تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 29

اِنَّ ہٰذِہٖ تَذۡکِرَۃٌ ۚ فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیۡلًا ﴿۲۹﴾
یقینا یہ ایک نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف (جانے والا) راستہ اختیار کرلے۔ En
یہ تو نصیحت ہے۔ جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف پہنچنے کا رستہ اختیار کرے
En
یقیناً یہ تو ایک نصیحت ہے پس جو چاہے اپنے رب کی راه لے لے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّ هٰؔذِهٖ تَذْكِرَةٌ یہ ایک نصیحت ہے۔یعنی اس سے مومن نصیحت حاصل کرتا ہے، اس کے اندر جو تحویف و ترغیب ہے، اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ﴿ فَ٘مَنْ شَآءَؔ اتَّؔخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے۔ یعنی وہ راستہ جو اس کے رب تک پہنچاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حق اور ہدایت کو پوری طرح واضح کر دیا اور حجت قائم کرنے کے لیے لوگوں کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو ہدایت کے راستے پر گامزن ہوں اور اگر چاہیں تو اس سے دور بھاگیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ هذه تذكرةٌ}؛ أي: يتذكَّر بها المؤمن، فينتفع بما فيها من التخويف والترغيب، {فمَن شاءَ اتَّخَذَ إلى ربِّه سَبيلاً}؛ أي: طريقاً موصلاً إليه؛ فالله يبيِّن الحقَّ والهدى، ثم يخيِّر الناس بين الاهتداء بها أو النُّفور عنها؛ إقامةً للحُجَّة ؛ ليهلكَ من هَلَكَ عن بيِّنةٍ، ويحيا من حيَّ عن بينةٍ.