہ کے ساتھ کسی قسم کا استہزا کرتا ہے یا ان کا تمسخر اڑاتا ہے یا ان کو ناقص گردانتا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استہزا کرتا ہے یا آپ کو ناقص کہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہر قسم کے گناہ کی توبہ قبول ہو جاتی ہے خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولئن سألتَهم}: عما قالوه من الطعن في المسلمين وفي دينهم، يقولُ طائفةٌ منهم في غزوة تبوك: ما رأينا مثلَ قُرَّائنا هؤلاء - يعنون: النبي - صلى الله عليه وسلم - وأصحابه - أرغب بطوناً وأكذب ألسناً وأجبن عند اللقاء ... ونحو ذلك ، لما بلغهم أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قد علم بكلامهم؛ جاؤوا يعتذرون إليه ويقولون: {إنَّما كُنَّا نخوضُ ونلعبُ}؛ أي: نتكلَّم بكلام لا قصدَ لنا به ولا قَصَدْنا الطعن والعيب، قال الله تعالى مبيِّناً عدم عذرهم وكذبهم في ذلك: {قل} لهم: {أبالله وآياتِهِ ورسوله كنتم تستهزئون. لا تعتذروا قد كفرتم بعد إيمانكم}؛ فإنَّ الاستهزاء بالله ورسوله كفرٌ مخرجٌ عن الدين؛ لأنَّ أصل الدين مبنيٌّ على تعظيم الله وتعظيم دينه ورسله، والاستهزاء بشيء من ذلك منافٍ لهذا الأصل ومناقضٌ له أشدَّ المناقضة، ولهذا؛ لما جاؤوا إلى الرسول يعتذرون بهذه المقالة، والرسول لا يزيدهم على قوله: {أبالله وآياتِهِ ورسوله كنتُم تستهزِئون. لا تعتَذِروا قد كفرتُم بعد إيمانِكم}. وقوله: {إن نعفُ عن طائفةٍ منكم}: لتوبتهم واستغفارهم وندمهم، {نعذِّبْ طائفةً}: منكم بسبب أنهم {كانوا مجرمين}: مقيمين على كفرِهم ونفاقهم.

وفي هذه الآيات دليلٌ على أن من أسرَّ سريرة، خصوصاً السريرة التي يمكر فيها بدينه ويستهزئ به وبآياته ورسوله؛ فإنَّ الله تعالى يظهرها ويفضح صاحبها ويعاقبُهُ أشدَّ العقوبة. وأنَّ مَن استهزأ بشيء من كتاب الله أو سنة رسوله الثابتة عنه أو سَخِرَ بذلك أو تنقَّصه أو استهزأ بالرسول أو تنقَّصه؛ فإنَّه كافرٌ بالله العظيم. وأنَّ التوبة مقبولةٌ من - كلِّ ذنبٍ وإن كان عظيماً.