اس آیت کی تفسیر آیت 15 میں تا آیت 17 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
16۔ 1 یعنی میں ان کی چالوں اور سازشوں سے غافل نہیں ہوں، میں بھی ان کے خلاف تدبیر کر رہا ہوں یا ان کی چالوں کا توڑ کر رہا ہوں، جو برے مقصد کے لئے ہو تو بری اور مقصد نیک تو بری نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
16۔ اور میں بھی ایک تدبیر کر رہا ہوں [12]
[12] کفار یہ چاہتے ہیں کہ ایسی چالیں چلیں، ایسی سازشیں تیار کریں، ایسے کارنامے سرانجام دیں جس سے قرآن کی دعوت کو شکست دی جا سکے۔ وہ اپنی پھونکوں سے اسلام کی شمع کو گل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے برعکس اللہ بھی ان کے مقابلہ میں ایک چال چل رہا ہے کہ وہ اس روشنی کو مکمل کر کے رہے گا اور کافروں کی کسی چال کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ واضح رہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے کافروں کی چال یا خفیہ تدبیر کو لفظ کید سے تعبیر فرمایا پھر اس کے رد عمل کو اپنی طرف منسوب فرما کر اس کے لیے بھی کید کا لفظ استعمال فرمایا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو کسی چال یا خفیہ تدبیر کی ضرورت نہیں ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اہل عرب کا محاورہ ہے کہ وہ کسی بھی کام کے رد عمل کو اسی لفظ سے تعبیر کر دیتے ہیں خواہ وہ اچھا ہو یا برا۔ اسے مشاکلہ کہتے ہیں اور اس کی وضاحت پہلے بھی کئی مقامات پر کی جا چکی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔