تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
دنیا میں اگر ان کے درمیان کوئی بغض تھا تو وہ صاف ہونے کے بعد جنت میں داخلہ ہوں گے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن آگ سے بچ کر نکلیں گے تو انھیں جنت اور آگ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا، پھر وہ ایک دوسرے سے ان زیادتیوں کا قصاص لیں گے جو دنیا میں ان سے ہوئیں یہاں تک کہ جب وہ تراش خراش کروا کر بالکل صاف ستھرے ہو جائیں گے تو انھیں جنت میں داخلے کی اجازت ملے گی۔“ [بخاری، المظالم، باب قصاص المظالم: ۶۵۳۵، عن أبی سعید الخدری رضی اللہ عنہ] سینوں میں موجود کینے میں صحابہ کرام اور تابعین عظام کی باہمی رنجشیں بھی شامل ہیں، جو دنیا میں سیاسی یا دوسری وجوہات کی بنا پر پیدا ہوئیں۔
➋ { وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هَدٰىنَا ……:} یعنی یہ ہدایت جس سے ہمیں ایمان اور عمل صالح کی توفیق عطا ہوئی، پھر انھیں قبولیت کا شرف حاصل ہوا، یہ اﷲ تعالیٰ کی خاص رحمت اور اس کا فضل ہے، اگر یہ نہ ہوتا تو ہم یہاں تک نہ پہنچ پاتے۔
➌ {اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ:} یہ باء سببیہ ہے، باء عوض نہیں، یعنی اﷲ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ یہ جنت میرے فضل سے تمھارے کسی عوض یا قیمت اداکیے بغیر تمھیں بطور ہبہ دی جا رہی ہے، جیسا کہ میراث بغیر کسی عوض کے دی جاتی ہے اور تمھاری اس عزت افزائی کا سبب دنیا میں تمھارے اعمال صالحہ ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”تم میں سے کسی کو اس کا عمل جنت میں ہر گز داخل نہیں کرے گا۔“ لوگوں نے کہا: ”یا رسول اﷲ! آپ کو بھی نہیں؟“ فرمایا: ”نہیں، مجھے بھی نہیں، مگر یہ کہ اﷲ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے۔“ [بخاری، الرقاق، باب القصد والمداومۃ علی العمل: ۶۴۶۳، ۶۴۶۴] آیت سے معلوم ہوا کہ اﷲ کی رحمت انسانی اعمال کی بنیاد پر ہو گی، یعنی اس کے اعمال صالحہ ہی رحمت کا سبب بنیں گے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ مثلاً زید بکر پر کوئی احسان کرتا ہے اب بکر کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ بھی کسی وقت اس کے اس احسان کا بدلہ دے اور اگر وہ اس پوزیشن میں نہیں تو کم از کم اس کا شکریہ ہی ادا کر دے اور اگر دونوں کام کرے تو اور بھی اچھی بات ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص لوگوں ہی کا شکریہ ادا نہیں کرتا (جن کا احسان اسے محسوس بھی ہو رہا ہے) تو وہ اللہ کا کیا شکر ادا کرے گا۔ [ترمذي۔ ابواب البروالصله، باب فى الشكر لمن احسن اليك] دوسری طرف زید (احسان کرنے والے) کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ بکر سے نہ کسی بدلہ احسان کی توقع رکھے اور نہ شکریے کی۔ [76: 9]
«إلا أن يتغمدني الله برحمة»
[بخاري۔ كتاب الرقاق، باب القصد و المداومة على العمل]
”اِلا یہ کہ اللہ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے۔“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر فرمان ہے کہ ایمان اور نیکیاں انسان کے بس میں ہیں، اللہ کے احکام انسانی طاقت سے زیادہ نہیں ہیں۔ ایسے لوگ جنتی ہیں اور ہمیشہ جنت میں ہی رہیں گے۔
چنانچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { مومن آگ سے چھٹکارا حاصل کر کے جنت و دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک دیئے جائیں گے، وہاں ان کے آپس کے مظالم کا بدلہ ہو جائے گا اور پاک ہو کر جنت میں جانے کی اجازت پائیں گے۔ واللہ! وہ لوگ اپنے اپنے درجوں کو اور مکانوں کو اس طرح پہچان لیں گے جیسے دنیا میں جان لیتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2440]
سدی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اہل جنت دروازہ جنت پر ایک درخت دیکھیں گے جس کی جڑوں کے پاس سے دو نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ ان میں سے ایک کا پانی پئیں گے جس سے دلوں کی کدورتیں دھل جائیں گی، یہ شراب طہور ہے۔ پھر دوسری نہر میں غسل کریں گے جس سے چہروں پر تروتازگی آ جائے گی۔ پھر نہ تو بال بکھریں، نہ سرمہ لگانے اور سنگھار کرنے کی ضرورت پڑے۔
آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ ان شاءاللہ میں اور عثمان رضی اللہ عنہ اور طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے دل اللہ تعالیٰ صاف کر دے گا۔
فرماتے ہیں کہ ہم اہل بدر کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔
ابن مردویہ میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { ہر جنتی کو اپنا جہنم کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ وہ اور بھی شکر کرے اور وہ کہے گا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ہدایت عنایت فرمائی اور ہر جہنمی کو اس کا جنت کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ اس کی حسرت بڑھے۔ اس وقت وہ کہے گا: کاش کہ میں بھی راہ یافتہ ہوتا۔ } ۱؎ [مسند احمد:512/2:صحیح]
پھر جنتیوں کو ان جہنمیوں کی جنت کی جگہیں دے دی جائیں گی اور ایک منادی ندا کرے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کے تم بہ سبب اپنی نیکیوں کے وارث بنا دیئے گئے یعنی تمہارے اعمال کی وجہ سے تمہیں رحمت رب ملی اور رحمت رب سے تم داخل جنت ہوئے۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یاد رکھو! تم میں سے کوئی بھی صرف اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں نہیں جا سکتا۔ لوگوں نے پوچھا: آپ بھی نہیں؟ فرمایا: ہاں! میں بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت و فضل میں ڈھانپ لے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5673]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ونزعنا ما في صُدورهم من غِلٍّ}: وهذا من كرمه وإحسانِهِ على أهل الجنة؛ أنَّ الغلَّ الذي كان موجوداً في قلوبهم والتنافس الذي بينهم أن الله يقلعه ويزيله حتى يكونوا إخواناً متحابِّين وأخلاَّء متصافين؛ قال تعالى: {ونزعنا ما في صدورهم من غلٍّ إخواناً على سُرُرٍ متقابلينَ}، ويخلُقُ الله لهم من الكرامة ما به يحصُلُ لكلِّ واحد منهم الغِبْطَةَ والسرور، ويرى أنه لا فوق ما هو فيه من النعيم نعيمٌ؛ فبهذا يأمنون من التحاسد والتباغض؛ لأنه قد فقدت أسبابه. [و] قوله: {تجري من تحتهم الأنهار}؛ أي: يفجِّرونها تفجيراً حيث شاؤوا وأين أرادوا، إن شاؤوا في خلال القصور أو في تلك الغرف العاليات أو في رياض الجنات من تحت تلك الحدائق الزاهرات، أنهار تجري في غير أخدود، وخيراتٌ ليس لها حدٌّ محدودٌ. {و} لهذا لما رأوا ما أنعم الله عليهم وأكرمهم به؛ {قالوا الحمدُ لله الذي هدانا لهذا}: بأن منَّ علينا وأوحى إلى قلوبنا فآمنت به وانقادتْ للأعمال الموصلةِ إلى هذه الدار، وحفظ الله علينا إيماننا وأعمالَنا حتى أوصَلَنا بها إلى هذه الدار، فنعم الربُّ الكريم الذي ابتدأنا بالنعم، وأسدى من النعم الظاهرة والباطنة ما لا يحصيه المحصون ولا يعدُّه العادُّون. {وما كنَّا لنهتديَ لولا أن هدانا الله}؛ أي: ليس في نفوسنا قابليةٌ للهدى، لولا أنَّه تعالى منَّ بهدايته واتِّباع رسله، {لقد جاءت رسُلُ ربِّنا بالحق}؛ أي: حين كانوا يتمتَّعون بالنعيم الذي أخبرت به الرسل وصار حقَّ يقينٍ لهم بعد أن كان علم يقينٍ لهم قالوا: لقد تحقَّقنا ورأينا ما وعدتنا به الرسلُ وأنَّ جميع ما جاؤوا به حقُّ اليقين لامِرْيَةَ فيه ولا إشكال. {ونودوا}: تهنئةً لهم وإكراماً وتحية واحتراماً {أن تِلْكُمُ الجنة أورثتموها}؛ أي: كنتم الوارثين لها، وصارت إقطاعاً لكم إذ كان إقطاع الكفار النار، أورثتموها {بما كنتم تعملونَ}: قال بعضُ السلف: أهل الجنة نَجَوْا من النار بعفو الله، وأدخلوا الجنة برحمة الله، واقتسموا المنازل، وورثوها بالأعمال الصالحة، وهي من رحمته، بل من أعلى أنواع رحمته.