تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {لَنُخْرِجَنَّكَ يٰشُعَيْبُ:} یعنی انھوں نے صرف جھٹلانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ نہایت بدتمیزی سے نام کے ساتھ مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمھیں ہر صورت دو باتوں میں سے ایک اختیار کرنا ہو گی، یا ہم تمھیں اپنی بستی سے نکال دیں گے، یا تمھیں پھر سے ہماری ملت، یعنی کفر و شرک میں پلٹنا ہو گا۔ اب تم سوچ لو کہ اپنے لیے ان میں سے کون سی بات پسند کرتے ہو؟
➌ {وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَاۤ: ” مَعَكَ “} کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اس کا تعلق {” اٰمَنُوْا “} سے ہو، یعنی جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں، دوسرا یہ کہ اس کا تعلق {” لَنُخْرِجَنَّكَ يٰشُعَيْبُ “} کے ساتھ ہو، یعنی تجھے اور تیرے ساتھ ان لوگوں کو بھی نکال دیں گے جو ایمان لائے ہیں۔ ہمارے استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ نے اس کا تعلق {” لَنُخْرِجَنَّكَ “} کے ساتھ قرار دیا ہے۔
➍ { اَوْلَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا: ”عَادَ يَعُوْدُ عَوْدًا“} کے معنی کسی چیز کی طرف لوٹ آنے کے ہیں۔ شعیب علیہ السلام خود تو کبھی کفر و شرک میں مبتلا نہیں رہے، پھر ان کے دین میں لوٹ آنے کے کیا معنی ہوں گے؟ اگلی آیت میں شعیب علیہ السلام کے قول {” اِنْ عُدْنَا “} (اگر ہم تمھاری ملت میں پھر آ جائیں) اور{” اَنْ نَّعُوْدَ فِيْهَاۤ “} سے یہ اشکال اور قوی ہو جاتا ہے۔ علماء نے اس کے مختلف جواب دیے ہیں، ایک یہ کہ نبوت سے پہلے شعیب علیہ السلام اگرچہ کفر و شرک سے اور نبوت کے منصب کے منافی ناپسندیدہ کاموں سے محفوظ تھے، مگر نبوت عطا ہونے سے پہلے عام طور طریقے میں اپنی قوم ہی کے ساتھ تھے۔ البتہ کفر، شرک اور گندے کاموں سے اجتناب کے باوجود مبعوث نہ ہونے کی وجہ سے خاموش رہتے تھے۔ جس سے ان کی قوم کے لوگ سمجھتے تھے کہ یہ ہمارے ہی دین پر ہیں۔ اس لیے انھوں نے {” اَوْ لَتَعُوْدُنَّ “} کہہ دیا، ورنہ حقیقت یہ نہیں تھی۔ یا ان کا مطلب یہ تھا کہ پہلے کی طرح اب بھی خاموش ہو جاؤ، تو ہم تمھیں اپنا ہی سمجھ لیں گے۔ فرمایا، اب ہم پہلے کی طرح نہیں ہو سکتے۔ دوسرا یہ کہ ان کے اکثر ساتھی چونکہ کفر سے نکل کر اسلام میں داخل ہوئے تھے، اس لیے انھوں نے ان سب کے ساتھ شعیب علیہ السلام کو بھی شامل کر دیا۔ اسے تغلیب کہتے ہیں، یعنی سب پر وہی الفاظ بول دیے جو اکثر پر صادق آتے تھے۔ شعیب علیہ السلام نے بھی انھی کے لہجہ میں {” اِنْ عُدْنَا “} اور {” اَنْ نَّعُوْدَ “} فرما دیا۔ تیسرا یہ کہ {”عَادَ يَعُوْدُ“} بعض اوقات {”صَارَ يَصِيْرُ“} کے معنی میں بھی آتا ہے، اسے {”صَيْرُوْرَةٌ“} کہتے ہیں، یعنی ابتداءً (پہلی بار) کسی چیز کو اختیار کرنا، معنی یہ کہ تم ہمارا دین اختیار کر لو گے۔
➎ { اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِيْنَ:} یعنی اگر ہمیں دونوں باتیں ہی گوارا نہ ہوں تو کیا پھر بھی ہم ایک ضرور اختیار کریں گے، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ سوال درحقیقت انکار کے لیے ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اگر اللہ نہ کرے، ہم پھر سے تمہارے کفر میں شامل ہو جائیں تو ہم سے بڑھ کر گناہگار کون ہو گا؟ اس کے تو صاف معنی یہ ہیں کہ ہم نے دو گھڑی پہلے محض ایک ڈھونگ رچایا تھا۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان باندھ کر نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔
خیال فرمائیے کہ اس جواب میں اللہ کے نبی علیہ السلام نے ایمان داروں کو مرتد ہونے سے کس طرح دھمکایا ہے؟ لیکن چونکہ انسان کمزور ہے۔ نہ معلوم کس کا دل کیسا ہے اور آگے چل کر کیا ظاہر ہونے والا ہے؟ اس لیے فرمایا کہ اللہ کے ہاتھ سب کچھ ہے۔ اگر وہی کسی کے خیالات الٹ دے تو میرا زور نہیں۔ ہر چیز کے آغاز، انجام کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
ہمارا توکل اور بھروسہ اپنے تمام کاموں میں صرف اسی کی ذات پاک پر ہے۔ اے اللہ! تو ہم میں اور ہماری قوم میں فیصلہ فرما۔ ہماری مدد فرما۔ تو سب حاکموں کا حاکم ہے، سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، عادل ہے، ظالم نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قال الملأُ الذين استَكْبَروا من قومِهِ}: وهم الأشرافُ والكبراءُ منهم، الذين اتَّبعوا أهواءهم ولهوا بلذاتهم، فلما أتاهم الحقُّ ورأوه غير موافق لأهوائهم الرديئة؛ ردُّوه، واستكبروا عنه، فقالوا لنبيِّهم شعيب ومن معه من المؤمنين المستضعفين: {لنخرجَنَّكَ يا شعيبُ والذين آمنوا معك من قريتِنا أو لتعودُنَّ في مِلَّتنا}: استعملوا قوَّتهم السَّبُعية في مقابلة الحقِّ، ولم يراعوا ديناً ولا ذمَّةً ولا حقًّا، وإنما راعوا واتبعوا أهواءهم وعقولهم السفيهة، التي دلَّتهم على هذا القول الفاسد، فقالوا إمَّا أن ترجع أنت ومن معك إلى ديننا أو لنخرجنَّكم من قريتنا؛ فشعيبٌ عليه الصلاة والسلام كان يدعوهم طامعاً في إيمانهم، والآن لم يَسْلَم [من شرهم] حتى توعَّدوه إن لم يتابعهم بالجلاء عن وطنه الذي هو ومن معه أحقُّ به منهم. فقال لهم شعيبٌ عليه الصلاة والسلام متعجباً من قولهم: {أوَلَوْ كنَّا كارهينَ}؛ أي: أنتابعكم على دينكم وملَّتكم الباطلة ولو كُنَّا كارهين لها لعلمنا ببطلانها؛ فإنما يدعَى إليها من له نوعُ رغبة فيها، أما من يعلن بالنهي عنها والتشنيع على من اتَّبعها؛ فكيف يُدعى إليها.