تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر فرمان ہے کہ ایمان اور نیکیاں انسان کے بس میں ہیں، اللہ کے احکام انسانی طاقت سے زیادہ نہیں ہیں۔ ایسے لوگ جنتی ہیں اور ہمیشہ جنت میں ہی رہیں گے۔
چنانچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { مومن آگ سے چھٹکارا حاصل کر کے جنت و دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک دیئے جائیں گے، وہاں ان کے آپس کے مظالم کا بدلہ ہو جائے گا اور پاک ہو کر جنت میں جانے کی اجازت پائیں گے۔ واللہ! وہ لوگ اپنے اپنے درجوں کو اور مکانوں کو اس طرح پہچان لیں گے جیسے دنیا میں جان لیتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2440]
سدی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اہل جنت دروازہ جنت پر ایک درخت دیکھیں گے جس کی جڑوں کے پاس سے دو نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ ان میں سے ایک کا پانی پئیں گے جس سے دلوں کی کدورتیں دھل جائیں گی، یہ شراب طہور ہے۔ پھر دوسری نہر میں غسل کریں گے جس سے چہروں پر تروتازگی آ جائے گی۔ پھر نہ تو بال بکھریں، نہ سرمہ لگانے اور سنگھار کرنے کی ضرورت پڑے۔
آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ ان شاءاللہ میں اور عثمان رضی اللہ عنہ اور طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے دل اللہ تعالیٰ صاف کر دے گا۔
فرماتے ہیں کہ ہم اہل بدر کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔
ابن مردویہ میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { ہر جنتی کو اپنا جہنم کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ وہ اور بھی شکر کرے اور وہ کہے گا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ہدایت عنایت فرمائی اور ہر جہنمی کو اس کا جنت کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ اس کی حسرت بڑھے۔ اس وقت وہ کہے گا: کاش کہ میں بھی راہ یافتہ ہوتا۔ } ۱؎ [مسند احمد:512/2:صحیح]
پھر جنتیوں کو ان جہنمیوں کی جنت کی جگہیں دے دی جائیں گی اور ایک منادی ندا کرے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کے تم بہ سبب اپنی نیکیوں کے وارث بنا دیئے گئے یعنی تمہارے اعمال کی وجہ سے تمہیں رحمت رب ملی اور رحمت رب سے تم داخل جنت ہوئے۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یاد رکھو! تم میں سے کوئی بھی صرف اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں نہیں جا سکتا۔ لوگوں نے پوچھا: آپ بھی نہیں؟ فرمایا: ہاں! میں بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت و فضل میں ڈھانپ لے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5673]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى عقاب العاصين الظالمين؛ ذَكَرَ ثواب المطيعين، فقال: {والذين آمنوا}: بقلوبهم، {وعملوا الصالحات}: بجوارحهم؛ فجمعوا بين الإيمان والعمل، بين الأعمال الظاهرة والأعمال الباطنة، بين فعل الواجبات وترك المحرمات، ولما كان قوله: {وعَمِلوا الصالحاتِ} لفظاً عامًّا يشمل جميع الصالحات الواجبة والمستحبة، وقد يكون بعضها غير مقدور للعبد؛ قال تعالى: {لا نُكَلِّفُ نفساً إلَّا وُسْعَها}؛ أي: بمقدار ما تسعه طاقتها ولا يعسر على قدرتها؛ فعليها في هذه الحال أن تتقي الله بحسب استطاعتها، وإذا عجزت عن بعض الواجبات التي يقدر عليها غيرها؛ سقطت عنها؛ كما قال تعالى: {لا يُكَلِّفُ اللهُ نفساً إلاَّ وُسْعَها}، {لا يُكَلِّفُ الله نفساً إلاَّ ما آتاها}، {ما جَعَلَ عليكم في الدِّينِ مِنْ حَرَج}، {فاتَّقوا الله ما استطعتُم}؛ فلا واجب مع العجز، ولا محرَّم مع الضرورة. {أولئك}؛ أي: المتصفون بالإيمان والعمل الصالح، {أصحابُ الجنة هم فيها خالدون}؛ أي: لا يحولون عنها ولا يبغون بها بدلاً؛ لأنهم يَرَوْن فيها من أنواع اللَّذَّات وأصناف المشتهيات ما تقفُ عنده الغايات، ولا يطلب أعلى منه.