ترجمہ و تفسیر — سورۃ التكوير (81) — آیت 25

وَ مَا ہُوَ بِقَوۡلِ شَیۡطٰنٍ رَّجِیۡمٍ ﴿ۙ۲۵﴾
اور وہ ہرگز کسی مردود شیطان کا کلام نہیں۔ En
اور یہ شیطان مردود کا کلام نہیں
En
اور یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 24 میں تا آیت 26 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

25۔ اور نہ ہی یہ کسی شیطان مردود کا قول [20] ہے
[20] کفار مکہ آپ کو کاہن کیوں کہتے تھے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی چونکہ غیب کی خبریں دیتے تھے اس لیے کفار مکہ یہی سمجھتے تھے کہ آپ کو بھی کوئی جن یا شیطان ایسی خبریں مہیا کرتا ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ بیمار ہو گئے اور دو تین راتیں نماز تہجد کے لیے اٹھ نہ سکے تو ابو لہب کی بیوی (عوراء بنت حرب۔ ابو سفیان کی بہن) آپ کے پاس آئی اور کہنے لگی: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں سمجھتی ہوں تیرے شیطان نے تجھ کو چھوڑ دیا۔ دو تین راتوں سے تیرے پاس نہیں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ ﴿والضحي.. ماقليٰ تك﴾ ([بخاري، كتاب التفسير، سورة والضحيٰ]
اور کافروں کو بتایا یہ جا رہا ہے کہ تمہارا یہ خیال غلط ہے۔ بھلا شیطان سے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ انسان کو شرک، بت پرستی اور دہریت و الحاد سے ہٹا کر اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت اور توحید کی تعلیم دے؟ اللہ کے حضور ذمہ داری اور جوابدہی کا احساس دلائے؟ پاکیزہ زندگی، عدل اور تقویٰ اور اخلاق فاضلہ کی طرف رہنمائی کرے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَ٘یْطٰنٍ رَّجِیْمٍ اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَ٘یْطٰنٍ رَّجِیْمٍ اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما هو بقول شيطانٍ رجيمٍ}: لما ذكر جلالة كتابه وفضلَه بذكر الرسولين الكريمين اللذين وَصَلَ إلى الناس على أيديهما، وأثنى الله عليهما بما أثنى؛ دَفَعَ عنه كلَّ آفةٍ ونقصٍ مما يقدحُ في صدقه، فقال: {وما هو بقول شيطانٍ رجيمٍ}؛ أي: في غاية البعد عن الله وعن قربه.