ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 44

وَ نَادٰۤی اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ اَصۡحٰبَ النَّارِ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَہَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّکُمۡ حَقًّا ؕ قَالُوۡا نَعَمۡ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیۡنَہُمۡ اَنۡ لَّعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾
اور جنت والے آگ والوں کو آواز دیں گے کہ ہم نے تو واقعی وہ وعدہ سچا پالیا ہے جو ہم سے ہمارے رب نے کیا تھا، تو کیا تم نے وہ وعدہ سچا پا لیا جو تمھارے رب نے تم سے کیا تھا؟ وہ کہیں گے ہاں! پھر ان کے درمیان ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ En
اور اہل بہشت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے پروردگار نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچا پالیا۔ بھلا جو وعدہ تمہارے پروردگار نے تم سے کیا تھا تم نے بھی اسے سچا پایا؟ وہ کہیں گے ہاں تو (اس وقت) ان میں ایک پکارنے والا پکارے گا کہ بےانصافوں پر خدا کی لعنت
En
اور اہل جنت اہل دوزخ کو پکاریں گے کہ ہم سے جو ہمارے رب نے وعده فرمایا تھا ہم نے تو اس کو واقعہ کے مطابق پایا، سو تم سے جو تمہارے رب نے وعده کیا تھا تم نے بھی اس کو واقعہ کے مطابق پایا وه کہیں گے ہاں، پھر ایک پکارنے واﻻ دونوں کے درمیان میں پکارے گا کہ اللہ کی مار ہو ان ﻇالموں پر En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 44) {وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ……:} جنتی جہنمیوں کی حسرت و ندامت بڑھانے کے لیے اور اپنے دل کو ٹھنڈا کرنے اور انتقام لینے کے لیے ان سے یہ باتیں کہیں گے: «فَالْيَوْمَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُوْنَ(34)عَلَى الْاَرَآىِٕكِ يَنْظُرُوْنَ(35)هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ» ‏‏‏‏ [المطففین: ۳۴ تا ۳۶] سو آج وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہیں، تختوں پر (بیٹھے) نظارہ کر رہے ہیں، کیا کافروں کو اس کا بدلہ دیا گیا جو وہ کیا کرتے تھے؟ بالکل یہی الفاظ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے مشرک مقتولین سے کہے تھے، چنانچہ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن قریش کے چوبیس سرداروں کے متعلق حکم دیا، تو انھیں بدر کے ایک نہایت گندے کنویں میں پھینک دیا گیا۔ تیسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار ہو کر اس کی طرف چلے، کنویں کے کنارے پر جا کھڑے ہوئے، آپ کے صحابہ بھی ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایک ایک کا نام لے کر پکارنا شروع کیا: اے فلاں بن فلاں! اے فلاں بن فلاں! کیا تمھیں پسند ہے کہ تم نے اﷲ اور اس کے رسول کی بات مانی ہوتی؟ کیونکہ ہم نے تو جو ہمارے رب نے ہم سے وعدہ کیا سچا پا لیا، تو کیا تم نے بھی جو وعدہ تمھارے رب نے کیا تھا سچا پا لیا؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ایسی لاشوں سے بات کر رہے ہیں جن میں جان ہی نہیں۔ فرمایا: تم ان سے زیادہ وہ بات نہیں سن رہے جو میں انھیں کہہ رہا ہوں۔ قتادہ نے کہا کہ اﷲ نے انھیں زندگی دی، یہاں تک کہ انھیں آپ کی بات ڈانٹنے، ذلیل کرنے، انتقام اور حسرت و ندامت کے لیے سنوا دی۔ [بخاری، المغازی، باب قتل أبی جہل: ۳۹۷۶]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

44۔ 1 یہی بات نبی نے جنگ بدر میں جو کافر مارے گئے تھے اور ان کی لاشیں ایک کنوئیں میں پھینک دی گئیں تھیں۔ انہیں خطاب کرتے ہوئے کہی تھی، جس پر حضرت عمر نے کہا تھا ' آپ ایسے لوگوں سے خطاب فرما رہے ہیں جو ہلاک ہوچکے ہیں ' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم، میں انہیں جو کچھ کہ رہا ہوں، وہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں، لیکن اب وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے (صحیح مسلم)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

44۔ اور اہل جنت دوزخیوں کو پکار کر پوچھیں گے: ”ہم نے تو ان وعدوں کو سچا پا لیا ہے جو ہم سے ہمارے پروردگار نے کیے تھے کیا تم سے تمہارے پروردگار نے جو وعدے کیے تھے تم نے بھی انہیں سچا پایا؟“ وہ جواب [43۔ 1] دیں گے ”ہاں! (ہم نے بھی سچا پایا)“ پھر ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ”ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو
[43۔ 1] جنت اور دوزخ میں اتنا زیادہ فاصلہ ہو گا جس کا ہمارے لیے اس دنیا میں تصور بھی ممکن نہیں اور قرآن کی اس آیت اور بعض دوسری آیات سے اہل جنت اور اہل دوزخ کا مکالمہ بھی ثابت ہے۔ جس سے کئی باتوں کا پتہ چلتا ہے مثلاً ایک یہ کہ اس دوسری زندگی میں لوگوں کو جو سمعی اور بصری قوتیں عطا کی جائیں گی وہ موجودہ زندگی سے بہت زیادہ قوی ہوں گی۔ دوسرے وہاں کا مواصلاتی نظام بھی موجودہ دنیا کے نظام سے بہت زیادہ سریع التاثیر ہو گا۔ موجودہ دور میں ہم ٹیلی ویژن پر دنیا کے دور دراز ملکوں کے لوگوں کے مکالمات سن بھی سکتے ہیں اور انہیں دیکھ بھی سکتے ہیں اور اس دوسری زندگی میں یہ ہو گا کہ اہل جنت میں سے اگر کسی کو اپنے ان ساتھیوں کا خیال آیا جو کافر اور دوزخ کے مستحق تھے اور وہ ان سے کلام کرنا چاہے گا تو ان کی اور ان کے احوال و ظروف کی تصویر ہی سامنے نہیں آئے گی بلکہ وہ اپنے اپنے مقام پر بیٹھے ہوئے ایک دوسرے سے گفتگو بھی کر سکیں گے۔ یہ سورۃ مکی ہے اور اس مقام پر جن اہل دوزخ کا ذکر آیا ہے اس سے مراد غالباً وہی لوگ ہیں جو مسلمانوں کو حقیر مخلوق سمجھتے تھے اور ان کے متعلق قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ ایسے لوگ کبھی اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے مستحق نہیں ہو سکتے ایسے ہی ناتواں اور نادار مسلمان جنت میں آرام پانے کے بعد اپنے ان متکبر ساتھیوں سے ہم کلام ہونا چاہیں گے جو انہیں حقیر سمجھا کرتے تھے۔ پھر ان میں وہی گفتگو ہو گی جو اس آیت میں مذکور ہے اور یہ مکالمہ ایسے لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے اور اس دنیا میں حسرت و یاس بڑھانے کے لیے یہاں مذکور ہوا ہے اور ایسے ظالموں پر اس دنیا میں بھی لعنت ہے اور اس جہان میں بھی لعنت ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جنتیوں اور دوزخیوں میں مکالمہ ٭٭
جنتی جب جنت میں جا کر امن چین سے بیٹھ جائیں گے تو دوزخیوں کو شرمندہ کرنے کے لئے ان سے دریافت فرمائیں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے کئے گئے تھے، صحیح پایا۔ تم اپنی کہو!
«ان» یہاں پر مفسرہ ہے قول محذوف کا اور «قد» تحقیق کے لئے ہے۔
اس کے جواب میں مشرکین ندامت سے کہیں گے کہ ہاں! ہم نے بھی اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے تھے ٹھیک پایا۔ جیسا سورۃ الصافات میں فرمان ہے کہ ’ اہل جنت میں سے ایک کہے گا کہ میرا ساتھی تھا جو مجھ سے تعجب کے ساتھ سوال کیا کرتا تھا کہ کیا تو بھی ان لوگوں میں سے ہے جو قیامت کے قائل ہیں؟ جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیاں ہو کر رہ جائیں گے، کیا واقعی ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے؟ اور ہمیں بدلے دیئے جائیں گے؟ یہ جنتی کہے گا کہ کیا تم بھی میرے ساتھ ہو کر اسے جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟ یہ کہہ کر وہ اوپر سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے اس ساتھی کو بیچ جہنم میں پائے گا۔ کہے گا: قسم اللہ کی! تو تو مجھے بھی تباہ کرنے ہی کو تھا، اگر میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو میں بھی آج گرفتار عذاب ہوتا۔ ‘ ۱؎ [37-الصافات:51-57]‏‏‏‏
اب بتاؤ! دنیا میں جو کہا کرتا تھا، کیا سچا تھا کہ ہم مر کر جینے والے اور بدلہ بھگتنے والے ہی نہیں؟ اس وقت فرشتے کہیں گے: یہی وہ جہنم ہے جسے تم جھوٹا مان رہے تھے۔ اب بتاؤ! کیا یہ جادو ہے؟ یا تمہاری آنکھیں نہیں ہیں؟ اب یہاں پڑے جلتے بھنتے رہو۔ صبر اور بے صبری دونوں نتیجے کے اعتبار سے تمہارے لیے یکساں ہے۔ تمہیں اپنے کئے کا بدلہ پانا ہی ہے۔
اسی طرح { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار قریش کے ان مقتولوں کو جو بدر میں کام آئے تھے اور جن کی لاشیں ایک کھائی میں تھیں، ڈانٹا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ اے ابوجہل بن ہشام، اے عتبہ بن ربیعہ، اے شیبہ بن ربیعہ! اور دوسرے سرداروں کا بھی نام لیا اور فرمایا: کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا؟ میں نے تو اپنے رب کے وہ وعدے دیکھ لیے جو اس نے مجھ سے کئے تھے۔
{ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان سے باتیں کر رہے ہیں جو مر کر مردار ہو گئے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میری بات کو تم بھی ان سے زیادہ نہیں سن رہے لیکن وہ جواب نہیں دے سکتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3976]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے کہ اسی وقت ایک منادی ندا کر کے معلوم کرا دے گا کہ ظالموں پر رب کی ابدی لعنت واقع ہو چکی۔ جو لوگوں کو راہ حق اور شریعت ہدیٰ سے روکتے تھے اور چاہتے تھے کہ اللہ کی شریعت ٹیڑھی کر دیں تاکہ اس پر کوئی عمل نہ کرے۔ آخرت پر بھی انہیں یقین نہ تھا، اللہ کی ملاقات کو نہیں مانتے تھے اسی لیے بےپرواہی سے برائیاں کرتے تھے۔ حساب کا ڈر نہ تھا، اس لیے سب سے زیادہ بدزبان اور بداعمال تھے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ، یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اہل ایمان اور کفار جنت اور جہنم میں اپنے اپنے ٹھکانوں میں داخل ہو جائیں گے اور وہاں سب کچھ ویسا ہی پائیں گے جیسا انبیا و رسل نے ان کو خبر دی تھی اور جیسا کہ ثواب و عقاب کے بارے میں انبیا کی لائی ہوئی کتابوں میں تحریر تھا، فرماتا ہے کہ اہل جنت جہنمیوں کو پکار کر کہیں گے ﴿ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا کہ جو وعدہ ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچاپالیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے اور نیک عمل کرنے پر جنت کا وعدہ کیا تو ہم نے اس کے وعدہ کو سچا پایا، اس نے ہمیں جنت میں داخل کر دیا ہم نے وہاں وہ سب کچھ دیکھا جو اس نے ہمارے لیے بیان کیا تھا ﴿ فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا بھلا جو وعدہ تمھارے رب نے تم سے کیا تھا، کیا تم نے بھی اسے سچا پایا؟ یعنی تمھارے کفر اور معاصی پر تمھارے رب نے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے سچا پایا؟
﴿ قَالُوْا نَعَمْ وہ کہیں گے، ہاں! ہم نے اسے سچ پایا۔ پس تمام مخلوق کے سامنے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی بات سے زیادہ کس کی بات سچی ہو سکتی ہے؟ تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں گے اور معاملہ حق الیقین بن جائے گا۔ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے وعدے پر خوش ہوں گے، کفار بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے۔ وہ اپنے بارے میں خود اقرار کریں گے کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں۔
﴿ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ تو (اس وقت) ان میں ایک پکارنے والا پکارے گا۔ پکارنے والا اہل جہنم اور اہل جنت کے درمیان پکار کر کہے گا ﴿ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ کہ لعنت ہے اللہ کی یعنی ہر بھلائی سے بُعد اور محرومی ﴿ عَلَى الظّٰلِمِیْنَ ظالموں پر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اپنی رحمت کے دروازے کھولے مگر انھوں نے اپنے ظلم کی وجہ سے ان سے منہ موڑا، خود اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور دوسروں کو بھی اس راستے پر نہ چلنے دیا۔ پس وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کا راستہ سیدھا رہے اور اس پر چلنے والے اعتدال کے ساتھ اس پر گامزن رہیں۔ ﴿وَ اور یہ کفار ﴿یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا ڈھونڈتے ہیں اس میں کجی یعنی سیدھے راستے سے ہٹا ہوا ﴿ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَ اور وہ آخرت کے منکر تھے یہی کفر ہے جو راہ راست سے ان کے انحراف کا باعث بنا اور یہی کفر ہے جو نفس کی شہوات محرمہ کو محور بنانے، آخرت پر عدم ایمان، عذاب سے عدم خوف اور ثواب سے ناامیدی کا موجب بنا۔ اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اہل ایمان پر سایہ کناں، اس کا فضل ان کے شامل حال اور اس کا احسان ان پر متواتر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى بعد ما ذكر استقرار كلٍّ من الفريقين في الدارين ووجدا ما أخبرت به الرُّسل ونطقتْ به الكتبُ من الثواب والعقاب: إن أهل الجنة نادوا أصحاب النار بأن قالوا: {أن قد وَجَدْنا ما وَعَدَنا ربُّنا حقًّا}: حين وعدنا على الإيمان والعمل الصالح الجنة، فأدخلناها وأرانا ما وصفه لنا، {فهل وجدتُم ما وعدكم ربكم}: على الكفر والمعاصي {حقًّا قالوا نعم}: قد وجدناه حقًّا، فتبين للخلق كلِّهم بياناً لا شكَّ فيه صدق وعد الله، ومن أصدق من الله قيلاً، وذهبت عنهم الشكوك والشبه، وصار الأمر حقَّ اليقين، وفرح المؤمنون بوعد الله واغتبطوا، وأيس الكفار من الخير، وأقروا على أنفسهم بأنهم مستحقون للعذاب. {فأذَّن مؤذنٌ بينهم}؛ أي: بين أهل النار وأهل الجنة بأن قال: {أن لعنةُ الله}؛ أي: بعده وإقصاؤه عن كل خير {على الظالمين}: إذ فتح الله لهم أبوابَ رحمتِهِ، فصدَفوا أنفسهم عنها ظلماً وصدُّوا عن سبيل الله بأنفسهم وصدُّوا غيرهم فضلُّوا وأضلُّوا. والله تعالى يريد أن تكون مستقيمةً ويعتدل سير السالكين إليه، وهؤلاء يريدونها {عِوَجاً}: منحرفةً صادةً عن سواء السبيل. {وهم بالآخرة كافرونَ}: وهذا الذي أوجب لهم الانحرافَ عن الصراط والإقبالَ على شهوات النفوس المحرَّمة عدمُ إيمانهم بالبعث، وعدم خوفهم من العقاب ورجائهم للثواب.

ومفهوم هذا [النداء] أن رحمة الله على المؤمنين، وبرَّه شاملٌ لهم، وإحسانه متواترٌ عليهم.