ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 89

قَدِ افۡتَرَیۡنَا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اِنۡ عُدۡنَا فِیۡ مِلَّتِکُمۡ بَعۡدَ اِذۡ نَجّٰنَا اللّٰہُ مِنۡہَا ؕ وَ مَا یَکُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِیۡہَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ رَبُّنَا ؕ وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیۡءٍ عِلۡمًا ؕ عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلۡنَا ؕ رَبَّنَا افۡتَحۡ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَقِّ وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡفٰتِحِیۡنَ ﴿۸۹﴾
یقینا ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھا اگر ہم تمھاری ملت میں پھر آجائیں،اس کے بعد کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دی اور ہمارے لیے ممکن نہیں کہ اس میں پھر آجائیں مگر یہ کہ اللہ چاہے، جو ہمارا رب ہے، ہمارے رب نے ہر چیز کا علم سے احاطہ کر رکھا ہے، ہم نے اللہ ہی پر بھروسا کیا، اے ہمارے رب! ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔ En
اگر ہم اس کے بعد کہ خدا ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بےشک ہم نے خدا پر جھوٹ افتراء باندھا۔ اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو (ہم مجبور ہیں) ۔ ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ہمارا خدا ہی پر بھروسہ ہے۔ اے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
En
ہم تو اللہ تعالیٰ پر بڑی جھوٹی تہمت لگانے والے ہو جائیں گے اگر ہم تمہارے دین میں آجائیں اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس سے نجات دی اور ہم سے ممکن نہیں کہ تمہارے مذہب میں پھر آجائیں، لیکن ہاں یہ کہ اللہ ہی نے جو ہمارا مالک ہے مقدر کیا ہو۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، ہم اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے موافق فیصلہ کر دے اور تو سب سے اچھا فیصلہ کرنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 89) ➊ {قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا …:} یہ ایک دوسرے طریقے سے جواب ہے، شعیب علیہ السلام عرب تھے اور عربوں میں شروع ہی سے جھوٹ سے شدید نفرت رہی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وہ نبی جو تمام دنیا کی طرف اور قیامت تک کے لیے تھا عربوں میں مبعوث کرنا اس لیے طے فرمایا کہ عرب اپنی تمام برائیوں کے باوجود کچھ اوصاف حمیدہ رکھتے تھے، دوسری قومیں ان کی طرح نہیں تھیں، ان میں سے ایک وصف سچ سے محبت اور جھوٹ سے نفرت تھی۔ اسی لیے ابوسفیان نے ہرقل کے دربار میں جھوٹ نہیں بولا کہ مکہ میں جا کر کوئی یہ نہ کہے کہ سردار نے جھوٹ بولا۔ اس لیے شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب ہمیں تمھارے دین سے بچا کر توحید کا اعلان کرنے کی توفیق بخشی تو اب ہم پھر تمھارا دین اختیار کریں تو مطلب یہ ہوا کہ ہم نے جھوٹ باندھا تھا اور وہ بھی اللہ تعالیٰ پر! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
➋ {وَ مَا يَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِيْهَاۤ …:} یعنی ہمارے لیے تمھارے دین کو اختیار کرنا ممکن ہی نہیں، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے، اس لیے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے، چنانچہ اب ہم جو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ دوبارہ تمھارا دین اختیار نہیں کریں گے، وہ بھی اپنے بل بوتے پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق کی بنا پر کر رہے ہیں، کیونکہ ارادہ خواہ کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو اس کا پورا ہونا اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت پر موقوف ہے۔ اس استثنا سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ شعیب علیہ السلام کو اپنے خاتمہ بالخیر میں شک تھا، بلکہ انھوں نے یہ بات صرف اپنی عاجزی کے اظہار اور اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کرنے کے لیے کہی ہے اور اس میں دوسرے مومنوں کو بھی شامل رکھا ہے۔ واحدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ انبیاء علیھم السلام اور امت کے اکابر ہمیشہ ہی برے انجام سے پناہ مانگتے رہے۔ خلیل اللہ علیہ السلام کی دعا ہے: «{ وَ اجْنُبْنِيْ وَ بَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ [إبراہیم: ۳۵]اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر دعا یہ تھی: [يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰی دِيْنِكَ] اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ [ترمذي، الدعوات، باب یا مقلب القلوب …: ۳۵۲۲، عن أم سلمۃرضی اللہ عنھا و صححہ الألبانی] اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ جملہ بطور فرض ہو، یعنی تمھارے جبر و اکراہ سے تو ہم کفر اختیار نہیں کر سکتے، ہاں! (بالفرض) اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی یہ ہو تو دوسری بات ہے۔
➌ {عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا:} یعنی ہم ایمان پر استقامت کے لیے اپنی قوت پر نہیں بلکہ صرف اللہ پر بھروسا کرتے ہیں۔{ عَلَى اللّٰهِ } کو پہلے لانے سے حصر کا معنی پیدا ہو گیا۔
➍ {رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا …: فَتَحَ} کا معنی واضح فیصلہ ہے، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تو اپنے ماننے والوں ہی کے حق میں ہو گا، یعنی انکار اور ضد پر اڑے ہوئے ان مشرکین کے مقابلے میں ہماری مدد فرما کر ہمارے حق پر ہونے اور ان کے باطل پر ہونے کو خوب واضح کر دے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

89۔ 1 یعنی اگر ہم دوبارہ اس دین آبائی کی طرف لوٹ آئے، جس سے اللہ نے ہمیں نجات دی، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے ایمان و توحید کی دعوت دے کر اللہ پر جھوٹ باندھا تھا؟ مطلب یہ تھا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہماری طرف سے ایسا ہو۔ 98۔ 2 اپنا عزم ظاہر کرنے کے بعد معاملہ اللہ کی مشیت کے سپرد کردیا۔ یعنی ہم نے اپنی رضامندی سے اب کفر کی طرف نہیں لوٹ سکتے۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو بات اور ہے۔ 89۔ 3 کہ وہ ہمیں ایمان پر ثابت رکھے گا اور ہمارے اور کفر و اہل کفر کے درمیان حائل رہے گا، ہم پر اپنی نعمت کا اتمام فرمائے گا اور اپنے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

89۔ اگر ہم تمہارے دین میں دوبارہ چلے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا جبکہ اللہ اس سے ہمیں نجات دے چکا ہے۔ ہم سے یہ ممکن نہ ہو گا کہ ہم اس میں دوبارہ چلے جائیں، الا یہ کہ ہمارے [94] پروردگار ہی کی ایسی مشیئت ہو۔ ہمارے پروردگار نے علم سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ہم اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ (پھر دعا کی) اے ہمارے پروردگار! ہمارے [95] اور ہماری قوم کے درمیان انصاف سے فیصلہ کر دے اور تو ہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
[94] شعیبؑ کا جواب:۔
شعیبؑ نے جواب میں کہا تمہاری یہ دونوں باتیں ہمیں نامنظور ہیں وہ اس لیے کہ اگر ہم دوبارہ تمہارا دین اختیار کر لیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں اور میرے ساتھی آج تک جھوٹ ہی بولتے رہے اور اللہ کے ذمے جھوٹ ہی لگاتے رہے پھر جس کام پر اللہ نے مجھے مامور فرمایا ہے اگر میں ہی یا میرے ساتھی ہی اس کی خلاف ورزی کرنے لگیں تو ہم سے بڑھ کر بے انصاف کون ہو گا؟ اور ان شاء اللہ ہمارا عزم یہی ہے کہ ہم اپنے دین پر نہایت عزم سے ثابت قدم رہیں گے اور اللہ کی توفیق ہمارے شامل حال رہی تو ہم کبھی تمہارے دین میں جانا پسند نہیں کریں گے رہی دوسری بات کہ تم لوگ ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو گے تو ہمیں یہ بات بھی پسند نہیں ہاں اگر تم ہمیں مجبور کر کے زبردستی یہاں سے نکالنا چاہتے ہو تو کر دیکھو مگر ہو گا وہی جو کچھ اللہ ہمارے پروردگار کو منظور ہو گا۔ ہم اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور ہمارا سارا معاملہ اللہ ہی کے سپرد ہے۔
[95] جب حق و باطل کی محاذ آرائی اس حد تک پہنچ گئی کہ معاندین اور سرکش سردار سیدنا شعیبؑ اور ان کے ساتھیوں کو ملک بدر کرنے پر آمادہ ہو گئے اس وقت سیدنا شعیبؑ نے اللہ سے دعا کی کہ یا اللہ! اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ان ظالموں کو مزید پند و نصیحت کے فائدہ کا کچھ امکان باقی نہیں رہ گیا لہٰذا اب ان کے اور ہمارے درمیان تو خود ہی فیصلہ کر دے کہ اب آئندہ کے لیے ہمارا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

شعیب علیہ السلام کی قوم نے اپنی بربادی کو آواز دی ٭٭
شعیب علیہ السلام کی قوم نے آپ کی تمام نصیحتیں سن کر جو جواب دیا، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ہوا یہ کہ دلیلوں سے ہار کر یہ لوگ اپنی قوت جتانے پر اتر آئے اور کہنے لگے: اب تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہم دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیتے ہیں یا تو جلا وطنی قبول کرو یا ہمارے مذہب میں آ جاؤ۔ جس پر آپ نے فرمایا کہ ہم تو دل سے تمہارے ان مشرکانہ کاموں سے بیزار ہیں۔ انہیں سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ پھر تمہارے اس دباؤ اور اس خواہش کے کیا معنی؟
اگر اللہ نہ کرے، ہم پھر سے تمہارے کفر میں شامل ہو جائیں تو ہم سے بڑھ کر گناہگار کون ہو گا؟ اس کے تو صاف معنی یہ ہیں کہ ہم نے دو گھڑی پہلے محض ایک ڈھونگ رچایا تھا۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان باندھ کر نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔
خیال فرمائیے کہ اس جواب میں اللہ کے نبی علیہ السلام نے ایمان داروں کو مرتد ہونے سے کس طرح دھمکایا ہے؟ لیکن چونکہ انسان کمزور ہے۔ نہ معلوم کس کا دل کیسا ہے اور آگے چل کر کیا ظاہر ہونے والا ہے؟ اس لیے فرمایا کہ اللہ کے ہاتھ سب کچھ ہے۔ اگر وہی کسی کے خیالات الٹ دے تو میرا زور نہیں۔ ہر چیز کے آغاز، انجام کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
ہمارا توکل اور بھروسہ اپنے تمام کاموں میں صرف اسی کی ذات پاک پر ہے۔ اے اللہ! تو ہم میں اور ہماری قوم میں فیصلہ فرما۔ ہماری مدد فرما۔ تو سب حاکموں کا حاکم ہے، سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، عادل ہے، ظالم نہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبً٘ا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰؔىنَا اللّٰهُ مِنْهَا اگر ہم اس کے بعد کہ اللہ ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے، تمھارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بے شک ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھ دیا۔ یعنی تم گواہ رہو کہ اگر ہم تمھاری ملت اور دین میں واپس لوٹ آئے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے اور اس کے شر سے ہمیں بچا لیا ہے... تو ہم جھوٹے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرنے والے ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی افتراء پرداز نہیں جو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے حالانکہ وہ ایک، یکتا اور بے نیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ اقتدار میں کوئی شریک۔ ﴿ وَمَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں۔ یعنی ہم جیسے لوگوں کے لیے ممکن نہیں کہ ہم اس دین میں پھر لوٹ آئیں کیونکہ یہ بالکل محال ہے۔ جناب شعیب علیہ السلام نے متعدد وجوہ سے کفار کو اس بات سے مایوس کر دیا کہ وہ ان کی موافقت کریں گے۔
(۱) حضرت شعیب علیہ السلام اور ان کے اصحاب ان کے دین کو ناپسند کرتے تھے اور اس سے سخت بغض رکھتے تھے کیونکہ ان کا دین شرک پر مبنی تھا۔
(۲) جناب شعیب نے ان کے دین کو جھوٹ قرار دیا تھا اور ان کو اس بات پر گواہ بنایا تھا کہ اگر انھوں نے اور ان کے اصحاب نے کفار کے دین کی اتباع کی تو وہ جھوٹے ہیں۔
(۳) انھوں نے علی الاعلان اعتراف کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کفار کے دین سے بچا کر ان پر احسان کیا ہے۔
(۴) ان کی استقامت پر مبنی حالت پر غور کریں، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی جو تعظیم، اس کی عبودیت کا جو اعتراف، نیز اس بات کا اعتراف کہ وہی الٰہ واحد ہے صرف وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کا اعلان کہ مشرکین کے گھڑے ہوئے معبود سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑا فریب ہیں ..... ان امور کو دیکھتے ہوئے یہ بات محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان کو ہدایت سے نوازنے کے بعد وہ ان کے دین میں واپس لوٹیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عقل سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کو پہچانتے ہیں۔
اور اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تمام مخلوقات میں نافذ اس کے ارادے میں غور کیا جائے، جس سے باہر نکلنا کسی کے لیے ممکن نہیں خواہ پے درپے اسباب مہیا ہوں اور قوتیں باہم موافق ہوں ..... تو وہ اپنے بارے میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ عنقریب فلاں فعل سر انجام دیں گے یا اس کو چھوڑ دیں گے۔ بنابریں شعیب علیہ السلام نے استثناء کا اسلوب استعمال کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَمَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں، ہاں اللہ جو ہمارا رب ہے وہ چاہے تو۔ یعنی ہمارے لیے یا کسی اور کیلیے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے، جو اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت کے تابع ہے، باہر نکلنا ممکن نہیں۔ ﴿ وَسِعَ رَبُّنَا كُ٘لَّ٘ شَیْءٍ عِلْمًا گھیرے ہوئے ہے ہمارا پروردگار سب چیزوں کو اپنے علم میں پس وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے کیا درست ہے اور کس چیز کے ذریعے سے وہ بندوں کی تدبیر کرے ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَؔكَّلْنَا ہمارا اللہ ہی پر بھروسا ہے۔ یعنی ہمیں اللہ تعالیٰ پر اعتماد ہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے گا اور جہنم کے تمام راستوں سے ہمیں بچائے گا۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور وہ اس کے دین اور دنیا کے معاملے کو آسان کر دیتا ہے۔
﴿ رَبَّنَا افْ٘تَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ اے ہمارے رب فیصلہ کر ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ یعنی ظالم اور حق کے خلاف عناد رکھنے والے کے مقابلے میں مظلوم اور صاحب حق کی مدد فرما۔ ﴿ وَاَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی دو اقسام ہیں:
(۱) اللہ تعالیٰ باطل میں سے حق کو، گمراہی میں سے ہدایت کو بیان کر کے نیز یہ واضح کر کے کہ کون صراط مستقیم پر گامزن ہے اور کون اس سے منحرف ہے .... فیصلہ کرتا ہے یہ اس کا علمی فیصلہ ہے۔
(۲) ظالموں کو سزا دینے اور صالحین کو نجات اور اکرام عطا کرنے کے لیے جو فیصلہ کرتا ہے وہ اس کا جزائی فیصلہ ہے۔
پس اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ حق اور انصاف کے ساتھ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ انھیں ایسی آیات و علامات دکھا دے جو فریقین کے مابین فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قدِ افتَرَيْنا على الله كذباً إن عُدْنا في ملَّتكم بعد إذ نجَّانا الله منها}؛ أي: اشهدوا علينا أننا إن عُدنا [فيها] بعد ما نجَّانا الله منها وأنقذنا من شرِّها أننا كاذبون مفترون على الله الكذب؛ فإننا نعلمُ أنه لا أعظم افتراء ممَّن جعل لله شريكاً وهو الواحد الأحد الفرد الصمد الذي لم يتَّخذ صاحبة ولا ولداً ولا شريكاً في الملك. {وما يكونُ لنا أن نعودَ فيها}؛ أي: يمتنع على مثلنا أن نعودَ فيها؛ فإنَّ هذا من المحال، فآيَسَهم عليه الصلاة والسلام من كونه يوافقهم من وجوهٍ متعددةٍ.

من جهة أنهم كارهون لها مبغضون لما هم عليه من الشرك.

ومن جهة أنه جعل ما هم عليه كذباً وأشهدهم أنه إنِ اتَّبَعَهم ومن معه فإنَّهم كاذبون.

ومنها اعترافُهم بمنَّة الله عليهم إذ أنقذهم الله منها، ومنها أنَّ عودَهم فيها بعدما هداهم الله من المحالات بالنظر إلى حالتهم الراهنة وما في قلوبهم من تعظيم الله تعالى والاعتراف له بالعبوديَّة وأنه الإله وحده الذي لا تنبغي العبادة إلاَّ له وحده لا شريك له، وأنَّ آلهة المشركين أبطل الباطل وأمحل المحال، وحيث إنَّ اللهَ منَّ عليهم بعقول يعرفون بها الحقَّ والباطل والهدى والضلال، وأما من حيث النظر إلى مشيئة الله وإرادته النافذة في خلقه التي لا خروجَ لأحدٍ عنها ولو تواترتِ الأسبابُ وتوافقت القوى؛ فإنَّهم لا يحكمون على أنفسهم أنهم سيفعلون شيئاً أو يتركونه، ولهذا استثنى: {وما يكونُ لنا أن نعودَ فيها إلا أن يشاء اللهُ ربُّنا}؛ أي: فلا يمكننا ولا غيرنا الخروج عن مشيئته التابعة لعلمه وحكمته، وقد {وَسِعَ ربُّنا كلَّ شيءٍ علماً}: فيعلم ما يصلُح للعباد، وما يدبِّرُهم عليه.

{على الله توكَّلْنا}؛ أي: اعتمدنا أنه سيثبِّتنا على الصراط المستقيم، وأن يعصِمَنا من جميع طرق الجحيم؛ فإن من توكَّل على الله كفاه ويسَّر له أمر دينه ودنياه. {ربَّنا افتحْ بينَنا وبين قومِنا بالحقِّ}؛ أي: انصر المظلوم وصاحب الحق على الظالم المعاند للحق، {وأنت خيرُ الفاتحين}: وفتحُهُ تعالى لعباده نوعان: فتحُ العلم بتبيين الحقِّ من الباطل والهدى من الضلال ومَنْ هو المستقيمُ على الصراط ممَّن هو منحرفٌ عنه. والنوع الثاني: فتحُهُ بالجزاء وإيقاع العقوبة على الظالمين، والنجاة والإكرام للصالحين. فسألوا الله أن يفتحَ بينَهم وبين قومهم بالحقِّ والعدل، وأن يريَهم من آياتِهِ وعِبَرِهِ ما يكون فاصلاً بين الفريقين.