تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اہل کتاب سے لڑنے کا حکم دیا۔ یہ ۹ ھ کی بات ہے، آپ نے رومیوں سے جہاد کی تیاری کی، لوگوں کو اس کے لیے دعوت دی، مدینہ کے ارد گرد سے بھی لوگوں کو بلایا، تقریباً تیس ہزار مجاہد لے کر آپ روانہ ہوئے، مدینہ اور اس کے ارد گرد کے منافقین ہی پیچھے رہ گئے، یا چند مخلص مسلمان۔ آپ نے شام کا رخ کیا، تبوک تک پہنچے، تقریباً بیس دن وہاں ٹھہرے، مگر رومی سامنے نہ آئے اور آپ اس علاقے کے لوگوں سے معاہدے کر کے واپس آ گئے۔ (ملخصاً) اس کے بعد خلفائے راشدین،بنو امیہ، بنو عباس اور دوسرے خلفاء نے یہ سلسلہ جاری رکھا تو مسلمانوں کی عزت اور غلبہ بھی قائم رہا اور مشرق سے مغرب تک ان کی حکومت بھی رہی، مگر افسوس! جب مسلمانوں نے اس حکم کو بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ کے شرعی اور کونی نظام کی مخالفت کے نتیجے میں انھیں خود ذلیل ہو کر زندگی گزارنا قبول کرنا پڑا۔ ہاں ایک گروہ ہے جو اس پر اب بھی قائم ہے اور قائم رہے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق غالب رہے گا۔
➋ {حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ:} اس سے معلوم ہوا کہ جہاد کا مقصد ان کو تلوار کے زور سے مسلمان بنانا نہیں، بلکہ اگر وہ اطاعت قبول کر لیں اور جزیہ دیتے رہیں تو وہ اپنے دین پر رہ کر پر امن زندگی گزار سکتے ہیں، اس کے عوض اسلامی حکومت ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ دار ہو گی۔ یہاں صرف اہل کتاب سے جزیہ لینے کا ذکر ہے، یعنی اہل کتاب کے سامنے تین راستے ہیں، مسلمان ہو جائیں یا جزیہ دے کر ماتحتی قبول کر لیں یا لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں۔ رہے دوسرے کفار تو عرب کے مشرکین کے سامنے دو ہی راستے تھے، اسلام قبول کریں یا قتل ہونے کے لیے تیار ہو جائیں، الا یہ کہ وہ اس سے پہلے ہی جزیرۂ عرب سے نکل جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجوس سے بھی اہل کتاب والا معاملہ کیا۔ [بخاری، الجزیۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ مع أھل الذمۃ والحرب: ۳۱۵۶، عن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ] باقی دنیا کے مشرکین کے متعلق تاریخ اسلام میں مشرکین عرب والے سلوک کا کہیں ذکر نہیں، مثلاً ہندو، بدھ اور دوسرے بت پرست وغیرہ، بلکہ مسلمانوں نے انھیں بھی اپنی رعایا بنا کر ان سے بہترین سلوک کیا۔ اگر اسلامی لڑائی کا مقصد لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانا ہوتا تو جس طرح عیسائیوں نے اندلس میں اسلام اور مسلمانوں کا نام و نشان عیسائی نہ ہونے پر مٹا دیا، اسی طرح مصر، شام، عراق، ایران، ہند، چین، ترکستان وغیرہ ہر جگہ سے بزور شمشیر کفار کو ختم کر دیا جاتا۔ برصغیر میں مسلمان اقلیت میں نہ ہوتے، بلکہ سارا ہند مسلمان ہوتا اور یہاں کفار کا نام و نشان تک نہ ہوتا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا، ارشاد ہوتا ہے: «لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ» [البقرۃ: ۲۵۶] ”دین میں زبردستی نہیں۔“ جو مسلمان ہو سوچ سمجھ کر مسلمان ہو۔ ہاں یہ بات حق ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ کسی طرح قبول نہیں کہ دنیا میں اللہ کے باغی غالب ہوں اور اسلام اور مسلمان مغلوب ہو کر رہیں، کیونکہ اس صورت میں نہ دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے نہ فتنہ و فساد ختم ہو سکتا ہے۔ امن صرف اسلام ہی کے ذریعے سے ممکن ہے، اس لیے تمام دنیا کے کفار سے اسلام قبول کرنے یا جزیہ دینے تک لڑتے رہنے کا حکم دیا گیا اور یہ بھی ضروری قرار دیا گیاکہ کفار میں اتنی قوت کبھی نہ ہونے پائے کہ وہ مسلمانوں کے مقابلے میں آ سکیں، بلکہ لازم ہے کہ وہ اسلام کے مقابلے سے دستبردار ہو کر خود اپنے ہاتھوں سے جزیہ دیں اور حقیر ہو کر رہیں۔ {” صٰغِرُوْنَ“ } کا معنی یہی ہے کہ وہ محکوم بن کر اسلام کے سائے میں زندگی بسر کریں۔ اس جزیے کی رقم کا تعین ہر علاقے کے لوگوں کی مالی حالت کو مد نظر رکھ کر کیا جائے گا، جو ان کے ہر شخص کی طرف سے ہر سال ادا کیا جائے گا۔ معاذ رضی اللہ عنہ یمن گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر وہاں کے بنے ہوئے کپڑے وصول کرنے کا حکم دیا۔ [أبو داوٗد، الخراج، باب فی أخذ الجزیۃ: ۳۰۳۸]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[28] یعنی جو کچھ ان کی شریعت میں ان پر نازل ہوا تھا اسے بھی پوری طرح تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور اس رسول کی تو سینہ تان کر مخالفت پر اتر آئے ہیں۔
جزیہ ان غیر مسلم اقوام سے لیا جاتا ہے جو اسلام قبول نہ کرنا چاہتے ہوں۔ خواہ یہ مسلمانوں کی مفتوحہ قوم ہو۔ یا کسی اسلامی ریاست میں بطور ذمی رہتی ہو جسے آج کی زبان میں اقلیت کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں پر زکوٰۃ کی ادائیگی فرض ہے جس کی شرح مقرر ہے لیکن غیر مسلم قوم پر زکوٰۃ کے بجائے جزیہ کی ادائیگی لازم ہوتی ہے اور اس کی شرح میں اس قوم کی مالی حیثیت کے مطابق کمی بیشی کی جا سکتی ہے اور یہ سب رقوم سرکاری بیت المال میں جمع ہوتی ہے۔ اسلامی حکومت اس جزیہ کے عوض اس قوم کو دفاعی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیتی ہے۔ اور انہیں اپنے مذہبی افعال کی ادائیگی کی پوری اجازت دی جاتی ہے مگر اس بات کی اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ اسلام پر کیچڑ اچھالیں یا اس کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کریں۔ اور اگر کسی وقت مسلمان غیر مسلموں پر سے دفاعی ذمہ داریوں کو پورا نہ کر سکیں تو انہیں جزیہ کی رقم واپس دینا ہو گی اور مسلمانوں کی تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ چنانچہ شام کی فتوحات کے سلسلہ میں بعض جنگی مقاصد کے پیش نظر اسلامی سپہ سالار سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح کو جب حمص سے واپس جانا پڑا تو آپ نے ذمیوں کو بلا کر کہا کہ ”ہمیں تم سے جو تعلق تھا وہ اب بھی ہے لیکن اب چونکہ ہم تمہاری حفاظت سے قاصر ہیں لہٰذا تمہارا جزیہ تمہیں واپس کیا جاتا ہے۔“ چنانچہ کئی لاکھ کی وصول شدہ رقم انہیں واپس کر دی گئی۔ عیسائیوں پر اس واقعہ کا اتنا اثر ہوا کہ روتے جاتے تھے اور جوش کے ساتھ کہتے جاتے تھے کہ اللہ تمہیں واپس لائے۔ یہودیوں پر اس سے بھی زیادہ اثر ہوا۔ انہوں نے تورات کی قسم کھا کر کہا کہ جب تک ہم زندہ ہیں قیصر حمص پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ یہ کہہ کر شہر پناہ کے دروازے بند کر لیے اور ہر جگہ چوکی پہرہ بٹھا دیا۔ [الفاروق۔ شبلي نعماني 191]
عرب کی ہمسایہ اور متمدن حکومت ایران میں دو قسم کے ٹیکسوں کا رواج تھا ایک زمین کا لگان جو صرف زمینداروں سے لیا جاتا تھا اور اسے یہ لوگ خراگ کہتے تھے۔ خراج کا لفظ اسی سے معرّب ہے۔ دوسرا ٹیکس عام لوگوں سے دفاعی ضروریات کے پیش نظر لیا جاتا تھا۔ جسے یہ لوگ گزیت کہتے تھے۔ جزیہ کا لفظ اسی سے معرب ہے مسلمانوں نے جب یہ علاقے فتح کیے تو انہوں نے مفتوح اقوام پر کوئی نیا بار نہیں ڈالا بلکہ وہی دونوں قسم کے ٹیکس ان پر عائد کیے گئے جو شاہ ایران اپنی رعایا سے وصول کرتا تھا۔ جبکہ جنگ کے موقعہ پر جزیہ کے علاوہ شاہ ایران کی طرف سے عوام سے جبری ٹیکس بھی وصول کیے جاتے تھے۔
1۔ جزیہ صرف ان افراد پر عائد کیا جاتا ہے جو لڑنے کے قابل ہوں۔ غیر مقاتل افراد مثلاً بچے، بوڑھے، عورتیں معذور لوگ، صوفی اور گوشہ نشین قسم کے حضرات اس سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ جزیہ ادا کرنے کے بعد یہ لوگ دفاعی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جاتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں (جنہیں عرف عام میں اہل الذمہ یا ذمی کہتے ہیں) کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی سخت تاکید فرمائی ہے۔
2۔ جزیہ ان لوگوں کی مالی حالت کا لحاظ رکھ کر عائد کیا جاتا ہے چنانچہ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ ”میں نے مجاہد سے پوچھا کہ شام کے کافروں سے تو سالانہ چار دینار لیے جاتے ہیں اور یمن کے کافروں سے صرف ایک دینار لیا جاتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس لیے کہ شام کے کافر زیادہ مالدار ہیں۔“ [بخاري۔ كتاب الجهاد۔ باب الجزية الموادعة]
3۔ جزیہ کی وصولی میں انتہائی نرمی اختیار کی جاتی تھی اور سیدنا عمر کو اس سلسلہ میں دو باتوں کا بہت زیادہ خیال رہتا تھا۔ ایک یہ کہ جزیہ کی شرح ایسی ہو جسے لوگ آسانی سے ادا کر سکیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عراق کی مفتوحہ زمینوں پر خراج کی تعیین کے لیے سیدنا حذیفہ بن یمان اور سیدنا عثمان بن حنیفؓ جیسے اکابر صحابہ کو مقرر کیا جو اس فن کے ماہر تھے جب ان بزرگوں نے یہ حساب پیش کیا تو آپ نے ان دونوں کو بلا کر کہا کہ تم لوگوں نے تشخیص جمع میں سختی تو نہیں کی؟ سیدنا عثمان بن حنیفؓ نے کہا نہیں۔ بلکہ وہ اس سے دگنا بھی ادا کر سکتے تھے۔ [كتاب الخراج ص 21]
اور دوسری یہ کہ ہر سال جب عراق کا خراج آتا تو دس معتمد اشخاص کوفہ سے اور اتنے ہی بصرہ سے طلب کیے جاتے۔ سیدنا عمر ان کو چار دفعہ شرعی قسم دلا کر پوچھتے کہ رقم کی وصولی میں کسی شخص پر ظلم یا زیادتی تو نہیں کی گئی۔ [الفاروق ص 326]
4۔ جزیہ چونکہ دفاعی ذمہ داریوں کے عوض لیا جاتا ہے لہٰذا جو لوگ ایسی خدمات خود قبول کرتے ان سے جزیہ نہیں لیا جاتا تھا۔ مثلاً ا۔ طبرستان کے ضلعی شہر جرجان کے رئیس مرزبان نے مسلمانوں کے سالار سوید سے صلح کی اور صلحنامہ میں بتصریح لکھا گیا کہ مسلمان جرجان اور طبرستان وغیرہ کے امن کے ذمہ دار ہیں اور ملک والوں میں سے جو لوگ بیرونی حملوں کو روکنے میں مسلمانوں کا ساتھ دیں گے وہ جزیہ سے بری ہیں۔ [الفاروق ص 239]
آذربائیجان کی فتح کے بعد باب متصل کا رئیس شہر براز خود مسلمانوں کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں تمہارا مطیع ہوں لیکن میری درخواست یہ ہے کہ مجھ سے جزیہ نہ لیا جائے بلکہ جب ضرورت پیش آئے تو فوجی امداد لی جائے۔ چنانچہ اس کی یہ شرط منظور کر لی گئی۔ [الفاروق ص 243]
عمرو بن عاصؓ نے جب فسطاط فتح کیا تو مقوقس والی مصر نے جزیہ کی بجائے یہ شرط منظور کی کہ اسلامی فوج جدھر رخ کرے گی، سفر کی خدمت (یعنی راستہ صاف کرنا۔ سڑک بنانا۔ پل باندھنا وغیرہ) مصری سر انجام دیں گے۔ چنانچہ عمرو بن عاصؓ جب رومیوں کے مقابلہ کے لیے اسکندریہ کی طرف بڑھے تو مصری خود منزل بمنزل پل باندھتے، سڑک بناتے اور بازار لگاتے گئے۔ علامہ مقریزی نے لکھا ہے کہ چونکہ مسلمانوں کے سلوک نے تمام ملک کو گرویدہ بنا لیا تھا اس لیے قبطی خود بڑی خوشی سے یہ خدمات سر انجام دیتے تھے۔ [الفاروق ص 194]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ آیت سنہ 9ہجری میں نازل ہوئی اسی سال نبی کریم رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا اور حکم دیا کہ مجمع حج میں اعلان کر دو کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور کوئی شخص ننگا بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔ اس شرعی حکم کو اللہ تعالیٰ قادر و قیوم نے یوں ہی پورا کیا کہ نہ وہاں مشرکوں کو داخلہ نصیب ہوا تو نہ کسی نے اس کے بعد عریانی کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے گھر کا طواف کیا۔ ۱؎ [مسند احمد:392/3:صحیح]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما غلام اور ذمی شخص کو مستثنیٰ بتاتے ہیں۔ مسند کی حدیث میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ہماری اس مسجد میں اس سال کے بعد سوائے معاہدہ والے اور تمہارے غلاموں کے اور کوئی کافر نہ آئے۔ ۱؎ [مسند احمد:339/3:ضعیف و منقطع] لیکن اس مرفوع سے زیادہ صحیح سند والی موقوف روایت ہے۔
خلیفتہ المسلمین سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے فرمان جاری کر دیا تھا کہ یہود و نصرانی کو مسلمانوں کی مسجدوں میں نہ آنے دو۔ اس منع کرنے میں آپ اس آیت کی ماتحتی میں تھے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”حرم سارا اس حکم میں مثل مسجد الحرام کے ہے۔“ یہ آیت مشرکوں کی نجاست پر بھی دلیل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے مومن نجس نہیں ہوتا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:283]
باقی رہی یہ بات کہ مشرکوں کا بدن اور ذات بھی نجس ہے یا نہیں، پس جمہور کا قول تو یہ ہے کہ نجس نہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا ذبیحہ حلال کیا ہے۔
اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ غنی و حمید فرماتا ہے کہ ”تم اس بات سے نہ ڈرو اللہ تعالیٰ تمہیں اور بہت سی صورتوں سے دلا دے گا تمہیں اہل کتاب سے جزیہ دلائے گا اور تمہیں غنی کر دے گا۔ تمہاری مصلحتوں کو تم سے زیادہ تمہارا رب جانتا ہے اس کا حکم اس کی ممانعت کسی نہ کسی حکمت سے ہی ہوتی ہے، یہ تجارت اتنے فائدے کی نہیں جتنا فائدہ وہ تمہیں جزیئے سے دے گا“،
ان اہل کتاب سے جو اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قیامت کے منکر ہیں جو کسی نبی کے صحیح معنی میں اور پورے متبع نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کے اور اپنے بڑوں کی تقلید کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اگر انہیں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی شریعت پر پورا ایمان ہوتا تو وہ ہمارے اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ضرور ایمان لاتے۔ ان کی بشارت تو ہر نبی دیتا رہا ان کی اتباع کا حکم ہر نبی نے دیا لیکن باوجود اس کے وہ اس اشرف الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے انکاری ہیں پس اگلے نبیوں کے شرع سے بھی دراصل انہیں کوئی سروکار بھی نہیں اسی وجہ سے ان نبیوں کا زبانی اقرار ان کے لیے بےسود ہے کیونکہ یہ سید الانبیاء افضل الرسل خاتم النبین اکمل المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم سے کفر کرتے ہیں اس لیے ان سے بھی جہاد کرو۔
سنہ 9 ہجری میں یہ حکم اترا اور آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم رومیوں سے جہاد کی تیاری کی لوگوں کو اپنے ارادے سے مطلع کیا مدینہ کے اردگرد کے عربوں کو آمادہ کیا اور تقریباً تیس ہزار کا لشکر لے کر روم کا رخ کیا بجز منافقین کے یہاں کوئی نہ رکا سوائے بعض کے۔ موسم سخت گرم تھا پھلوں کا وقت تھا روم سے جہاد کیلئے شام کے ملک کا دور دراز کا کٹھن سفر تھا تبوک تک تشریف لے گئے وہاں تقریباً بیس روز قیام فرمایا۔
پھر اللہ تعالیٰ سے استخارہ کر کے واپس لوٹے حالت کی تنگی اور لوگوں کی ضعیفی کی وجہ سے واپس لوٹے۔ جیسے کہ عنقریب اس کا واقعہ ان شاءاللہ تعالیٰ بیان ہو گا۔ اسی آیت سے استدلال کر کے بعض نے فرمایا ہے کہ جزیہ صرف اہل کتاب سے اور ان جیسوں سے ہی لیا جائے جیسے مجوس ہیں۔ چنانچہ ہجر کے مجسیوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ لیا تھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3156]
امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے اور مشہور مذہب امام احمد کا رحمہ اللہ بھی یہی ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”سب عجمیوں سے لیا جائے خواہ وہ اہل کتاب ہوں خواہ مشرک ہوں۔ ہاں عرب میں سے صرف اہل کتاب سے ہی لیا جائے۔“ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جزیئے کا لینا تمام کفار سے جائز ہے خواہ وہ کتابی ہوں یا مجوسی ہوں یا بت پرست وغیرہ ہوں۔ ان مذاہب کے دلائل وغیرہ کے بسط کی یہ جگہ نہیں واللہ اعلم۔
پس فرماتا ہے کہ جب تک وہ ذلت و خواری کے ساتھ اپنے ہاتھوں جزیہ نہ دیں انہیں نہ چھوڑو۔ پس اہل ذمہ کو مسلمانوں پر عزت و توقیر دینی اور انہیں اوج و ترقی دینی جائز نہیں۔ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہود و نصاریٰ سے سلام کی ابتداء نہ کرو اور جب ان سے کوئی راستے میں مل جائے تو اسے تنگی سے مجبور کرو۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:2167]
ان میں اگر کوئی مسلمان مسافر اترنا چاہے تو روکیں گے نہیں خواہ دن ہو خواہ رات ہو ہم ان کے دروازے راہ گزر اور مسافروں کے لیے کشادہ رکھیں گے اور جو مسلمان آئے ہم اس کی تین دن تک مہمانداری کریں گے ہم اپنے ان مکانوں یا رہائشی مکانوں وغیرہ میں کہیں کسی جاسوس کو نہ چھپائیں گے مسلمانوں سے کوئی دھوکہ فریب نہیں کریں گے اپنی اولاد کو قرآن نہ سکھائیں گے شرک کا اظہار نہ کریں گے نہ کسی کو شرک کی طرف بلائیں گے۔
ہم میں سے کوئی اگر اسلام قبول کرنا چاہے ہم اسے ہرگز نہ روکیں گے مسلمانوں کی توقیر و عزت کریں گے ہماری جگہ اگر وہ بیٹھنا چاہیں تو ہم اٹھ کر انہیں جگہ دے دیں گے ہم مسلمانوں سے کسی چیز میں برابری نہ کریں گے نہ لباس میں نہ جوتی میں نہ مانگ نکالنے میں، ہم ان کی زبانیں نہیں بولیں گے، ان کی کنیتیں نہیں رکھیں گے، زین والے گھوڑوں پر سواریاں نہ کریں گے نہ تلواریں لٹکائیں گے نہ اپنے ساتھ رکھیں گے۔ انگوٹھیوں پر عربی نقش نہیں کرائیں گے شراب فروشی نہیں کریں گے اپنے سروں کے اگلے بالوں کو تراشوا دیں گے اور جہاں کہیں ہوں گے زنار ضرورتاً ڈالیں رہیں گے صلیب کا نشان اپنے گرجوں پر ظاہر نہیں کریں گے۔
جب یہ عہد نامہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شرط اور بھی اس میں بڑھوائی کہ ہم کسی مسلمانوں کو ہرگز ماریں گے نہیں یہ تمام شرطیں ہمیں قبول و منظور ہیں اور ہمارے سب ہم مذہب لوگوں کو بھی۔ انہیں شرائط پر ہمیں امن ملی ہے اگر ان میں سے کسی ایک شرط کی بھی ہم خلاف ورزی کریں تو ہم سے آپ کا ذمہ الگ ہو جائے گا اور جو کچھ آپ اپنے دشمنوں اور مخالفوں سے کرتے ہیں ان تمام کے مستحق ہم بھی ہو جائیں گے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه الآية أمرٌ بقتال الكفار من اليهود والنصارى من {الذين لا يؤمنون بالله ولا باليوم الآخر}: إيماناً صحيحاً يصدِّقونه بأفعالهم وأعمالهم، {ولا يحرِّمون ما حرَّم الله}: فلا يتَّبعون شرعه في تحريم المحرمات، {ولا يَدينون دين الحقِّ}؛ أي: لا يدينون بالدين الصحيح، وإن زعموا أنهم على دين؛ فإنه دينُ غير الحق؛ لأنه إما دين مبدَّل وهو الذي لم يشرعه الله أصلاً، وإمَّا دينٌ منسوخٌ قد شرعه الله ثم غيَّره بشريعة محمد - صلى الله عليه وسلم -، فيبقى التمسُّك به بعد النسخ غير جائز. فأمَرَهُ بقتال هؤلاء وحثَّ على ذلك لأنَّهم يدعون إلى ما هم عليه، ويحصل الضرر الكثير منهم للناس، بسبب أنهم أهل كتاب. وغَيَّا ذلك القتال: {حتى يُعطوا الجزيةَ}؛ أي: المال الذي يكون جزاءً لترك المسلمين قتالهم وإقامتهم آمنين على أنفسهم وأموالهم بين أظهر المسلمين، يؤخذ منهم كلَّ عام كلٌّ على حسب حاله من غني وفقير ومتوسط؛ كما فعل ذلك أمير المؤمنين عمر بن الخطاب وغيره من أمراء المؤمنين. وقوله: {عن يدٍ}؛ أي: حتى يبذلوها في حال ذُلِّهم، وعدم اقتدارهم، ويعطوها بأيديهم، فلا يرسلون بها خادماً، ولا غيره، بل لا تُقبل إلاَّ من أيديهم. {وهم صاغرونَ}: فإذا كانوا بهذه الحال، وسألوا المسلمين أن يُقِرُّوهم بالجزية وهم تحت أحكام المسلمين وقهرهم، وحال الأمن من شرِّهم وفتنتهم، واستسلموا للشروط التي أجراها عليهم المسلمون، مما ينفي عزَّهم وتكبُّرَهم وتوجب ذلَّهم وصَغارهم؛ وجب على الإمام أو نائبه أن يعقدَها لهم، وإلاَّ؛ بأن لم يفوا ولم يعطوا الجزية عن يدٍ وهم صاغرون؛ لم يَجُزْ إقرارهم بالجزية، بل يقاتَلون حتى يُسْلِموا.
واستدل بهذه الآية الجمهور الذين يقولون: لا تؤخذ الجزية إلاَّ من أهل الكتاب؛ لأنَّ الله لم يذكر أخذ الجزية إلاَّ منهم، وأمَّا غيرهم؛ فلم يذكر إلا قتالهم حتى يسلموا. وأُلْحِق بأهل الكتاب في أخذ الجزية وإقرارهم في ديار المسلمين المجوس؛ فإنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - أخذ الجزية من مجوس هَجَرَ، ثم أخذها أمير المؤمنين عمر من الفرس المجوس.
وقيل: إن الجزية تُؤخذ من سائر الكفار من أهل الكتاب وغيرهم؛ لأنَّ هذه الآية نزلت بعد الفراغ من قتال العرب المشركين والشروع في قتال أهل الكتاب ونحوهم، فيكون هذا القيد إخباراً بالواقع لا مفهوم له، ويدلُّ على هذا أن المجوس أخذت منهم الجزية وليسوا أهل كتاب، ولأنَّه قد تواتر عن المسلمين من الصحابة ومَنْ بعدهم أنهم يَدْعون من يقاتلونهم إلى إحدى ثلاث: إمَّا الإسلام، أو أداء الجزية، أو السيف؛ من غير فرق بين كتابيٍّ وغيره.