اس آیت کی تفسیر آیت 25 میں تا آیت 27 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
26۔ 1 یا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تسلی اور کفار مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نے گزشتہ لوگوں کے واقعات سے عبرت نہ پکڑی تو ان کا انجام بھی فرعون کی طرح ہوسکتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
26۔ اس واقعہ میں سامان عبرت [18] ہے اس شخص کے لیے جو (اللہ کی گرفت سے) ڈرتا ہے
[18] یعنی جس طرح فرعون نے سرکشی کی راہ اختیار کی تھی۔ وہی کچھ تم کر رہے ہو۔ اس کا انجام دیکھ لو۔ اور اس واقعہ سے عبرت حاصل کرو کہ تمہیں بھی کہیں ایسے ہی انجام سے دو چار نہ ہونا پڑے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔