تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ مَا يَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِيْهَاۤ …:} یعنی ہمارے لیے تمھارے دین کو اختیار کرنا ممکن ہی نہیں، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے، اس لیے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے، چنانچہ اب ہم جو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ دوبارہ تمھارا دین اختیار نہیں کریں گے، وہ بھی اپنے بل بوتے پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق کی بنا پر کر رہے ہیں، کیونکہ ارادہ خواہ کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو اس کا پورا ہونا اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت پر موقوف ہے۔ اس استثنا سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ شعیب علیہ السلام کو اپنے خاتمہ بالخیر میں شک تھا، بلکہ انھوں نے یہ بات صرف اپنی عاجزی کے اظہار اور اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کرنے کے لیے کہی ہے اور اس میں دوسرے مومنوں کو بھی شامل رکھا ہے۔ واحدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ انبیاء علیھم السلام اور امت کے اکابر ہمیشہ ہی برے انجام سے پناہ مانگتے رہے۔ خلیل اللہ علیہ السلام کی دعا ہے: «{ وَ اجْنُبْنِيْ وَ بَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ }» [إبراہیم: ۳۵]”اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر دعا یہ تھی: [يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰی دِيْنِكَ] ”اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔“ [ترمذي، الدعوات، باب یا مقلب القلوب …: ۳۵۲۲، عن أم سلمۃرضی اللہ عنھا و صححہ الألبانی] اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ جملہ بطور فرض ہو، یعنی تمھارے جبر و اکراہ سے تو ہم کفر اختیار نہیں کر سکتے، ہاں! (بالفرض) اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی یہ ہو تو دوسری بات ہے۔
➌ {عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا:} یعنی ہم ایمان پر استقامت کے لیے اپنی قوت پر نہیں بلکہ صرف اللہ پر بھروسا کرتے ہیں۔{ ” عَلَى اللّٰهِ “} کو پہلے لانے سے حصر کا معنی پیدا ہو گیا۔
➍ {رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا …: ”فَتَحَ“} کا معنی واضح فیصلہ ہے، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تو اپنے ماننے والوں ہی کے حق میں ہو گا، یعنی انکار اور ضد پر اڑے ہوئے ان مشرکین کے مقابلے میں ہماری مدد فرما کر ہمارے حق پر ہونے اور ان کے باطل پر ہونے کو خوب واضح کر دے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[95] جب حق و باطل کی محاذ آرائی اس حد تک پہنچ گئی کہ معاندین اور سرکش سردار سیدنا شعیبؑ اور ان کے ساتھیوں کو ملک بدر کرنے پر آمادہ ہو گئے اس وقت سیدنا شعیبؑ نے اللہ سے دعا کی کہ یا اللہ! اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ان ظالموں کو مزید پند و نصیحت کے فائدہ کا کچھ امکان باقی نہیں رہ گیا لہٰذا اب ان کے اور ہمارے درمیان تو خود ہی فیصلہ کر دے کہ اب آئندہ کے لیے ہمارا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اگر اللہ نہ کرے، ہم پھر سے تمہارے کفر میں شامل ہو جائیں تو ہم سے بڑھ کر گناہگار کون ہو گا؟ اس کے تو صاف معنی یہ ہیں کہ ہم نے دو گھڑی پہلے محض ایک ڈھونگ رچایا تھا۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان باندھ کر نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔
خیال فرمائیے کہ اس جواب میں اللہ کے نبی علیہ السلام نے ایمان داروں کو مرتد ہونے سے کس طرح دھمکایا ہے؟ لیکن چونکہ انسان کمزور ہے۔ نہ معلوم کس کا دل کیسا ہے اور آگے چل کر کیا ظاہر ہونے والا ہے؟ اس لیے فرمایا کہ اللہ کے ہاتھ سب کچھ ہے۔ اگر وہی کسی کے خیالات الٹ دے تو میرا زور نہیں۔ ہر چیز کے آغاز، انجام کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
ہمارا توکل اور بھروسہ اپنے تمام کاموں میں صرف اسی کی ذات پاک پر ہے۔ اے اللہ! تو ہم میں اور ہماری قوم میں فیصلہ فرما۔ ہماری مدد فرما۔ تو سب حاکموں کا حاکم ہے، سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، عادل ہے، ظالم نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قدِ افتَرَيْنا على الله كذباً إن عُدْنا في ملَّتكم بعد إذ نجَّانا الله منها}؛ أي: اشهدوا علينا أننا إن عُدنا [فيها] بعد ما نجَّانا الله منها وأنقذنا من شرِّها أننا كاذبون مفترون على الله الكذب؛ فإننا نعلمُ أنه لا أعظم افتراء ممَّن جعل لله شريكاً وهو الواحد الأحد الفرد الصمد الذي لم يتَّخذ صاحبة ولا ولداً ولا شريكاً في الملك. {وما يكونُ لنا أن نعودَ فيها}؛ أي: يمتنع على مثلنا أن نعودَ فيها؛ فإنَّ هذا من المحال، فآيَسَهم عليه الصلاة والسلام من كونه يوافقهم من وجوهٍ متعددةٍ.
من جهة أنهم كارهون لها مبغضون لما هم عليه من الشرك.
ومن جهة أنه جعل ما هم عليه كذباً وأشهدهم أنه إنِ اتَّبَعَهم ومن معه فإنَّهم كاذبون.
ومنها اعترافُهم بمنَّة الله عليهم إذ أنقذهم الله منها، ومنها أنَّ عودَهم فيها بعدما هداهم الله من المحالات بالنظر إلى حالتهم الراهنة وما في قلوبهم من تعظيم الله تعالى والاعتراف له بالعبوديَّة وأنه الإله وحده الذي لا تنبغي العبادة إلاَّ له وحده لا شريك له، وأنَّ آلهة المشركين أبطل الباطل وأمحل المحال، وحيث إنَّ اللهَ منَّ عليهم بعقول يعرفون بها الحقَّ والباطل والهدى والضلال، وأما من حيث النظر إلى مشيئة الله وإرادته النافذة في خلقه التي لا خروجَ لأحدٍ عنها ولو تواترتِ الأسبابُ وتوافقت القوى؛ فإنَّهم لا يحكمون على أنفسهم أنهم سيفعلون شيئاً أو يتركونه، ولهذا استثنى: {وما يكونُ لنا أن نعودَ فيها إلا أن يشاء اللهُ ربُّنا}؛ أي: فلا يمكننا ولا غيرنا الخروج عن مشيئته التابعة لعلمه وحكمته، وقد {وَسِعَ ربُّنا كلَّ شيءٍ علماً}: فيعلم ما يصلُح للعباد، وما يدبِّرُهم عليه.
{على الله توكَّلْنا}؛ أي: اعتمدنا أنه سيثبِّتنا على الصراط المستقيم، وأن يعصِمَنا من جميع طرق الجحيم؛ فإن من توكَّل على الله كفاه ويسَّر له أمر دينه ودنياه. {ربَّنا افتحْ بينَنا وبين قومِنا بالحقِّ}؛ أي: انصر المظلوم وصاحب الحق على الظالم المعاند للحق، {وأنت خيرُ الفاتحين}: وفتحُهُ تعالى لعباده نوعان: فتحُ العلم بتبيين الحقِّ من الباطل والهدى من الضلال ومَنْ هو المستقيمُ على الصراط ممَّن هو منحرفٌ عنه. والنوع الثاني: فتحُهُ بالجزاء وإيقاع العقوبة على الظالمين، والنجاة والإكرام للصالحين. فسألوا الله أن يفتحَ بينَهم وبين قومهم بالحقِّ والعدل، وأن يريَهم من آياتِهِ وعِبَرِهِ ما يكون فاصلاً بين الفريقين.