تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ:} یعنی نہ عقل سے اس کی کوئی دلیل پیش کی جا سکتی ہے نہ نقل سے، محض منہ کی بے کار بات ہے، جیسے خواہ مخواہ کوئی شخص مہمل اور بے معنی باتیں کرتا رہے۔
➌ { يُضَاهِـُٔوْنَ قَوْلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ:} یعنی (یہ لوگ) اہل کتاب ہو کر بھی مشرکوں کی ریس کرنے لگے۔ (موضح) اور پہلی مشرک اور کافر قوموں کی طرح گمراہ ہو گئے۔ صاحب المنار فرماتے ہیں کہ شرق و غرب کے قدیم بت پرستوں کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن اللہ ہونے، حلول اور تثلیث (اور متعدد معبودوں) کا عقیدہ ہند کے برہمنوں میں معروف تھا (اور اب بھی ہے)، اسی طرح چین، جاپان، قدیم مصریوں اور قدیم ایرانیوں میں بھی یہ عقائد مشہور و معروف تھے۔ اہل کتاب بھی ان کفار کی ریس کرنے لگے اور اب بعض مسلمان بھی ان کے نقش قدم پر چل پڑے۔
➍ { قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ:} یعنی یہ لوگ اس کے حق دار ہیں کہ ان کے حق میں یہ بددعا کی جائے، ورنہ اللہ تعالیٰ کو دعا یا بددعا کی کیا ضرورت ہے؟ وہ تو خود جو چاہے کر سکتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ان لوگوں کو سیدنا عزیر علیہ السلام کی نسبت جو یہ وہم ہوا اس کا قصہ یہ ہے کہ جب عمالقہ بنی اسرائیل پر غالب آ گئے ان کے علماء کو قتل کر دیا ان کے رئیسوں کو قید کر لیا۔ عزیر علیہ السلام کا علم اٹھ جانے اور علماء کے قتل ہو جانے سے اور بنی اسرائیل کی تباہی سے سخت رنجیدہ ہوئے اب جو رونا شروع کیا تو آنکھوں سے آنسو ہی نہ تھمتے تھے روتے روتے پلکیں بھی جھڑ گئیں۔
ایک دن اسی طرح روتے ہوئے ایک میدان سے گزر ہوا تو دیکھا کہ ایک عورت ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی ہے اور کہہ رہی ہے ہائے اب میرے کھانے کا کیا ہو گا؟ میرے کپڑوں کا کیا ہو گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس ٹھہر گئے اور اس سے فرمایا: ”اس شخص سے پہلے تجھے کون کھلاتا تھا اور کون پہناتا تھا“؟ اس نے کہا: ”اللہ تعالیٰ۔“ آپ نے فرمایا: ”پھر اللہ تعالیٰ تو اب بھی زندہ، باقی ہے اس پر تو کبھی نہیں موت آئے گی ہی نہیں۔“
آپ علیہ السلام کو سمجھ میں آ گیا کہ یہ جناب باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے آپ کو تنبیہہ ہے پھر آپ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ فلاں نہر پر جا کر غسل کرو وہیں دو رکعت نماز ادا کرو وہاں تمہیں ایک شخص ملیں گے وہ جو کچھ کھلائیں گے وہ کھا لو۔
چنانچہ آپ علیہ السلام وہیں تشریف لے گئے نہا کر نماز ادا کی، دیکھا کہ ایک شخص ہیں کہہ رہے ہیں منہ کھولو آپ علیہ السلام نے منہ کھول دیا انہوں نے تین مرتبہ کوئی چیز آپ علیہ السلام کے منہ میں بڑی ساری ڈالی اسی وقت اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کا سینہ کھول دیا، اور آپ علیہ السلام توراۃ کے سب سے بڑے عالم بن گئے بنی اسرائیل میں گئے ان سے فرمایا کہ ”میں تمہارے پاس تورات لایا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”آپ علیہ السلام ہم سب کے نزدیک سچے ہیں۔“
آپ علیہ السلام نے اپنی انگلی کے ساتھ قلم کو لپیٹ لیا اور اسی انگلی سے بیک وقت پوری تورات لکھ ڈالی۔ ادھر لوگ لڑائی سے لوٹے ان میں ان کے علماء بھی واپس آئے تو انہیں سیدنا عزیر علیہ السلام کی اس بات کا علم ہوا یہ گئے اور پہاڑوں اور غاروں میں تورات شریف کے جو نسخے چھپا آئے تھے وہ نکال لائے اور ان نسخوں سے سیدنا عزیر علیہ السلام کے لکھے ہوئے نسخے کا مقابلہ کیا تو بالکل صحیح پایا۔
اس پر بعض جاہلوں کے دل میں شیطان نے یہ وسوسہ ڈال دیا کہ آپ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کو نصرانی اللہ کا بیٹا کہتے تھے ان کا واقعہ تو ظاہر ہے۔
پس ان دونوں گروہ کی غلط بیانی قرآن بیان فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ ان کی صرف زبانی باتیں ہیں جو محض بےدلیل ہیں جس طرح ان سے پہلے کے لوگ کفر و ضلالت میں تھے یہ بھی انہی کے مرید و مقلد ہیں اللہ تعالیٰ انہیں لعنت کرے حق سے کیسے بھٹک گئے۔
چنانچہ یہ مدینہ منورہ آ گئے تھے اپنی قوم طے کے سردار تھے ان کے باپ کی سخاوت دنیا بھر میں مشہور تھی۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے پاس آئے۔ اس وقت عدی کی گردن میں چاندی کی صلیب لٹک رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اسی آیت «اتَّخَذُوا» کی تلاوت ہو رہی تھی۔
تو انہوں نے کہا کہ ”یہود و نصاریٰ نے اپنے علماء اور درویشوں کی عبادت نہیں کی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں سنو ان کے کئے ہوئے حرام کو حرام سمجھنے لگے اور جسے ان کے علماء اور درویش حلال بتا دیں اسے حلال سمجھنے لگے یہی ان کی عبادت تھی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عدی کیا تم اس سے منکر ہو کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، کیا تمہارے خیال میں اللہ تعالیٰ سے بڑا اور کوئی ہے کیا تم اس سے انکار کرتے ہو کہ معبود برحق اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں؟ کیا تمہارے نزدیک اس کے سوا اور کوئی بھی عبادت کے لائق ہے“؟
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی، انہوں نے مان لی اور اللہ تعالیٰ کی توحید اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگا اور فرمایا: ”یہود پر غضب اللہ اترا ہے اور نصرانی گمراہ ہو گئے ہیں۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:3095،قال الشيخ الألباني:حسن]
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں انہوں نے بزرگوں کی ماننی شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ کی کتاب ایک طرف ہٹا دی، اسی لیے اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے کہ انہیں حکم تو صرف یہ تھا کہ اللہ تعاللیٰ کے سوا اور کی عبادت نہ کریں وہی جسے حرام کر دے حرام ہے اور وہ جسے حلال فرما دے حلال ہے اسی کے فرمان شریعت ہیں، اسی کے احکام بجا لانے کے لائق ہیں اسی کی ذات عبادت کی مستحق ہے۔ وہ مشرک سے اور شرک سے پاک ہے اس جیسا، اس کا شریک، اس کا نظیر، اس کا مددگار، اس کی ضد کا کوئی نہیں، وہ اولاد سے پاک ہے نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما أمر تعالى بقتال أهل الكتاب ذكر من أقوالهم الخبيثة ما يهيج المؤمنين الذين يغارون لربهم ولدينه على قتالهم والاجتهاد وبذل الوسع فيه، فقال: {وقالتِ اليهود عزيرٌ ابن الله}: وهذه المقالة وإن لم تكن مقالة لعامَّتهم؛ فقد قالها فرقةٌ منهم، فيدلُّ ذلك على أنَّ في اليهود من الخبث والشرِّ ما أوصلهم إلى أن قالوا هذه المقالة التي تجرؤوا فيها على الله وتنقَّصوا عظمته وجلاله. وقد قيل: إن سبب ادِّعائهم في عزير أنه ابن الله: أنه لما تسلَّط الملوك على بني إسرائيل ومزَّقوهم كلَّ ممزَّق وقتلوا حَمَلَةَ التوراة؛ وَجَدوا عُزيراً بعد ذلك حافظاً لها أو أكثرها ، فأملاها عليهم من حفظِهِ، واستنسَخوها. فادَّعوا فيه هذه الدعوى الشنيعة. وقالت النصارى: عيسى ابن مريم {ابنُ الله}، قال الله تعالى: {ذلك}: القول الذي قالوه، {قولُهم بأفواهِهِم}: لم يقيموا عليه حجَّة ولا برهاناً، ومَنْ كان لا يُبالي بما يقول لا يُسْتَغْرَبُ عليه أي قول يقوله؛ فإنه لا دين ولا عقل يحجُزُه عما يريد من الكلام، ولهذا قال: {يضاهِئون}؛ أي: يشابهون في قولهم هذا {قولَ الذين كفروا من قبلُ}؛ أي: قول المشركين الذين يقولون الملائكة بنات الله، تشابهت قلوبهم فتشابهت أقوالهم في البطلان. {قاتلهم الله أنَّى يُؤفكَونَ}؛ أي: كيف يُصرفون عن الحقِّ الصرف الواضح المبين إلى القول الباطل المبين؟!