تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 88

قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖ لَنُخۡرِجَنَّکَ یٰشُعَیۡبُ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَکَ مِنۡ قَرۡیَتِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِیۡ مِلَّتِنَا ؕ قَالَ اَوَ لَوۡ کُنَّا کٰرِہِیۡنَ ﴿۟۸۸﴾
اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے کہا جو بڑے بنے ہوئے تھے، اے شعیب! ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ہمراہ ایمان لائے ہیں، اپنی بستی سے ضرور ہی نکال دیں گے، یا ہر صورت تم ہمارے دین میں واپس آئو گے۔ اس نے کہا اور کیا اگرچہ ہم ناپسند کرنے والے ہوں؟ En
(تو) ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے، وہ کہنے لگے کہ شعیب! (یا تو) ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ انہوں نے کہا خواہ ہم (تمہارے دین سے) بیزار ہی ہوں (تو بھی؟)
En
ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا کہ اے شعیب! ہم آپ کو اور جو آپ کے ہمراه ایمان والے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے الّا یہ کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجاؤ۔ شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ کیا ہم تمہارے مذہب میں آجائیں گو ہم اس کو مکروه ہی سمجھتے ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے اس سے مراد ان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنھوں نے اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انھوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انھوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیب علیہ السلام اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیب علیہ السلام کے ساتھ تھے۔ ﴿لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَ٘رْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں انھوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت استعمال کی اور انھوں نے کسی اصول، کسی ذمہ اور کسی حق کی پاسداری نہ کی۔ انھوں نے تو صرف اپنی خواہشات نفس کی رعایت اور ان کی پیروی کی اور اپنی ناقص عقل کے پیچھے لگے جو ان کے قول فاسد پر دلالت کرتی ہے۔ پس جناب شعیب سے کہنے لگے یا تو تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہمارے دین میں واپس لوٹنا ہوگا یا ہم تجھے اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔جناب شعیب علیہ السلام ان کے ایمان لانے کی امید میں ان کو ایمان کی دعوت دیتے رہے مگر وہ اب تک ایمان نہ لائے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انھوں نے آنجناب علیہ السلام کو دھمکی دی کہ اگر وہ ان کی پیروی نہیں کریں گے تو وہ ان کو ان کے اس وطن سے جلا وطن کر دیں گے جس میں رہنے کے جناب شعیب اور ان کے اصحاب زیادہ مستحق ہیں۔
﴿ قَالَ شعیب علیہ السلام نے ان کی اس بات پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَوْؔ كُنَّا كٰرِهِیْنَ خواہ ہم (تمھارے دین سے) بیزار ہی ہوں۔ یعنی کیا ہم ناپسند کرتے ہوئے بھی تمھارے باطل دین اور ملت کی اتباع کریں؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمھارا دین باطل ہے۔ اس دین کی طرف تو صرف اسی کو دعوت دی جاتی ہے جو اس میں کوئی رغبت رکھتا ہو اور وہ شخص جو علی الاعلان لوگوں کو اس دین کی پیروی سے روکتا ہے اور جو کوئی اس دین کی اتباع کرتا ہے اس کو برا کہتا ہے تو وہ کیوں کر اس دین کی دعوت دے سکتا ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال الملأُ الذين استَكْبَروا من قومِهِ}: وهم الأشرافُ والكبراءُ منهم، الذين اتَّبعوا أهواءهم ولهوا بلذاتهم، فلما أتاهم الحقُّ ورأوه غير موافق لأهوائهم الرديئة؛ ردُّوه، واستكبروا عنه، فقالوا لنبيِّهم شعيب ومن معه من المؤمنين المستضعفين: {لنخرجَنَّكَ يا شعيبُ والذين آمنوا معك من قريتِنا أو لتعودُنَّ في مِلَّتنا}: استعملوا قوَّتهم السَّبُعية في مقابلة الحقِّ، ولم يراعوا ديناً ولا ذمَّةً ولا حقًّا، وإنما راعوا واتبعوا أهواءهم وعقولهم السفيهة، التي دلَّتهم على هذا القول الفاسد، فقالوا إمَّا أن ترجع أنت ومن معك إلى ديننا أو لنخرجنَّكم من قريتنا؛ فشعيبٌ عليه الصلاة والسلام كان يدعوهم طامعاً في إيمانهم، والآن لم يَسْلَم [من شرهم] حتى توعَّدوه إن لم يتابعهم بالجلاء عن وطنه الذي هو ومن معه أحقُّ به منهم. فقال لهم شعيبٌ عليه الصلاة والسلام متعجباً من قولهم: {أوَلَوْ كنَّا كارهينَ}؛ أي: أنتابعكم على دينكم وملَّتكم الباطلة ولو كُنَّا كارهين لها لعلمنا ببطلانها؛ فإنما يدعَى إليها من له نوعُ رغبة فيها، أما من يعلن بالنهي عنها والتشنيع على من اتَّبعها؛ فكيف يُدعى إليها.