اس آیت کی تفسیر آیت 25 میں تا آیت 27 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
26۔ 1 یعنی کیوں اس سے روگردانی کرتے ہو؟ اور اس کی اطاعت نہیں کرتے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
26۔ پھر تم کہاں جا رہے [21] ہو؟
[21] یعنی یہ قرآن لانے والا جبریل امین اور لوگوں تک پہچانے والا رسول امین۔ ان دو امین ہستیوں کی وجہ سے اس قرآن سے جھوٹ، باطل کی آمیزش، رشک و شبہ، تو ہم اور دیوانگی کے سب امکانات ختم ہوئے۔ نیز کاہن یا شیطان کا کلام بھی نہیں ہو سکتا۔ تو ان باتوں کے بعد سوائے سچائی اور حق کے باقی کیا رہ جاتا ہے؟ پھر اس صاف اور روشن راستے کو چھوڑ کر اور کدھر بہکے جا رہے ہو؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاَیْؔنَتَذْهَبُوْنَ﴾” پھر تم کدھر جارہے ہو۔“ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فأين تذهبون}؛ أي: كيف يخطر هذا ببالكم؟! وأين عَزَبَتْ عنكم أذهانكم حتى جعلتم الحقَّ الذي هو في أعلى درجات الصدق بمنزلة الكذب الذي هو أنزلُ ما يكون وأرذلُ وأسفلُ الباطل؟! هل هذا إلاَّ من انقلاب الحقائق؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔