حقیقت یہی ہے کہ مہینوں کو پیچھے کر دینا کفر میں زیادتی ہے، جس کے ساتھ وہ لوگ گمراہ کیے جاتے ہیں جنھوں نے کفر کیا، ایک سال اسے حلال کر لیتے ہیں اور ایک سال اسے حرام کر لیتے ہیں، تاکہ ان کی گنتی پوری کرلیں جو اللہ نے حرام کیے ہیں، پھر جو اللہ نے حرام کیا ہے اسے حلال کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے لیے خوش نما بنا دیے گئے ہیں اور اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
En
امن کے کس مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کر دینا کفر میں اضافہ کرتا ہے اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اس کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام۔ تاکہ ادب کے مہینوں کو جو خدا نے مقرر کئے ہیں گنتی پوری کر لیں۔ اور جو خدا نے منع کیا ہے اس کو جائز کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے بھلے دکھائی دیتے ہیں۔ اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
مہینوں کا آگے پیچھے کر دینا کفر کی زیادتی ہے اس سے وه لوگ گمراہی میں ڈالے جاتے ہیں جو کافر ہیں۔ ایک سال تو اسے حلال کر لیتے ہیں اور ایک سال اسی کو حرمت واﻻ کر لیتے ہیں، کہ اللہ نے جو حرمت رکھی ہے اس کے شمار میں تو موافقت کر لیں پھر اسے حلال بنا لیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے انہیں ان کے برے کام بھلے دکھادیئے گئے ہیں اور قوم کفار کی اللہ رہنمائی نہیں فرماتا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿النَّ٘سِیْٓءُ﴾”تاخیر“ وہ ہے جو اہل جاہلیت حرام مہینوں میں استعمال کیا کرتے تھے۔ یہ ان کی جملہ بدعات میں سے ایک بدعت تھی کہ جب انھیں حرام مہینوں میں سے کسی مہینے میں لڑائی کی ضرورت پڑتی تو وہ… اپنی فاسد آراء کے مطابق… سمجھتے تھے کہ حرام مہینوں کی گنتی کو پورا رکھا جائے جن کے اندر لڑائی حرام ہے۔ اور یہ کہ وہ بعض حرام مہینوں کو موخر یا مقدم کر دیتے تھے اور اس کی جگہ حلال مہینوں میں سے کسی مہینے کو حرام بنا لیتے تھے۔ جب ان حرام کی جگہ حلال مہینوں کو مقرر کر دیتے تو حرام مہینوں میں لڑائی کو حلال کر لیتے اور حلال مہینوں کو حرام قرار دے دیتے۔ ان کا یہ رویہ… جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے… ان کی طرف سے مزید کفر اور گمراہی کا رویہ ہے کیونکہ اس میں ایسے امور ہیں جن سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔
(۱) انھوں نے (نسئی) کو اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی شریعت اور دین قرار دے دیا حالانکہ اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں۔
(۲) انھوں نے دین کو بدل ڈالا، حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے ڈالا۔
(۳) انھوں نے بزعم خود، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے ساتھ فریب کیا۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ان کے دین کو گڈ مڈ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کے دین میں حیلہ سازی اور فریب کاری کو استعمال کیا۔
(۴) شریعت کی مخالفت میں بار بار کیے جانے والے اعمال پر دوام سے لوگوں کے دلوں سے ان کی قباحت زائل ہو جاتی ہے۔ بلکہ بسااوقات ایسے کام اچھے محسوس ہونے لگتے ہیں، اس کے جو خطرناک نتائج نکلتے ہیں، محتاج وضاحت نہیں۔
بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یُضَلُّبِهِالَّذِیْنَكَفَرُوْایُحِلُّوْنَهٗعَامًاوَّیُحَرِّمُوْنَهٗعَامًالِّیُوَاطِــُٔوْا۠عِدَّةَمَاحَرَّمَاللّٰهُ﴾”گمراہی میں پڑتے ہیں اس سے کافر، حلال کر لیتے ہیں اس مہینے کو ایک برس اور حرام رکھتے ہیں اس کو دوسرے برس تاکہ پوری کر لیں گنتی ان مہینوں کی جن کو اللہ نے حرمت والا قرار دیا ہے“ یعنی حرام مہینوں کے عدد میں موافقت کریں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے انھیں حلال قرار دے لیں ﴿ زُیِّنَلَهُمْسُوْٓءُاَعْمَالِهِمْ﴾”ان کے برے اعمال ان کے لیے مزین کردیے گئے ہیں۔“ یعنی شیاطین نے ان کے سامنے ان کے برے اعمال کو مزین کر دیا اور ان کے دلوں میں جو عقائد مزین ہوگئے ہیں ان کی وجہ سے وہ ان اعمال کو اچھا سمجھتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُلَایَهْدِیالْقَوْمَالْ٘كٰفِرِیْنَ﴾”اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔“ یعنی وہ لوگ جو کفر کے رنگ میں رنگے گئے ہیں اور تکذیب نے ان کے دلوں میں جڑ پکڑ لی ہے، لہٰذا ان کے پاس اگر تمام نشانیاں بھی آجائیں تو یہ ایمان نہیں لائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
النسيء هو ما كان أهلُ الجاهلية يستعملونه في الأشهر الحرم، وكان من جملة بدعهم الباطلة أنهم لما رأوا احتياجهم للقتال في بعض أوقات الأشهر الحرم؛ رأوا بآرائهم الفاسدة أن يحافظوا على عدَّة الأشهر الحرم التي حرَّم الله القتال فيها، وأن يؤخِّروا بعض الأشهر الحرم أو يقدِّموه ويجعلوا مكانه من أشهر الحلِّ ما أرادوا؛ فإذا جعلوه مكانه؛ أحلُّوا القتال فيه، وجعلوا الشهر الحلال حراماً؛ فهذا كما أخبر الله عنهم أنه زيادةٌ في كفرهم وضلالهم؛ لما فيه من المحاذير:
منها: أنَّهم ابتدعوه من تلقاء أنفسهم، وجعلوه بمنزلة شرع الله ودينه، والله ورسوله بريئان منه.
ومنها: أنهم قلبوا الدين، فجعلوا الحلال حراماً والحرام حلالاً.
ومنها: أنهم موَّهوا على الله بزعمهم وعلى عباده، ولَبَسوا عليهم دينهم، واستعملوا الخداع والحيلة في دين الله.
ومنها: أن العوائد المخالفة للشرع مع الاستمرار عليها يزول قبحها عن النفوس، وربَّما ظُنَّ أنها عوائد حسنة، فحصل من الغلط والضلال ما حصل.
ولهذا قال: {يُضَلُّ به الذين كفروا يُحِلُّونه عامًا ويحرِّمونه عامًا لِيواطئوا عدَّةَ ما حرَّمَ الله}؛ أي: ليوافقوها في العدد، {فيُحِلُّوا ما حرَّم الله. زُيِّنَ لهم سوءُ أعمالهم}؛ أي: زينت لهم الشياطين الأعمال السيئة، فرأوها حسنة بسبب العقيدة المزيَّنة في قلوبهم. {والله لا يهدي القوم الكافرين}؛ أي: الذين انصبغ الكفر والتكذيب في قلوبهم، فلو جاءتهم كلُّ آية لم يؤمنوا.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔