تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اس گناہ کی شدت کی وجہ صرف یہ نہیں کہ ایک شخص اپنی جان بچا کر فوج میں ایک فرد کی کمی کا باعث بنتا ہے۔ بلکہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس فعل سے باقی لوگوں کے بھی حوصلے پست ہو جاتے ہیں اور بھگدڑ مچ جاتی ہے اور بسا اوقات ایک یا چند شخصوں کا فرار پوری فوج کی شکست کا سبب بن جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دوسری صورت یہ ہے کہ ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں جانا ہو جہاں چھوٹے سے لشکر سے بڑے لشکر کا ٹکراؤ ہو یا امام اعظم سے ملنا ہو تو وہ بھی اس میں داخل ہے۔
مسند احمد میں ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تھا میں بھی اس میں ہی تھا لوگوں میں بھگدڑ مچی میں بھی بھاگا ہم لوگ بہت ہی نادم ہوئے کہ ہم اللہ کی راہ سے بھاگے ہیں اللہ کا غضب ہم پر ہے ہم اب مدینے جائیں اور وہاں رات گذار کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوں اگر ہماری توبہ کی کوئی صورت نکل آئے تو خیر ورنہ ہم جنگوں میں نکل جائیں۔ چنانچہ نماز فجر سے پہلے ہم جا کر بیٹھ گئے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ { تم کون لوگ ہو؟ } ہم نے کہا بھاگنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں بلکہ تم لوٹنے والے ہو میں تمہاری جماعت ہوں اور میں تمام مسلمانوں کی جماعت ہوں۔ } ہم نے بےساختہ آگے بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ چوم لیے۔۱؎ [سنن ترمذي:1716،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابوداؤد و ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہہ کر فرماتے ہیں ہم اسے ابن ابی زیاد کے علاوہ کسی کی حدیث سے پہچانتے نہیں۔
ابوعبیدہ جنگ فارس میں ایک پل پر گھیر لیے گئے مجوسیوں کے ٹڈی دل لشکروں نے چاروں طرف سے آپ کو گھیر لیا موقعہ تھا کہ آپ ان میں سے بچ کر نکل آتے لیکن آپ نے مردانہ وار اللہ کی راہ میں جام شہادت نوش فرمایا جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا اگر وہ وہاں سے میرے پاس چلے آتے تو ان کے لیے جائز تھا کیونکہ میں مسلمانوں کی جماعت ہوں مجھ سے مل جانے میں کوئی حرج نہیں اور روایت میں ہے میں تمام مسلمانوں کی جماعت ہوں۔ اور روایت میں ہے کہ تم اس آیت کا غلط مطلب نہ لینا یہ واقعہ بدر کے متعلق ہے۔ اب تمام مسلمانوں کیلئے وہ فعتہ جس کی طرف پناہ لینے کے لیے واپس مڑنا جائز ہے، میں ہوں۔ ابن عمر سے نافع نے سوال کیا کہ ہم لوگ دشمن کی لڑائی کے وقت ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور ہمیں یہ معلوم نہیں کہ فئتہ سے مراد امام لشکر ہے یا مسلمانوں کو جنگی مرکز آپ نے فرمایا فئتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے میں نے اس آیت «إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَ» کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا یہ آیت بدر کے دن اتری ہے نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد۔
«مُتَحَيِّزًا» کے معنی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پناہ لینے والا۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں لشکر کفار سے بھاگ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس پناہ لے اس کے لیے جائز ہے۔ آج بھی امیر اور سالار لشکر کے پاس یا اپنے مرکز میں جو بھی آئے اس کیلئے یہی حکم ہے۔
بخاری مسلم کی حدیث میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو [۱] شرک باللہ [۲] جادو کرنا [۳] کسی کو نا حق قتل کردینا [۴] سود کھانا [۵] مالِ یتیم کھاجانا [۶] جہاد میں پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا [۷] پاک دامن اور بے گناہ عورتوں پر الزام لگانا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2766]
یہ بات اور کئی طرح بھی ثابت ہے کہ یہ آیت بدر کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’ وہ بھاگے تو اللہ تعالیٰ کا غضب لے کر بھاگے گا۔ اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔‘ ۱؎ [مسند احمد:224/5:ضعیف]
. بشر بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بیعت کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو بیعت کے لئے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط کی کہ { «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ» کی گواہی دو، میری رسالت کو مانو، نماز پابندی سے پڑھو، زکواۃ دیتے رہو، حج کرو، رمضان کے روزے رکھو اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کروگے۔ } میں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس میں دو باتیں میرے لئے دشوار ہیں ایک تو جہاد کہ اگر بہ حالت جنگ کوئی پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گا تو اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نازل ہوجائے گا اور مجھے خوف ہے کہ موت سے گھبرا کر کہیں مجھ سے یہ گناہ سرزد نہ ہوجائے۔ دوسرے صدقہ سو اللہ تعالیٰ کی قسم مجھے غنیمت اور اس کے سوا کچھ نہیں ملتا ہے اور دس اونٹنیاں ہیں جن کا دودھ دوھ لیا، پیا پلایا، اس پر سواری کرلی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام لیا اس کو ہلایا اور کہا { جہاد بھی نہ کرو گے، صدقہ بھی نہ دوگے تو پھر جنت کا استحقاق کیسے حاصل کروگے۔} میں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے منظور ہے میں ہر شرط پر بیعت کروں گا۔۱؎ [مسند احمد:224/5:ضعیف]
بعض حضرات کا قول ہے کہ بھاگنے کی حرمت کا یہ حکم صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مخصوص تھا اس لیے کہ ان پر جہاد فرض عین تھا اور کہا گیا ہے کہ انصار کے ساتھ ہی مخصوص تھا اسلئے کہ ان کی بیعت سننے اور ماننے کی تھی خوشی میں بھی اور ناخوشی میں بھی۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں «وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ» سے مراد بدر کا دن ہے اب اگر کوئی اپنی بری جماعت کی طرف آ جائے یا کسی قلعے میں پناہ لے تو میرے خیال میں تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ یزید بن ابی حبیب فرماتے ہیں کہ بدر والے دن جو بھاگے اس کیلئے دوزخ واجب تھی اس کے بعد جنگ احد ہوئی اس وقت یہ آیتیں اتریں «إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا ۖ وَلَقَدْ عَفَا اللَّـهُ عَنْهُمْ» ۱؎ [3- آل عمران: 155] تک۔ اس کے سات سال بعد جنگ حنین ہوئی جس کے بارے میں قرانی ذکر ہے آیت «ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ» ۱؎ [9- التوبہ: 25] یعنی ’ پھر اللہ نے جس کی چاہی توبہ قبول فرمائی۔ ‘
اور آیت میں ہے «ثُمَّ يَتُوبُ اللَّـهُ مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ» ۱؎ [9- التوبہ: 27] یعنی ’ پھر اللہ اس کے بعد جس پر چاہے مہربانی سے توجہ فرمائے۔‘ ابوداؤد نسائی مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے کہ ابوسعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت بدریوں کے بارے میں اتری ہے۱؎ [سنن ابوداود:2648،قال الشيخ الألباني:صحیح]
لیکن یہ یاد رہے کہ گویہ مان لیا جائے کہ سبب نزول اس آیت کا بدری لوگ ہیں مگر لڑائی سے منہ پھیرنا تو حرام ہے جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گذرا کہ سات ہلاک کرنے والے گناہوں میں ایک یہ بھی ہے اور یہی مذہب جمہور کا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ومَن يُوَلِّهِم يومئذٍ دُبُرَهُ إلا متحرِّفاً لقتال أو متحيِّزاً إلى فئةٍ فقد باء}؛ أي: رجع {بغضبٍ من الله ومأواه}؛ أي: مقره {جهنَّم وبئس المصير}.
وهذا يدلُّ على أن الفرار من الزحف من غير عذرٍ من أكبر الكبائر؛ كما وردت بذلك الأحاديث الصحيحة ، وكما نصَّ هنا على وعيده بهذا الوعيد الشديد. ومفهوم الآية أن المتحرِّف للقتال ـ وهو الذي ينحرفُ من جهة إلى أخرى ليكون أمكن له في القتال وأنكى لعدوِّه ـ فإنه لا بأس بذلك؛ لأنه لم يولِّ دُبُرَهُ فارًّا، وإنما ولَّى دُبُره ليستعلي على عدوِّه أو يأتيه من محلٍّ يصيب فيه غِرَّته أو ليخدِعَه بذلك أو غير ذلك من مقاصد المحاربين. وأن المتحيِّز إلى فئةٍ تمنعه وتعينه على قتال الكفار؛ فإنَّ ذلك جائزٌ؛ فإن كانت الفئة في العسكر؛ فالأمر في هذا واضح، وإن كانت الفئة في غير محلِّ المعركة؛ كانهزام المسلمين بين يدي الكافرين والتجائهم إلى بلد من بلدان المسلمين أو إلى عسكرٍ آخر من عسكر المسلمين؛ فقد ورد من آثار الصحابة ما يدلُّ على أنَّ هذا جائزٌ، ولعلَّ هذا يقيَّدُ بما إذا ظنَّ المسلمون أنَّ الانهزام أحمدُ عاقبة وأبقى عليهم، أما إذا ظنُّوا غلبتهم للكفار في ثباتهم لقتالهم؛ فيبعد في هذه الحال أن تكون من الأحوال المرخَّص فيها؛ لأنه على هذا لا يتصوَّر الفرار المنهيُّ عنه. وهذه الآية مطلقةٌ، وسيأتي في آخر السورة تقييدها بالعدد.