ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 15

وَ یُذۡہِبۡ غَیۡظَ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ وَ یَتُوۡبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۱۵﴾
اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ توبہ کی توفیق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور ان کے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رحمت کرے گا۔ اور خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے
En
اور ان کے دل کا غم وغصہ دور کرے گا، اور وه جس کی طرف چاہتا ہے رحمت سے توجہ فرماتا ہے۔ اللہ جانتا بوجھتا حکمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 14 میں تا آیت 16 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 یعنی جب مسلمان کمزور تھے تو یہ مشرکین ان پر ظلم و ستم کرتے تھے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے دل ان کی طرف سے بڑے دکھی اور مجروح تھے، جب تمہارے ہاتھوں وہ قتل ہونگے اور ذلت و رسوائی ان کے حصے میں آئے گی تو فطری بات ہے کہ اس سے مظلوم اور ستم رسیدہ مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے اور دلوں کا غصہ فرو ہوگا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ اور ان کے دلوں کا غصہ دور کر دے گا۔ اور اللہ جسے چاہے گا توبہ کی توفیق بھی دے دے گا۔ اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مسلمان بھی آزمائیں جائیں گے ٭٭
یہ نا ممکن ہے کہ امتحان بغیر مسلمان بھی چھوڑ دیئے جائیں سچے اور جھوٹے مسلمان کو ظاہر کر دینا ضروری ہے۔ «وَلِيجَةً» کے معنی بھیدی اور دخل دینے والے کے ہیں۔ پس سچے وہ ہیں جو جہاد میں آگے بڑھ کر حصہ لیں اور ظاہر باطن میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیر خواہی اور حمایت کریں۔
ایک قسم کا بیان دوسری قسم کو ظاہر کر دیتا تھا اس لیے دوسری قسم کے لوگوں پر بیان چھوڑ دیا ایسی عبارتیں شاعروں کے شعروں میں بھی ہیں۔
اور جگہ قرآن کریم ہے کہ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ صرف یہ کہنے سے چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش ہو گی ہی نہیں حالانکہ اگلے مومنوں کی بھی ہم نے آزمائش کی یاد رکھو اللہ تعالیٰ سچے اور جھوٹوں کو ضرور الگ کر دے گا۔ ۱؎ [29-العنكبوت:3،2]‏‏‏‏
اور آیت میں اسی مضمون کو «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ» ۱؎ [3-آل عمران:142]‏‏‏‏ کے لفظوں سے بیان فرمایا ہے۔
اور آیت میں ہے «مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:179]‏‏‏‏ اللہ ایسا نہیں کہ تم مومنوں کو تمہاری حالت پر ہی چھوڑ دے اور امتحان کر کے یہ نہ معلوم کر لے کہ خبیث کون ہے اور طیب کون ہے؟
پس جہاد کے مشروع کرنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ کھرے کھوٹے کی تمیز ہو جاتی ہے۔ گو اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے جو ہو گا وہ بھی اسے معلوم ہے اور جو نہیں ہوا وہ جب ہو گا تب کس طرح ہو گا یہ بھی وہ جانتا ہے چیز کے ہونے سے پہلے ہی اسے اس کا علم حاصل ہے اور ہر چیز کی ہر حالت سے وہ واقف ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ دنیا پر بھی کھرا کھوٹا، سچا جھوٹا ظاہر کر دے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ اس کے سوا کوئی پروردگار ہے نہ اس کی قضاء و قدر اور ارادے کو کوئی بدل سکتا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَیُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ اور نکالے گا ان کے دلوں کی جلن کیونکہ کفار کے خلاف ان کے دل غیظ و غضب سے لبریز ہیں۔ ان کے خلاف قتال کرنے اور ان کو قتل کرنے سے اہل ایمان کو ان کے دلوں میں موجود غیظ و غضب اور غم و ہموم سے شفا ملتی ہے۔ کیونکہ وہ ان دشمنوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار ہیں اور اللہ کے نور کو بجھانے میں کوشاں ہیں، چنانچہ انھیں قتل و رسوا کرکے مومنوں کے دلوں میں موجود غیظ و غضب زائل ہوتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے محبت کرتا ہے اور ان کے احوال کو درخور اعتناء سمجھتا ہے۔ حتی کہ اس نے اہل ایمان کے دلوں کو شفا دینا اور ان کے غیظ و غضب کو زائل کرنا، مقاصد شرعیہ میں شمار کیا ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَیَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ اور جس پر چاہے گا اللہ رحمت کرے گا۔ یعنی ان برسرپیکار کفار میں سے جسے چاہے اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا کر کے اس کی توبہ قبول کر لے، اسلام کو ان کے دلوں میں آراستہ کر دے اور کفر، فسق اور نافرمانی کو ان کے لیے ناپسندیدہ کر دے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ یعنی وہ تمام اشیا کو ان کے مقام پر رکھتا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون ایمان لانے کی صلاحیت رکھتا ہے، چنانچہ وہ اس کی راہ نمائی کرتا ہے اور کون اس صلاحیت سے محروم ہے؟ وہ اس کو اس کی گمراہی اور سرکشی میں غلطاں چھوڑ دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويُذْهِبْ غيظَ قلوبِهم}: فإنَّ في قلوبهم من الحنق والغيظ عليهم ما يكون قتالهم وقتلُهم شفاءً لما في قلوب المؤمنين من الغمِّ والهمِّ؛ إذ يَرَوْن هؤلاء الأعداء محاربين لله ولرسوله، ساعين في إطفاء نور الله، وزوالاً للغيظ الذي في قلوبكم. وهذا يدلُّ على محبة الله للمؤمنين ، واعتنائه بأحوالهم، حتى إنه جعل من جملة المقاصد الشرعيَّة شفاء ما في صدورهم وذهاب غيظهم. ثم قال: {ويتوبُ الله على مَن يشاء}: من هؤلاء المحاربين؛ بأن يوفِّقهم للدخول في الإسلام ويزيِّنه في قلوبهم ويكرِّه إليهم الكفر والفسوق والعصيان. {والله عليمٌ حكيمٌ}: يضع الأشياء مواضعها، ويعلم من يصلُحُ للإيمان فيهديه، ومن لا يصلُحُ فيبقيه في غيِّه وطغيانه.