(آیت 29) {اِنَّهٰذِهٖتَذْكِرَةٌ …:} یعنی یہ سورت یا موعظت نصیحت ہے، اس سے صحیح راستہ واضح ہوگیا، کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہا، اب جو چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
29۔ 1 یعنی اس قرآن سے ہدایت حاصل کرے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
29۔ یہ (قرآن) ایک نصیحت ہے [32] اب جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف (جانے والا) راستہ اختیار کرے
[32] یہ قرآن تمہیں تمہاری فطرت کی یاددہانی کرانے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ اور تمہیں یہ اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے تو اس کی نصیحت کو قبول کر لو اور چاہے تو رد کر دو۔ نہ قرآن تمہیں کسی بات پر مجبور بنانے کے لیے نازل کیا گیا ہے اور نہ حامل قرآن میں یہ قدرت ہے کہ تمہیں زبردستی راہ راست پر لے آئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنَّهٰؔذِهٖتَذْكِرَةٌ ﴾”یہ ایک نصیحت ہے۔“یعنی اس سے مومن نصیحت حاصل کرتا ہے، اس کے اندر جو تحویف و ترغیب ہے، اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ﴿ فَ٘مَنْشَآءَؔاتَّؔخَذَاِلٰىرَبِّهٖسَبِیْلًا ﴾”پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے۔“ یعنی وہ راستہ جو اس کے رب تک پہنچاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حق اور ہدایت کو پوری طرح واضح کر دیا اور حجت قائم کرنے کے لیے لوگوں کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو ہدایت کے راستے پر گامزن ہوں اور اگر چاہیں تو اس سے دور بھاگیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّ هذه تذكرةٌ}؛ أي: يتذكَّر بها المؤمن، فينتفع بما فيها من التخويف والترغيب، {فمَن شاءَ اتَّخَذَ إلى ربِّه سَبيلاً}؛ أي: طريقاً موصلاً إليه؛ فالله يبيِّن الحقَّ والهدى، ثم يخيِّر الناس بين الاهتداء بها أو النُّفور عنها؛ إقامةً للحُجَّة ؛ ليهلكَ من هَلَكَ عن بيِّنةٍ، ويحيا من حيَّ عن بينةٍ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔