ترجمہ و تفسیر — سورۃ نوح (71) — آیت 17

وَ اللّٰہُ اَنۡۢبَتَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ نَبَاتًا ﴿ۙ۱۷﴾
اور اللہ نے تمھیں زمین سے اگایا، خاص طریقے سے اگانا۔ En
اور خدا ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے
En
اور تم کو زمین سے ایک (خاص اہتمام سے) اگایا ہے (اور پیدا کیا ہے) En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 16 میں تا آیت 18 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

17۔ 1 یعنی تمہارے باپ آدم ؑ کو، جنہیں مٹی سے بنایا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ یا اگر تمام انسانوں کو مخاطب سمجھا جائے، تو مطلب ہوگا کہ تم جس نطفے سے پیدا ہوتے ہو وہ اسی خوراک سے بنتا ہے جو زمین سے حاصل ہوتی ہے، اس اعتبار سے سب کی پیدائش کی اصل زمین ہی قرار پائی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ اور اللہ نے تمہیں زمین سے عجیب طرح اگایا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاللّٰهُ اَنْۢـبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے۔ جب تمھارے باپ آدم کو زمین سے پیدا کیا اور تم اس کی صلب میں تھے۔﴿ ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا پھر تمھیں اسی میں لوٹائے گا۔یعنی موت کے وقت ﴿ وَیُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا اور وہ تمھیں حشر و نشر کے لیے زمین سے نکالے گا۔ وہی ہے جو زندگی عطا کرنے، موت دینے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر اختیار رکھتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والله أنبتَكم من الأرض نباتاً}: حين خلق أباكم آدمَ وأنتم في صلبِهِ، {ثم يعيدُكم فيها}: عند الموت، {ويخرِجُكم إخراجاً}: للبعث والنشور؛ فهو الذي يملك الحياة والموت والنشور.