ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 27

اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَۃَ وَ یَذَرُوۡنَ وَرَآءَہُمۡ یَوۡمًا ثَقِیۡلًا ﴿۲۷﴾
یقینا یہ لوگ جلد ملنے والی چیز سے محبت کرتے ہیں اور ایک بھاری دن کو اپنے پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔ En
یہ لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہیں اور (قیامت کے) بھاری دن کو پس پشت چھوڑے دیتے ہیں
En
بیشک یہ لوگ جلدی ملنے والی (دنیا) کو چاہتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بڑے بھاری دن کو چھوڑے دیتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 27){ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ يُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ …:} اس آیت میں کفار و فجار کے کفر و فسوق کا اصل سبب بیان فرمایا کہ ان کے نصیحت قبول نہ کرنے کا سبب حبِ دنیا ہے۔ دنیا چونکہ جلد ہاتھ آنے والی چیز ہے، اس لیے یہ اسی کو چاہتے ہیں اور قیامت کے بھاری دن سے غافل ہیں، بلکہ اس کے آنے کا یقین ہی نہیں رکھتے اور سمجھتے ہیں کہ جب مرنے کے بعد گل سڑ گئے تو کون دوبارہ زندہ کرے گا؟ آگے اس کا جواب ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

27۔ 1 یعنی کفار مکہ اور ان جیسے دوسرے لوگ دنیا کی محبت میں گرفتار ہیں اور ساری توجہ اسی پر ہے۔ 27۔ 2 یعنی قیامت کو، اس کی شدتوں اور ہولناکیوں کی وجہ سے اسے بھاری دن کہا اور چھوڑنے کا مطلب ہے کہ اس کے لئے تیاری نہیں کرتے اور اس کی پروا نہیں کرتے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

27۔ یہ لوگ تو بس دنیا سے ہی محبت رکھتے ہیں اور ان کے آگے جو بھاری [30] دن آنے والا ہے اسے نظرانداز کر دیتے ہیں۔
[30] یہ لوگ آخرت کے اس لیے منکر نہیں کہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی، بلکہ اس لیے منکر ہیں کہ یہ صرف نقد کے گاہک ہیں۔ دنیا کی دلفریبیوں، دلکشیوں اور اس کے مال و دولت سے انہیں گہری محبت ہے۔ اور اسے اپنے پاس سمیٹ سمیٹ کر رکھنا چاہتے ہیں۔ جبکہ آخرت پر ایمان لانے کی صورت میں مال اکٹھا کرنے کی بجائے انہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا پڑتا ہے۔ پھر اخروی زندگی پر ان کا کچھ یقین بھی نہیں۔ لہٰذا یہ اپنا فائدہ اسی میں دیکھتے ہیں کہ آخرت کا انکار کر دیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔