تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے: سیدنا ابو بکرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے خطبہ میں) فرما ”دیکھو! زمانہ گھوم پھر کر پھر اسی نقشہ پر آ گیا جس دن اللہ نے زمین اور آسمان پیدا کیے تھے۔ سال بارہ ماہ کا ہوتا ہے ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ تین تو لگاتار ہیں ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور چوتھا رجب کا جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔“ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ نيز كتاب المغازي۔ باب حجة الوداع]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ان کا ایک سردار تھا جنادہ بن عمرو بن امیہ کنانی یہ ہر سال حج کو آتا اس کی کنیت ابوثمامہ تھی یہ منادی کر دیتا کہ نہ تو ابو ثمامہ کے مقابلے میں کوئی آواز اٹھا سکتا ہے نہ اس کی بات میں کوئی عیب جوئی کر سکتا ہے۔ سنو پہلے سال صفر کا مہینہ حلال ہے اور دوسرے سال کا حرام۔ پس ایک سال کے محرم کی حرمت نہ رکھتے دوسرے سال کے محرم کی حرمت منا لیتے ان کی اسی زیادتی کفر کا بیان اس آیت میں ہے۔
یہ شخص اپنے گدھے پر سوار آتا اور جس سال یہ محرم کو حرمت والا بنا دیتا لوگ اس کی حرمت کرتے اور جس سال وہ کہ دیتا کہ محرم کو ہم نے ہٹا کر صفر اور صفر کو آگے بڑھا کر محرم میں کر دیا ہے اس سال عرب میں اس ماہ محرم کی حرمت کوئی نہ کرتا۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ بنی کنانہ کے اس شخص کو قلمس کہا جاتا تھا یہ منادی کر دیتا کہ اس سال محرم کی حرمت نہ منائی جائے اگلے سال محرم اور صفر دونوں کی حرمت رہے گی، پس اس کے قول پر جاہلیت کے زمانے میں عمل کر لیا جاتا، اور اب حرمت کے اصلی مہینے میں جس میں ایک انسان اپنے باپ کے قاتل کو پا کر بھی اس کی طرف نگاہ بھر کر نہیں دیکھتا تھا اب آزادی سے آپس میں خانہ جنگیاں اور لوٹ مار ہوتی۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو حج فرض تھا ذی الحجہ کے مہینے میں لیکن مشرک ذی الحجہ کا نام محرم رکھ لیتے پھر برابر گنتے جاتے اور اس حساب سے جو ذی الحجہ آتا اس میں حج ادا کرتے پھر محرم سے خاموشی برت لیتے اس کا ذکر ہی نہ کرتے۔ پھر لوٹ کر صفر نام رکھ دیتے پھر رجب کو جمادی الاخریٰ پھر شعبان کو رمضان اور رمضان کو شوال پھر ذوالقعدہ کو شوال ذی الحجہ کو ذی القعدہ اور محرم کو ذی الحجہ کہتے اور اس میں حج کرتے، پھر اس کا اعادہ کرتے اور دو سال تک ہر ایک مہینے میں برابر حج کرتے۔
جس سال سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حج کیا، اس سال مشرکوں کی اس گنتی کے مطابق دوسرے برس کا ذوالقعدہ کا مہینہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقعہ پر ٹھیک ذوالحجہ کا مہینہ تھا اور اسی کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں اشارہ فرمایا اور ارشاد ہوا کہ زمانہ الٹ پلٹ کر اسی ہئیت پر آ گیا ہے جس ہئیت پر اس وقت تھا جب زمین و آسمان اللہ تعالیٰ نے رچائے۔ لیکن یہ قول بھی درست نہیں معلوم ہوتا۔ اس وجہ سے کہ اگر ذی القعدہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حج ہوا تو یہ حج کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟ ۱؎
حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَأَذَانٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ» ۱؎ [9-التوبة:3] یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آج کے حج اکبر کے دن مشرکوں سے علیحدگی اور بیزاری کا اعلان ہے۔
پھر دوسرے سال محرم کو حرام سمجھتے اور اس کی حرمت و عزت باقی رکھتے تاکہ سال کے چار حرمت والے مہینے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر تھے ان کی گنتی میں موافقت کر لیں پس کبھی تو حرمت والے تینوں مہینے جو پے در پے ہیں ان میں سے آخری ماہ محرم کی حرمت رکھتے کبھی اسے صفر کی طرف مؤخر کر دیتے۔ رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ زمانہ گھوم گھام کر اپنی اصلی حالت پر آ گیا ہے یعنی اس وقت جو مہینہ ان کے نزدیک ہے وہی مہینہ صحیح گنتی میں بھی ہے اس کا پورا بیان ہم اس سے پہلے کر چکے ہیں واللہ اعلم۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ عقبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثناء بیان فرما کر فرمایا کہ ”مہینوں کی تاخیر شیطان کی طرف سے کفر کی زیادتی تھی کہ کافر بہکیں، وہ ایک سال محرم کو حرمت والا کرتے اور صفر کو حلت والا پھر محرم کو حلت والا کر لیتے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:10019/6:ضعیف] یہی ان کی وہ تقدیم تاخیر ہے جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے۔
آپ تحریر فرماتے ہیں کہ اس کام کو سب سے پہلے کرنے والا قلمس تھا [حذیفہ بن عبد بن فقیم بن عدی بن عامر بن ثعلبہ بن حارث بن مالک بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان] پھر اس کا بیٹا عباد پھر اس کا لڑکا قلع پھر اس کا لڑکا امیہ پھر اس کا بیٹا عوف پھر اس کا لڑکا ابو ثمامہ جنادہ، اسی کے زمانہ میں اشاعتِ اسلام ہوئی۔
عرب لوگ حج سے فارغ ہو کر اس کے پاس جمع ہوتے یہ کھڑا ہو کر انہیں لیکچر دیتا اور رجب، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کی حرمت بیان کرتا اور ایک سال تو محرم کو حلال کر دیتا اور محرم صفر کو بنا دیتا اور ایک سال محرم کو ہی حرمت والا کہ دیتا کہ اللہ کی حرمت کے مہینوں کی گنتی موافق ہو جائے اور اللہ کا حرام حلال بھی ہو جائے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
النسيء هو ما كان أهلُ الجاهلية يستعملونه في الأشهر الحرم، وكان من جملة بدعهم الباطلة أنهم لما رأوا احتياجهم للقتال في بعض أوقات الأشهر الحرم؛ رأوا بآرائهم الفاسدة أن يحافظوا على عدَّة الأشهر الحرم التي حرَّم الله القتال فيها، وأن يؤخِّروا بعض الأشهر الحرم أو يقدِّموه ويجعلوا مكانه من أشهر الحلِّ ما أرادوا؛ فإذا جعلوه مكانه؛ أحلُّوا القتال فيه، وجعلوا الشهر الحلال حراماً؛ فهذا كما أخبر الله عنهم أنه زيادةٌ في كفرهم وضلالهم؛ لما فيه من المحاذير:
منها: أنَّهم ابتدعوه من تلقاء أنفسهم، وجعلوه بمنزلة شرع الله ودينه، والله ورسوله بريئان منه.
ومنها: أنهم قلبوا الدين، فجعلوا الحلال حراماً والحرام حلالاً.
ومنها: أنهم موَّهوا على الله بزعمهم وعلى عباده، ولَبَسوا عليهم دينهم، واستعملوا الخداع والحيلة في دين الله.
ومنها: أن العوائد المخالفة للشرع مع الاستمرار عليها يزول قبحها عن النفوس، وربَّما ظُنَّ أنها عوائد حسنة، فحصل من الغلط والضلال ما حصل.
ولهذا قال: {يُضَلُّ به الذين كفروا يُحِلُّونه عامًا ويحرِّمونه عامًا لِيواطئوا عدَّةَ ما حرَّمَ الله}؛ أي: ليوافقوها في العدد، {فيُحِلُّوا ما حرَّم الله. زُيِّنَ لهم سوءُ أعمالهم}؛ أي: زينت لهم الشياطين الأعمال السيئة، فرأوها حسنة بسبب العقيدة المزيَّنة في قلوبهم. {والله لا يهدي القوم الكافرين}؛ أي: الذين انصبغ الكفر والتكذيب في قلوبهم، فلو جاءتهم كلُّ آية لم يؤمنوا.