تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ ……: } شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یعنی کافر راہ دیکھتے ہیں کہ اس کتاب میں خبر ہے عذاب کی۔ ہم دیکھ لیں کہ ٹھیک پڑے (درست نکلے) تب قبول کر لیں۔ سو جب ٹھیک پڑے گی تو خلاصی کہاں ملے گی۔ خبر اس لیے ہے کہ آگے (پہلے) سے بچاؤ پکڑیں۔“ (موضح) یعنی جس انجام کے یہ منتظر تھے اس کے سامنے آ جانے کے بعد حق کا اعتراف یا دوبارہ دنیا میں بھیجے جانے کی آرزو اور کسی سفارشی کی تلاش، یہ سب چیزیں بے فائدہ ہوں گی، وہ معبود بھی ان سے گم ہو جائیں گے جن کی وہ اﷲ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے، وہ ان کی مدد کر سکیں گے نہ سفارش اور نہ جہنم کے عذاب سے چھڑا سکیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے «الرٰ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ» ۱؎ [11-هود:1] ’ اس قرآن کی آیتیں مضبوط اور تفصیل وار ہیں۔ ‘
اس کی جو تفصیل ہے، وہ بھی علم پر ہے۔ جیسے فرمان ہے «أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ» ۱؎ [4-النساء:166] ’ اسے اپنے علم کے ساتھ اتارا ہے۔ ‘
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ آیت اسی آیت پر جاتی ہے، جس میں فرمان ہے «كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:2] ’ یہ کتاب تیری طرف نازل فرمائی گئی ہے۔ پس اس سے تیرے سینے میں کوئی حرج نہ ہونا چاہیئے۔ ‘
یہاں فرمایا «وَلَقَدْ جِئْنَاهُم بِكِتَابٍ فَصَّلْنَاهُ عَلَىٰ عِلْمٍ هُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» لیکن یہ محل نظر ہے اس لیے کہ فاصلہ بہت ہے اور یہ قول بے دلیل ہے۔ درحقیقت جب ان کے اس خسارے کا ذکر ہوا جو انہیں آخرت میں ہو گا تو بیان فرمایا کہ دنیا میں ہی ہم نے تو اپنا پیغام پہنچا دیا تھا۔ رسول بھی، کتاب بھی۔
جیسے ارشاد ہے کہ ”جب تک ہم رسول نہ بھیج دیں، عذاب نہیں کرتے۔“ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا: ”انہیں تو اب جنت دوزخ کے اپنے سامنے آنے کا انتظار ہے۔“
یا یہ مطلب کہ اس کی حقیقت یکے بعد دیگرے روشن ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ آخری حقیقت یعنی جنت دوزخ ہی سامنے آ جائیں گی اور ہر ایک اپنے لائق مقام میں پہنچ جائے گا۔ قیامت والے دن یہ واقعات رونما ہو جائیں گے۔ اب جو سن رہے ہیں، اس وقت دیکھ لیں گے۔ اس وقت اسے فراموش کر کے بیٹھ رہنے والے عمل سے کورے لوگ مان لیں گے کہ بیشک اللہ کے انبیاء علیہم السلام سچے تھے، رب کی کتابیں برحق تھیں۔ کاش اب کوئی ہمارا سفارشی کھڑا ہو اور ہمیں اس ہلاکت سے نجات دلائے یا ایسا ہو کہ ہم پھر سے دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں تو جو کام کئے تھے اب ان کے خلاف کریں۔
انہوں نے آپ ہی اپنا برا کیا۔ اللہ کے سوا اوروں سے امیدیں رکھتے رہے۔ آج سب باطل ہو گئیں۔ نہ کوئی ان کا سفارشی، نہ حمایتی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهؤلاء الذين حقَّ عليهم العذاب لم يؤمنوا بهذا الكتاب العظيم ولا انقادوا لأوامره ونواهيه، فلم يبق فيهم حيلة إلاَّ استحقاقُهم أن يحلَّ بهم ما أخبر به القرآن، ولهذا قال: {هل ينظُرون إلا تأويلَه}؛ أي: وقوع ما أخبر به؛ كما قال يوسف عليه السلام حين وقعت رؤياه: {هذا تأويلُ رؤيايَ مِن قَبْلُ}. {يومَ يأتي تأويلُهُ يقول الذين نسوه من قبل}: متندِّمين متأسِّفين على ما مضى متشفِّعين في مغفرة ذنوبهم مقرِّين بما أخبرت به الرسل: {قد جاءت رُسُلُ ربِّنا بالحقِّ فهل لنا من شفعاءَ فيشفعوا لنا أو نُردُّ}: إلى الدنيا؛ {فنعملَ غير الذي كُنَّا نعملُ}: وقد فات الوقتُ عن الرُّجوع إلى الدنيا؛ فما تنفعُهم شفاعة الشافعين. وسؤالهم الرجوع إلى الدنيا ليعملوا غيرَ عملهم كذبٌ منهم، مقصودُهم به دفعُ ما حلَّ بهم؛ قال تعالى: {ولو رُدُّوا لَعادوا لِما نُهوا عنه وإنَّهم لَكاذبونَ}. {قد خسروا أنفسَهم}: حين فوَّتوها الأرباحَ وسَلَكوا بها سبيل الهلاك، وليس ذلك كخسران الأموال والأثاث أو الأولاد، إنما هذا خسرانٌ لا جُبْرانَ لمصابِهِ. {وضلَّ عنهم ما كانوا يفترونَ}: في الدُّنيا مما تُمَنِّيهم أنفسُهم به، ويعدُهم به الشيطان، قدموا على ما لم يكن لهم في حساب، وتبيَّن لهم باطلهم وضلالهم، وصدق ما جاءتهم به الرسل.