وہ اس کے انجام کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟ جس دن اس کا انجام آ پہنچے گا تو وہ لوگ جنھوں نے اس سے پہلے اسے بھلا دیا تھا، کہیں گے یقینا ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے، تو کیا ہمارے لیے کوئی سفارش کرنے والے ہیں کہ وہ ہمارے لیے سفارش کریں، یا ہمیں واپس بھیجا جائے تو ہم اس کے بر خلاف عمل کریں جو ہم کیا کرتے تھے۔ بلاشبہ انھوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈالا اور ان سے گم ہوگیا جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔
En
کیا یہ لوگ اس کے وعدہٴ عذاب کے منتظر ہیں۔ جس دن وہ وعدہ آجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہوں گے وہ بول اٹھیں گے کہ بےشک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے۔ بھلا (آج) ہمارا کوئی سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں یا ہم (دنیا میں) پھر لوٹا دیئے جائیں کہ جو عمل (بد) ہم (پہلے) کرتے تھے (وہ نہ کریں بلکہ) ان کے سوا اور (نیک) عمل کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا
ان لوگوں کو اور کسی بات کا انتظار نہیں صرف اس کے اخیر نتیجہ کا انتظار ہے، جس روز اس کا اخیر نتیجہ پیش آئے گا اور اس روز جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے تھے یوں کہیں گے کہ واقعی ہمارے رب کے پیغمبر سچی سچی باتیں ﻻئے تھے، سو اب کیا کوئی ہمارا سفارشی ہے کہ وه ہماری سفارش کردے یا کیا ہم پھر واپس بھیجے جاسکتے ہیں تاکہ ہم لوگ ان اعمال کے، جن کو ہم کیا کرتے تھے برخلاف دوسرے اعمال کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنے آپ کو خساره میں ڈال دیا اور یہ جو جو باتیں تراشتے تھے سب گم ہوگئیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
وہ لوگ جو عذاب کے مستحق ٹھہرے، وہ اس عظیم کتاب پر ایمان نہ لائے تھے اور انھوں نے اس کے اوامر و منہیات کے احکام کی تعمیل نہیں کی تھی اب ان کے لیے کوئی چارہ سوائے اس کے نہیں رہا کہ وہ اس عذاب کے مستحق ہوں اور وہ عذاب ان پر ٹوٹ پڑے جس کے بارے میں قرآن نے آگاہ فرمایا تھا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ هَلْیَنْظُ٘رُوْنَاِلَّاتَاْوِیْلَهٗ ﴾”کیا اب وہ اسی کے منتظر ہیں کہ اس کا مضمون ظاہر ہو جائے“ یعنی کیا وہ اس امر کے واقع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں جس کی خبر دی گئی ہے، جیسا کہ جناب یوسف علیہ السلام نے اس وقت فرمایا تھا جب ان کا خواب سچا ہوگیا ﴿هٰؔذَاتَاْوِیْلُرُءْیَ٘ایَمِنْقَبْلُ﴾ (یوسف: 12؍100) ”یہ حقیقت ہے میرے خواب کی جو اس سے قبل میں نے دیکھا“ فرمایا: ﴿یَوْمَیَ٘اْتِیْتَاْوِیْلُهٗیَقُوْلُالَّذِیْنَنَسُوْهُمِنْقَبْلُ ﴾”جس دن ظاہر ہو جائے گا اس کا مضمون، کہنے لگیں گے وہ لوگ جو اس کو بھول رہے تھے پہلے سے“ یعنی جو کچھ بیت گیا ہے اس پر ندامت اور تاسف کا اظہار کرتے ہوئے، اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے سفارش تلاش کرتے ہوئے اور اس چیز کا اقرار کر کے جسے لے کر انبیا و مرسلین مبعوث ہوئے۔ کہیں گے ﴿ قَدْجَآءَؔتْرُسُلُرَبِّنَابِالْحَقِّ١ۚفَهَلْلَّنَامِنْشُفَعَآءَؔفَیَشْفَعُوْالَنَاۤاَوْنُرَدُّ ﴾”بے شک لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات، سو اب کوئی ہماری سفارش کرنے والے ہیں تو ہماری سفارش کریں یا ہم لوٹا دیے جائیں “﴿ فَنَعْمَلَغَیْرَالَّذِیْكُنَّانَعْمَلُ ﴾”تو ہم عمل کریں خلاف اس کے جو ہم کر رہے تھے“ حالانکہ دنیا کی طرف واپس لوٹنے کا وقت گزر چکا ہے ﴿ فَمَاتَنْفَعُهُمْشَفَاعَةُالشّٰفِعِیْنَ﴾ (المدثر: 74؍48) ”پس سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔“ان کی دنیا میں واپس لوٹنے کی التجا تاکہ وہ نیک عمل کر سکیں، محض جھوٹ ہے ان کا مقصد تو محض اس عذاب کو دور کرنا ہے جو ان پر وارد ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوْرُدُّوْالَعَادُوْالِمَانُهُوْاعَنْهُوَاِنَّهُمْلَكٰذِبُوْنَ ﴾ (الانعام: 6؍28) ”اگر انھیں دنیا میں دوبارہ بھیج بھی دیا جائے تو یہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو روکا گیا ہے۔ بے شک یہ جھوٹے ہیں “۔
﴿ قَدْخَسِرُوْۤااَنْفُسَهُمْ ﴾”بے شک نقصان میں ڈالا انھوں نے اپنے آپ کو“ جبکہ وہ منافع سے محروم ہوگئے اور ہلاکت کی راہوں پر جا نکلے۔ یہ خسارہ مال اور اثاثوں یا اولاد کا خسارہ نہیں بلکہ یہ تو ایسا خسارہ ہے کہ متاثرین کے لیے اس کی کوئی تلافی ہی نہیں۔ ﴿ وَضَلَّعَنْهُمْمَّاكَانُوْایَفْتَرُوْنَ ﴾”اور گم ہو جائے گا ان سے جو وہ افتراء کیا کرتے تھے“ یعنی دنیا میں اپنی خواہشات نفس اور شیطان کے وعدوں کے مطابق بہتان طرازی کیا کرتے تھے اور اب ان کے سامنے وہ کچھ آگیا جو ان کے کسی حساب میں ہی نہ تھا۔ ان کے سامنے ان کا باطل اور گمراہی اور انبیا و مرسلین علیہم السلام کی صداقت روز روشن کی طرح واضح ہوگئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهؤلاء الذين حقَّ عليهم العذاب لم يؤمنوا بهذا الكتاب العظيم ولا انقادوا لأوامره ونواهيه، فلم يبق فيهم حيلة إلاَّ استحقاقُهم أن يحلَّ بهم ما أخبر به القرآن، ولهذا قال: {هل ينظُرون إلا تأويلَه}؛ أي: وقوع ما أخبر به؛ كما قال يوسف عليه السلام حين وقعت رؤياه: {هذا تأويلُ رؤيايَ مِن قَبْلُ}. {يومَ يأتي تأويلُهُ يقول الذين نسوه من قبل}: متندِّمين متأسِّفين على ما مضى متشفِّعين في مغفرة ذنوبهم مقرِّين بما أخبرت به الرسل: {قد جاءت رُسُلُ ربِّنا بالحقِّ فهل لنا من شفعاءَ فيشفعوا لنا أو نُردُّ}: إلى الدنيا؛ {فنعملَ غير الذي كُنَّا نعملُ}: وقد فات الوقتُ عن الرُّجوع إلى الدنيا؛ فما تنفعُهم شفاعة الشافعين. وسؤالهم الرجوع إلى الدنيا ليعملوا غيرَ عملهم كذبٌ منهم، مقصودُهم به دفعُ ما حلَّ بهم؛ قال تعالى: {ولو رُدُّوا لَعادوا لِما نُهوا عنه وإنَّهم لَكاذبونَ}. {قد خسروا أنفسَهم}: حين فوَّتوها الأرباحَ وسَلَكوا بها سبيل الهلاك، وليس ذلك كخسران الأموال والأثاث أو الأولاد، إنما هذا خسرانٌ لا جُبْرانَ لمصابِهِ. {وضلَّ عنهم ما كانوا يفترونَ}: في الدُّنيا مما تُمَنِّيهم أنفسُهم به، ويعدُهم به الشيطان، قدموا على ما لم يكن لهم في حساب، وتبيَّن لهم باطلهم وضلالهم، وصدق ما جاءتهم به الرسل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔