تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ مسجد حرام کے سوا دوسری مساجد میں غیر مسلم داخل ہو سکتا ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مشرکوں کو اپنی مسجد میں آنے کی اجازت دی اور ثمامہ کو مسجد کے ستون سے باندھنے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے۔
➌ { وَ اِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً …: } غیر مسلموں کی سال بھر تجارت اور حج و عمرہ کے لیے آمد و رفت بند ہونے سے وہ سامان تجارت جو وہ لایا کرتے تھے اور دوسرے مالی فوائد جوان کی آمد سے اہل مکہ کو حاصل ہوتے تھے، لازماً ختم ہوتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اس اندیشے کو رفع کرنے اور مسلمانوں کو تسلی دینے کے لیے یہ الفاظ نازل فرمائے کہ تجارت اور کاروبار کی بندش کی فکر مت کرو، اللہ تعالیٰ چاہے گا تو تمھیں ضرور غنی کر دے گا، وہ سب کچھ جانتا ہے، یہ تو اس کے لیے کوئی بات ہی نہیں کہ وہ مسلمانوں کو کیسے غنی کرتا ہے، مگر اس کا ہر کام اور ہر طریقہ حکمت پر مبنی ہے۔ چنانچہ اس کے بعد فتوحات عالم کا وہ سلسلہ شروع ہوا کہ قیصر و کسریٰ کے خزانے مسلمانوں کے ہاتھ آئے اور وہ سب اللہ کے فضل سے غنی ہو گئے، پھر حج و عمرہ کرنے والے مسلمانوں کی اتنی کثرت ہوئی کہ اہل مکہ کے لیے فقر کا مسئلہ ہی نہ رہا۔ اس وقت ۱۴۳۱ھ میں تقریباً ۳۵ یا ۴۰ لاکھ حاجیوں نے حج ادا کیا ہے اور حکومت سعودیہ کا اندازہ ہے کہ چند ہی سال میں یہ تعداد ایک کروڑ تک پہنچ جائے گی اور حکومت اس کے مطابق باقاعدہ حرم کی عمارات اور رہائشی عمارات کی توسیع کے منصوبے پر نہایت تیزی کے ساتھ عمل کر رہی ہے۔
➍ { اِنْ شَآءَ:} یہ بطور شرط نہیں بلکہ بات کو پختہ کرنے کے لیے ہے، کیونکہ ہر معاملہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ فتح (۲۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ آیت سنہ 9ہجری میں نازل ہوئی اسی سال نبی کریم رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا اور حکم دیا کہ مجمع حج میں اعلان کر دو کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور کوئی شخص ننگا بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔ اس شرعی حکم کو اللہ تعالیٰ قادر و قیوم نے یوں ہی پورا کیا کہ نہ وہاں مشرکوں کو داخلہ نصیب ہوا تو نہ کسی نے اس کے بعد عریانی کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے گھر کا طواف کیا۔ ۱؎ [مسند احمد:392/3:صحیح]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما غلام اور ذمی شخص کو مستثنیٰ بتاتے ہیں۔ مسند کی حدیث میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ہماری اس مسجد میں اس سال کے بعد سوائے معاہدہ والے اور تمہارے غلاموں کے اور کوئی کافر نہ آئے۔ ۱؎ [مسند احمد:339/3:ضعیف و منقطع] لیکن اس مرفوع سے زیادہ صحیح سند والی موقوف روایت ہے۔
خلیفتہ المسلمین سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے فرمان جاری کر دیا تھا کہ یہود و نصرانی کو مسلمانوں کی مسجدوں میں نہ آنے دو۔ اس منع کرنے میں آپ اس آیت کی ماتحتی میں تھے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”حرم سارا اس حکم میں مثل مسجد الحرام کے ہے۔“ یہ آیت مشرکوں کی نجاست پر بھی دلیل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے مومن نجس نہیں ہوتا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:283]
باقی رہی یہ بات کہ مشرکوں کا بدن اور ذات بھی نجس ہے یا نہیں، پس جمہور کا قول تو یہ ہے کہ نجس نہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا ذبیحہ حلال کیا ہے۔
اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ غنی و حمید فرماتا ہے کہ ”تم اس بات سے نہ ڈرو اللہ تعالیٰ تمہیں اور بہت سی صورتوں سے دلا دے گا تمہیں اہل کتاب سے جزیہ دلائے گا اور تمہیں غنی کر دے گا۔ تمہاری مصلحتوں کو تم سے زیادہ تمہارا رب جانتا ہے اس کا حکم اس کی ممانعت کسی نہ کسی حکمت سے ہی ہوتی ہے، یہ تجارت اتنے فائدے کی نہیں جتنا فائدہ وہ تمہیں جزیئے سے دے گا“،
ان اہل کتاب سے جو اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قیامت کے منکر ہیں جو کسی نبی کے صحیح معنی میں اور پورے متبع نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کے اور اپنے بڑوں کی تقلید کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اگر انہیں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی شریعت پر پورا ایمان ہوتا تو وہ ہمارے اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ضرور ایمان لاتے۔ ان کی بشارت تو ہر نبی دیتا رہا ان کی اتباع کا حکم ہر نبی نے دیا لیکن باوجود اس کے وہ اس اشرف الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے انکاری ہیں پس اگلے نبیوں کے شرع سے بھی دراصل انہیں کوئی سروکار بھی نہیں اسی وجہ سے ان نبیوں کا زبانی اقرار ان کے لیے بےسود ہے کیونکہ یہ سید الانبیاء افضل الرسل خاتم النبین اکمل المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم سے کفر کرتے ہیں اس لیے ان سے بھی جہاد کرو۔
سنہ 9 ہجری میں یہ حکم اترا اور آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم رومیوں سے جہاد کی تیاری کی لوگوں کو اپنے ارادے سے مطلع کیا مدینہ کے اردگرد کے عربوں کو آمادہ کیا اور تقریباً تیس ہزار کا لشکر لے کر روم کا رخ کیا بجز منافقین کے یہاں کوئی نہ رکا سوائے بعض کے۔ موسم سخت گرم تھا پھلوں کا وقت تھا روم سے جہاد کیلئے شام کے ملک کا دور دراز کا کٹھن سفر تھا تبوک تک تشریف لے گئے وہاں تقریباً بیس روز قیام فرمایا۔
پھر اللہ تعالیٰ سے استخارہ کر کے واپس لوٹے حالت کی تنگی اور لوگوں کی ضعیفی کی وجہ سے واپس لوٹے۔ جیسے کہ عنقریب اس کا واقعہ ان شاءاللہ تعالیٰ بیان ہو گا۔ اسی آیت سے استدلال کر کے بعض نے فرمایا ہے کہ جزیہ صرف اہل کتاب سے اور ان جیسوں سے ہی لیا جائے جیسے مجوس ہیں۔ چنانچہ ہجر کے مجسیوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ لیا تھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3156]
امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے اور مشہور مذہب امام احمد کا رحمہ اللہ بھی یہی ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”سب عجمیوں سے لیا جائے خواہ وہ اہل کتاب ہوں خواہ مشرک ہوں۔ ہاں عرب میں سے صرف اہل کتاب سے ہی لیا جائے۔“ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جزیئے کا لینا تمام کفار سے جائز ہے خواہ وہ کتابی ہوں یا مجوسی ہوں یا بت پرست وغیرہ ہوں۔ ان مذاہب کے دلائل وغیرہ کے بسط کی یہ جگہ نہیں واللہ اعلم۔
پس فرماتا ہے کہ جب تک وہ ذلت و خواری کے ساتھ اپنے ہاتھوں جزیہ نہ دیں انہیں نہ چھوڑو۔ پس اہل ذمہ کو مسلمانوں پر عزت و توقیر دینی اور انہیں اوج و ترقی دینی جائز نہیں۔ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہود و نصاریٰ سے سلام کی ابتداء نہ کرو اور جب ان سے کوئی راستے میں مل جائے تو اسے تنگی سے مجبور کرو۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:2167]
ان میں اگر کوئی مسلمان مسافر اترنا چاہے تو روکیں گے نہیں خواہ دن ہو خواہ رات ہو ہم ان کے دروازے راہ گزر اور مسافروں کے لیے کشادہ رکھیں گے اور جو مسلمان آئے ہم اس کی تین دن تک مہمانداری کریں گے ہم اپنے ان مکانوں یا رہائشی مکانوں وغیرہ میں کہیں کسی جاسوس کو نہ چھپائیں گے مسلمانوں سے کوئی دھوکہ فریب نہیں کریں گے اپنی اولاد کو قرآن نہ سکھائیں گے شرک کا اظہار نہ کریں گے نہ کسی کو شرک کی طرف بلائیں گے۔
ہم میں سے کوئی اگر اسلام قبول کرنا چاہے ہم اسے ہرگز نہ روکیں گے مسلمانوں کی توقیر و عزت کریں گے ہماری جگہ اگر وہ بیٹھنا چاہیں تو ہم اٹھ کر انہیں جگہ دے دیں گے ہم مسلمانوں سے کسی چیز میں برابری نہ کریں گے نہ لباس میں نہ جوتی میں نہ مانگ نکالنے میں، ہم ان کی زبانیں نہیں بولیں گے، ان کی کنیتیں نہیں رکھیں گے، زین والے گھوڑوں پر سواریاں نہ کریں گے نہ تلواریں لٹکائیں گے نہ اپنے ساتھ رکھیں گے۔ انگوٹھیوں پر عربی نقش نہیں کرائیں گے شراب فروشی نہیں کریں گے اپنے سروں کے اگلے بالوں کو تراشوا دیں گے اور جہاں کہیں ہوں گے زنار ضرورتاً ڈالیں رہیں گے صلیب کا نشان اپنے گرجوں پر ظاہر نہیں کریں گے۔
جب یہ عہد نامہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شرط اور بھی اس میں بڑھوائی کہ ہم کسی مسلمانوں کو ہرگز ماریں گے نہیں یہ تمام شرطیں ہمیں قبول و منظور ہیں اور ہمارے سب ہم مذہب لوگوں کو بھی۔ انہیں شرائط پر ہمیں امن ملی ہے اگر ان میں سے کسی ایک شرط کی بھی ہم خلاف ورزی کریں تو ہم سے آپ کا ذمہ الگ ہو جائے گا اور جو کچھ آپ اپنے دشمنوں اور مخالفوں سے کرتے ہیں ان تمام کے مستحق ہم بھی ہو جائیں گے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا إنما المشركون}: بالله، الذين عبدوا معه غيره {نَجَسٌ}؛ أي: خبثاء في عقائدهم وأعمالهم، وأيُّ نجاسة أبلغُ ممَّن كان يعبد مع الله آلهةً لا تنفع ولا تضرُّ ولا تغني عنه شيئاً، وأعمالهم ما بين محاربةٍ لله وصدٍّ عن سبيل الله ونصرٍ للباطل وردٍّ للحق وعمل بالفساد في الأرض لا في الصلاح؟! فعليكم أن تطهِّروا أشرف البيوت وأطهرها عنهم؛ {فلا يقرَبوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا}: وهو سنة تسع من الهجرة، حين حجَّ بالناس أبو بكر الصديق، وبعث النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - ابن عمه عليًّا أن يؤذِّن يوم الحجِّ الأكبر ببراءة، فنادى أن لا يحجَّ بعد العام مشركٌ ولا يطوف بالبيت عُريانٌ. وليس المراد هنا نجاسةَ البدن؛ فإن الكافر كغيره طاهر البدن؛ بدليل أن الله تعالى أباح وطء الكتابيَّة ومباشرتها، ولم يأمر بغسل ما أصاب منها ، والمسلمون ما زالوا يباشرون أبدان الكفَّار، ولم يُنْقَل عنهم أنهم تقذَّروا منها تقذُّرهم من النجاسات، وإنما المراد كما تقدَّم نجاستهم المعنويَّة بالشرك؛ فكما أن التوحيد والإيمان طهارةٌ؛ فالشرك نجاسةٌ.
وقوله: {وإن خِفْتُم}: أيُّها المسلمون، {عَيْلَةً}؛ أي: فقراً وحاجة من منع المشركين من قُربان المسجد الحرام؛ بأن تنقطع الأسباب التي بينكم وبينهم من الأمور الدنيويَّة، {فسوف يُغنيكم الله من فضله}: فليس الرزق مقصوراً على باب واحد ومحلٍّ واحد، بل لا ينغلق بابٌ؛ إلاَّ وفُتِحَ غيرُه أبوابٌ كثيرة؛ فإن فضل الله واسع، وجوده عظيم، خصوصاً لمن ترك شيئاً لوجه الكريم؛ فإنَّ الله أكرم الأكرمين، وقد أنجز الله وعده؛ فإنَّ الله أغنى المسلمين من فضله، وبَسَطَ لهم من الأرزاق ما كانوا من أكبر الأغنياء والملوك. وقوله: {إن شاء}: تعليقُ للإغناء بالمشيئة؛ لأن الغنى في الدنيا ليس من لوازم الإيمان، ولا يدلُّ على محبَّة الله؛ فلهذا علَّقه الله بالمشيئة؛ فإنَّ الله يعطي الدنيا من يحبُّ ومن لا يحب، ولا يعطي الإيمان والدين إلا من يحبُّ. {إنَّ الله عليمٌ حكيمٌ}؛ أي: علمه واسعٌ، يعلم مَن يَليق به الغنى ومَن لا يَليق، ويضع الأشياء مواضعها، وينزِلها منازلها.
وتدلُّ الآية الكريمة ـ وهي قوله: {فلا يَقْرَبوا المسجدَ الحرام بعد عامهم هذا} ـ أنَّ المشركين بعدما كانوا هم الملوك والرؤساء بالبيت، ثم صار بعد الفتح الحكم لرسول الله والمؤمنين مع إقامتهم في البيت ومكة المكرمة، ثم نزلت هذه الآية، ولما مات النبيُّ - صلى الله عليه وسلم -؛ أمر أن يُجْلَوا من الحجاز؛ فلا يبقى فيها دينان، وكل هذا لأجل بُعْدِ كلِّ كافر عن المسجد الحرام، فيدخل في قوله: {فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا}.