اس آیت کی تفسیر آیت 67 میں تا آیت 69 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
68۔ میں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امین خیر خواہ [72] ہوں“
[72] ہودؑ نے جواب میں کہا کہ نہ میں نادان ہوں نہ جھوٹا ہوں بلکہ اس اللہ کا جسے تم بھی رب اکبر تسلیم کرتے ہو۔ پیامبر ہوں اور تمہیں اللہ ہی کا پیغام پہنچا رہا ہوں اپنے پاس سے کچھ نہیں کہہ رہا کہ خود ہی کوئی بات بنا کر اللہ کے ذمے لگا دوں اور حقیقتاً میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور چاہتا ہوں کہ تمہیں کوئی روز بد نہ دیکھنا پڑے اور یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ میں ایک امین اور دیانت دار آدمی ہوں لہٰذا جو کچھ اور جتنا پیغام اللہ نے دیا ہے وہ بغیر کسی کمی بیشی کے تمہیں پہنچا رہا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اُبَلِّغُكُمْرِسٰؔلٰ٘تِرَبِّیْوَاَنَالَكُمْنَاصِحٌاَمِیْنٌ ﴾”میں پہنچاتا ہوں تم کو اپنے رب کے پیغام اور میں تمھارا خیرخواہ ہوں، اعتماد کے لائق“ پس تم پر فرض ہے کہ تم میری رسالت کو مانتے ہوئے اور بندوں کے رب کی اطاعت کرتے ہوئے اسے قبول کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أبلِّغُكم رسالاتِ ربِّي وأنا لكم ناصحٌ أمين}: فالواجب عليكم أن تتلقَّوا ذلك بالقبول والانقياد وطاعة رب العباد.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔