تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ:} آیت کا یہ جملہ قرآن میں چھ مقامات پر آیا ہے۔ساتوں جگہ سورۂ طہ (۵) میں «اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى» ہے۔ اس کے معنی عرش پر بلند ہونے کے ہیں۔ سلف صالحین نے بلا تاویل اﷲ تعالیٰ کو عرش پر تسلیم کیا ہے، چنانچہ منقول ہے کہ ”استواء“ کے معنی تو معلوم ہیں، مگر اس کی کیفیت ہماری عقل سے بالا ہے، اس کا اقرار عین ایمان ہے اور انکار کفر ہے۔ یہی مذہب چاروں اماموں کا ہے۔ پس صحیح عقیدہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ ساری مخلوق سے الگ عرش پر ہے، تاہم اس کا علم و قدرت سب پر حاوی ہے۔ اہل السنہ کا یہی عقیدہ ہے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا عرش آسمان و زمین پر محیط ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی)
➌ { يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا:} یعنی رات کے بعد دن تیزی سے پہنچ جاتا ہے، کوئی وقفہ نہیں ہوتا۔
➍ { مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ:} یعنی اﷲ تعالیٰ نے جو وقت اور راستہ ان کے لیے مقرر فرمایا ہے وہ اسی پر چلتے رہتے ہیں اور بال برابر اس سے ادھر ادھر نہیں ہوتے۔
➎ { اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ:} یعنی جس طرح خلق (پیدا کرنے) میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح حکم بھی اسی کا ہے، کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں، خواہ تکوینی حکم ہو جو ساری کائنات میں چلتا ہے، یا تشریعی، یعنی شریعت کا قانون جو اس نے اپنے بندوں کو ایک حد تک اختیار دے کر دیا ہے اور جس پر عمل کے مطابق جنت یا جہنم کی جزا یا سزا ملے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[55] یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کو پیدا کر کے عرش پر قرار پکڑنے کے بعد بیٹھ نہیں گیا جیسا کہ بعض دوسرے گمراہ فرقوں کا خیال ہے بلکہ وہ پوری کائنات پر اکیلا کنٹرول کر رہا ہے یہ سورج چاند ستارے اس کی مقرر کردہ چال کے مطابق اپنے اپنے کام پر لگے ہوئے ہیں اور اس کے حکم سے سر مو ادھر ادھر نہیں ہو سکتے اور کائنات میں جو کچھ تصرفات اور حوادث رونما ہو رہے ہیں سب اسی کے حکم اور اسی کی قدرت سے واقع ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سات دن تک پیدائش کا سلسلہ جاری رہا حالانکہ قرآن میں موجود ہے کہ چھ دن میں پیدائش ختم ہوئی۔ اسی وجہ سے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ زبردست حفاظ حدیث نے اس حدیث پر کلام کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ عبارت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار رحمہ اللہ سے لی ہے۔ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
فرمان ہے «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» ۱؎ [42-الشورى:11] ’ اس کے مثل کوئی نہیں اور وہ سننے، دیکھنے والا ہے۔ ‘
بلکہ حقیقت یہی ہے جو ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے فرمائی ہے۔ انہی میں سے نعیم بن حماد خزاعی رحمہ اللہ ہیں۔ آپ امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد ہیں۔ فرماتے ہیں: ”جو شخص اللہ کو مخلوق سے تشبیہ دے، وہ کافر ہے اور جو شخص اللہ کے اس وصف سے انکار کرے جو اس نے اپنی ذات پاک کیلئے بیان فرمایا ہے، وہ بھی کافر ہے۔“
خود اللہ تعالیٰ نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اوصاف ذات باری تعالیٰ جل شانہ کے بیان فرمائے ہیں، ان میں ہرگز تشبیہ نہیں۔ پس صحیح ہدایت کے راستے پر وہی ہے جو آثار صحیحہ اور اخبار صریحہ سے جو اوصاف رب العزت وحدہ لاشریک لہ کے ثابت ہیں، انہیں اسی طرح جانے۔ جو اللہ کی جلالت شان کے شایان ہے اور ہر عیب و نقصان سے اپنے رب کو پاک اور مبرا و منزہ سمجھے۔
جیسے فرمایا «وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» ۱؎ [36-يس:37-40] ’ ان کے سمجھنے کے لئے ہماری ایک نشانی رات ہے کہ اس میں سے ہم دن کو نکالتے ہیں جس سے یہ اندھیرے میں آ جاتے ہیں۔ سورج اپنے ٹھکانے کی طرف برابر جا رہا ہے۔ یہ ہے اندازہ اللہ کا مقرر کیا ہوا جو غالب اور باعلم ہے۔ ہم نے چاند کی بھی منزلیں ٹھہرا دی ہیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی ٹہنی جیسا ہو کر رہ جاتا ہے۔ نہ آفتاب ماہتاب سے آگے نکل سکتا ہے، نہ رات دن سے پہلے آ سکتی ہے۔ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں تیرتے پھرتے ہیں۔ رات دن میں کوئی فاصلہ نہیں، ایک کا جانا ہی دوسرے کا آ جانا ہے۔ ہر ایک دوسرے کے برابر پیچھے ہے۔ ‘
«وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ» ۱؎ [7-الأعراف:54] کو بعض نے پیش سے بھی پڑھا ہے۔ معنی مطلب دونوں صورتوں میں قریب قریب برابر ہے۔ یہ سب اللہ کے زیر فرمان، اس کے ماتحت اور اس کے ارادے میں ہیں۔ ملک اور تصرف اسی کا ہے۔ وہ برکتوں والا اور تمام جہان کا پالنے والا ہے۔
فرمان ہے «تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرً» ۱؎ [25-الفرقان:61]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { جس کسی نے کسی نیکی پر اللہ کی حمد نہ کی بلکہ اپنے نفس کو سراہا، اس نے کفر کیا اور اس کے اعمال غارت ہوئے اور جس نے یہ عقیدہ رکھا کہ اللہ نے کچھ اختیارات اپنے بندوں کو بھی دیئے ہیں، اس نے اس کے ساتھ کفر کیا جو اللہ نے اپنے نبیوں پر نازل فرمایا ہے کیونکہ اس کا فرمان ہے «اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ» } (ابن جریر) ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14784:ضعیف جداً]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مبيناً أنه الربُّ المعبود وحده لا شريك له: {إنَّ ربَّكم اللهُ الذي خَلَقَ السمواتِ والأرضَ}: وما فيهما على عظمهما وسعتهما وإحكامهما وإتقانهما وبديع خلقهما {في ستة أيام}: أولها يوم الأحد، وآخرها يوم الجمعة. فلما قضاهما وأودع فيهما من أمره ما أودع؛ {استوى}: تبارك وتعالى {على العرش}: العظيم الذي يسع السماوات والأرض وما فيهما وما بينهما؛ استوى استواءً يليق بجلاله وعظمته وسلطانه، فاستوى على العرش، واحتوى على الملك، ودبر الممالك، وأجرى عليهم أحكامه الكونيّة وأحكامه الدينيّة، ولهذا قال: {يُغْشي الليلَ}: المظلم {النهارَ}؛ المضيء، فيظلم ما على وجه الأرض، ويسكُن الآدميون، وتأوي المخلوقات إلى مساكنها، ويستريحون من التعب والذهاب والإياب الذي حصل لهم في النهار. {يطلُبُه حثيثاً}: كلَّما جاء الليل؛ ذهب النهار، وكلَّما جاء النهار؛ ذهب الليل ... وهكذا أبداً على الدوام حتى يطوي الله هذا العالم، وينتقل العباد إلى دار غير هذه الدار.
{والشمس والقمر والنجوم مسخرات بأمره}؛ أي: بتسخيره وتدبيره الدالِّ على ما له من أوصاف الكمال، فخلقها وعظمها دالٌّ على كمال قدرته، وما فيها من الإحكام والانتظام والإتقان دالٌّ على كمال حكمته، وما فيها من المنافع والمصالح الضروريَّة وما دونها دالٌّ على سعة رحمته، وذلك دال على سعة علمه، وأنه الإله الحقُّ الذي لا تنبغي العبادة إلا له. {ألا له الخَلْق والأمر}؛ أي: له الخلق الذي صدرت عنه جميع المخلوقات علويّها وسفليّها أعيانها وأوصافها وأفعالها والأمر المتضمن للشرائع والنبوات؛ فالخلق يتضمَّن أحكامه الكونيَّة القدريَّة، والأمر يتضمَّن أحكامه الدينيَّة الشرعيَّة، وثم أحكام الجزاء، وذلك يكون في دار البقاء. {تبارك الله}؛ أي: عَظُم وتعالى وكثر خيره وإحسانه، فتبارك في نفسه لعظمة أوصافه وكمالها، وبارك في غيره بإحلال الخير الجزيل والبر الكثير؛ فكل بركة في الكون فمن آثار رحمته، ولهذا قال: {تبارك الله ربُّ العالمين}.