تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«ان» یہاں پر مفسرہ ہے قول محذوف کا اور «قد» تحقیق کے لئے ہے۔
اس کے جواب میں مشرکین ندامت سے کہیں گے کہ ہاں! ہم نے بھی اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے تھے ٹھیک پایا۔ جیسا سورۃ الصافات میں فرمان ہے کہ ’ اہل جنت میں سے ایک کہے گا کہ میرا ساتھی تھا جو مجھ سے تعجب کے ساتھ سوال کیا کرتا تھا کہ کیا تو بھی ان لوگوں میں سے ہے جو قیامت کے قائل ہیں؟ جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیاں ہو کر رہ جائیں گے، کیا واقعی ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے؟ اور ہمیں بدلے دیئے جائیں گے؟ یہ جنتی کہے گا کہ کیا تم بھی میرے ساتھ ہو کر اسے جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟ یہ کہہ کر وہ اوپر سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے اس ساتھی کو بیچ جہنم میں پائے گا۔ کہے گا: قسم اللہ کی! تو تو مجھے بھی تباہ کرنے ہی کو تھا، اگر میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو میں بھی آج گرفتار عذاب ہوتا۔ ‘ ۱؎ [37-الصافات:51-57]
اب بتاؤ! دنیا میں جو کہا کرتا تھا، کیا سچا تھا کہ ہم مر کر جینے والے اور بدلہ بھگتنے والے ہی نہیں؟ اس وقت فرشتے کہیں گے: یہی وہ جہنم ہے جسے تم جھوٹا مان رہے تھے۔ اب بتاؤ! کیا یہ جادو ہے؟ یا تمہاری آنکھیں نہیں ہیں؟ اب یہاں پڑے جلتے بھنتے رہو۔ صبر اور بے صبری دونوں نتیجے کے اعتبار سے تمہارے لیے یکساں ہے۔ تمہیں اپنے کئے کا بدلہ پانا ہی ہے۔
اسی طرح { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار قریش کے ان مقتولوں کو جو بدر میں کام آئے تھے اور جن کی لاشیں ایک کھائی میں تھیں، ڈانٹا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ اے ابوجہل بن ہشام، اے عتبہ بن ربیعہ، اے شیبہ بن ربیعہ! اور دوسرے سرداروں کا بھی نام لیا اور فرمایا: کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا؟ میں نے تو اپنے رب کے وہ وعدے دیکھ لیے جو اس نے مجھ سے کئے تھے۔
پھر فرماتا ہے کہ اسی وقت ایک منادی ندا کر کے معلوم کرا دے گا کہ ظالموں پر رب کی ابدی لعنت واقع ہو چکی۔ جو لوگوں کو راہ حق اور شریعت ہدیٰ سے روکتے تھے اور چاہتے تھے کہ اللہ کی شریعت ٹیڑھی کر دیں تاکہ اس پر کوئی عمل نہ کرے۔ آخرت پر بھی انہیں یقین نہ تھا، اللہ کی ملاقات کو نہیں مانتے تھے اسی لیے بےپرواہی سے برائیاں کرتے تھے۔ حساب کا ڈر نہ تھا، اس لیے سب سے زیادہ بدزبان اور بداعمال تھے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى بعد ما ذكر استقرار كلٍّ من الفريقين في الدارين ووجدا ما أخبرت به الرُّسل ونطقتْ به الكتبُ من الثواب والعقاب: إن أهل الجنة نادوا أصحاب النار بأن قالوا: {أن قد وَجَدْنا ما وَعَدَنا ربُّنا حقًّا}: حين وعدنا على الإيمان والعمل الصالح الجنة، فأدخلناها وأرانا ما وصفه لنا، {فهل وجدتُم ما وعدكم ربكم}: على الكفر والمعاصي {حقًّا قالوا نعم}: قد وجدناه حقًّا، فتبين للخلق كلِّهم بياناً لا شكَّ فيه صدق وعد الله، ومن أصدق من الله قيلاً، وذهبت عنهم الشكوك والشبه، وصار الأمر حقَّ اليقين، وفرح المؤمنون بوعد الله واغتبطوا، وأيس الكفار من الخير، وأقروا على أنفسهم بأنهم مستحقون للعذاب. {فأذَّن مؤذنٌ بينهم}؛ أي: بين أهل النار وأهل الجنة بأن قال: {أن لعنةُ الله}؛ أي: بعده وإقصاؤه عن كل خير {على الظالمين}: إذ فتح الله لهم أبوابَ رحمتِهِ، فصدَفوا أنفسهم عنها ظلماً وصدُّوا عن سبيل الله بأنفسهم وصدُّوا غيرهم فضلُّوا وأضلُّوا. والله تعالى يريد أن تكون مستقيمةً ويعتدل سير السالكين إليه، وهؤلاء يريدونها {عِوَجاً}: منحرفةً صادةً عن سواء السبيل. {وهم بالآخرة كافرونَ}: وهذا الذي أوجب لهم الانحرافَ عن الصراط والإقبالَ على شهوات النفوس المحرَّمة عدمُ إيمانهم بالبعث، وعدم خوفهم من العقاب ورجائهم للثواب.
ومفهوم هذا [النداء] أن رحمة الله على المؤمنين، وبرَّه شاملٌ لهم، وإحسانه متواترٌ عليهم.