تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ …: ” اِنَّمَا “} کلمۂ حصر ہے، یعنی اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، اس نے یہ بات نہ کسی مقرب فرشتے کو بتائی ہے نہ کسی نبی مرسل کو۔ دیکھیے سورۂ نازعات (۴۴) اور نمل (۶۶)۔
➌ {ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ اس کی ہیبت سے زمین و آسمان لرزتے ہیں، کیونکہ وہ سب اس وقت زیر و زبر ہو جائیں گے۔ دیکھیے سورۂ تکویر، انفطار، انشقاق، قمر (۴۶) اور حج (۱، ۲) دوسرا یہ کہ اس کا علم زمین و آسمان سے بھی برداشت نہیں ہو سکتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے صرف اپنے پاس رکھا ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے ”الفوز الکبیر“ میں اس کا معنی {” خَفِيَتْ “ } کیا ہے، یعنی وہ آسمانوں اور زمین میں کسی کو معلوم نہیں۔ابن جزی نے فرمایا: {” ثَقُلَتْ ثَقُلَ عِلْمُنَا اَيْ خَفِيَ“} یعنی اس کا علم مخفی ہے۔
➍ { لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً:} بے شک اس کی علاماتِ عامہ اور علاماتِ خاصہ، مثلاً دجال، دابہ، یاجوج ماجوج کا خروج اور عیسیٰ علیہ السلام کا نزول وغیرہ بتائی گئی ہیں، مگر ان واقعات میں سے بھی کوئی اس کا عین مقرر وقت نہیں کہ اس کے ساتھ ہی قیامت آ جائے، اصل وقت صرف اللہ کے پاس ہے اور وہ اچانک یک لخت آئے گا۔
➎ { يَسْـَٔلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا: ” حَفِيٌّ “} اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جس نے کسی چیز کے متعلق بار بار پوچھ کر اچھی طرح اس کا علم حاصل کر رکھا ہو، یعنی یہ لوگ آپ سے بار بار اس طرح پوچھتے ہیں جیسے آپ نے بڑی کرید اور جستجو کے بعد اس کا پورا پورا علم حاصل کر لیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ أَلَا إِنَّ الَّذِينَ يُمَارُونَ فِي السَّاعَةِ لَفِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ» ۱؎ [42-الشورى:18] ’ ادھر بےایمان اس کی جلدی مچا رہے ہیں، ادھر ایماندار اسے حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جنہیں اس میں بھی شک ہے، دوردراز کی گمراہی میں تو وہی ہیں۔ ‘
«يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّـهِ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا» ۱؎ [33-الأحزاب:63] ’ پوچھا کرتے تھے کہ قیامت واقع کب ہو گی؟ جواب سکھایا گیا کہ اس کے صحیح وقت کا علم سوائے اللہ کے، کسی کو نہیں۔ ‘
وہی اس کے صحیح وقت سے واقف ہے، بجز اس کے، کسی کو اس کے واقع ہونے کا وقت معلوم نہیں۔ اس کا علم زمین و آسمان پر بھی بھاری ہے، ان کے رہنے والی ساری مخلوق اس علم سے خالی ہے۔ وہ جب آئے گی، سب پر ایک ہی وقت واقع ہو گی، سب کو ضرر پہنچے گا۔
آسمان پھٹ جائے گا، ستارے جھڑ جائیں گے، سورج بے نور ہو جائے گا، پہاڑ اڑنے لگیں گے۔ اسی لیے وہ ساری مخلوق پر گراں گزر رہی ہے۔ اس کے واقع ہونے کے صحیح وقت کا علم ساری مخلوق پر بھاری ہے، زمین و آسمان والے سب اس سے عاجز اور بےخبر ہیں۔ وہ تو اچانک سب کی بے خبری میں ہی آئے گی۔
کوئی بزرگ سے بزرگ فرشتہ، کوئی بڑے سے بڑا پیغمبر بھی اس کے آنے کے وقت کا عالم نہیں۔ وہ تو سب کی بے خبری میں ہی آ جائے گی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { دنیا کے تمام کام حسب دستور ہو رہے ہوں گے، جانوروں والے اپنے جانوروں کے پانی پینے والے حوض درست کر رہے ہوں گے، تجارت والے ناپ تول میں مشغول ہوں گے، قیامت آ جائے گی۔ }
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { قیامت قائم ہونے سے پہلے سورج مغرب کی طرف سے نکلے گا، اسے دیکھتے ہی سب لوگ ایمان قبول کر لیں گے۔ لیکن اس وقت کا ایمان ان کے لیے بےسود ہو گا۔
صحیح مسلم شریف میں ہے: { آدمی دودھ کا کٹورا (برتن) اٹھا کر پینا چاہتا ہی ہو گا، ابھی منہ سے نہ لگا پائے گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔ کپڑے کے خریدار بھی سودا نہ کر چکے ہوں گے کہ قیامت آ جائے گی۔ حوض والے بھی لیپاپوتی کر رہے ہوں گے کہ قیامت برپا ہو جائے گی۔ }
تجھ سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا تو ان کا سچا رفیق ہے، یہ تیرے پکے دوست ہیں۔ اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تجھے اس کا حال معلوم ہے حالانکہ کسی مقرب فرشتے یا نبی یا رسول کو اس کا علم ہرگز نہیں۔
قریشیوں نے یہ بھی کہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو آپ کے قرابت دار ہیں، ہمیں تو بتا دیجئے کہ قیامت کب اور کس دن، کس سال آئے گی؟ اس طرح پوچھا کہ گویا آپ کو معلوم ہے۔ حالانکہ اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہی ہے۔ جیسے فرمان ہے: «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ» ۱؎ [31-لقمان:34] ’ قیامت کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ ‘
یہی معنی زیادہ ترجیح والے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
جب کبھی وہ میرے پاس جس شکل میں بھی آئے، میں نے انہیں پہچان لیا لیکن اس مرتبہ تو میں خود اب تک نہ پہچان سکا تھا۔
(الحمداللہ میں نے اس کے تمام طریقے کل سندوں کے ساتھ پوری بحث کر کے بخاری شریف کی شرح کے اول میں ہی ذکر کر دیئے ہیں۔)
{ ایک اعرابی نے آ کر با آواز بلند آپ کا نام لے کر آپ کو پکارا، آپ نے اسی طرح جواب دیا۔ اس نے کہا: قیامت کب ہو گی؟
مومن اس حدیث کو سن کر بہت ہی خوش ہوئے کہ اس قدر خوشی انہیں اور کسی چیز پر نہیں ہوئی تھی۔
آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کوئی آپ سے ایسا سوال کرے جس کی ضرورت نہ ہو تو آپ اسے وہ بات بتاتے جو اس سے کہیں زیادہ مفید ہو۔ اسی لیے اس سائل کو بھی فرمایا کہ وقت کا علم کیا فائدہ دے گا؟ ہو سکے تو تیاری کر لو۔
صحیح مسلم میں ہے کہ { اعراب لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کبھی قیامت کے بارے سوال کرتے تو آپ جو ان میں سب سے کم عمر ہوتا، اسے دیکھ کر فرماتے کہ اگر یہ اپنی طبعی عمر تک پہنچا تو اس کے بڑھاپے تک ہی تم اپنی قیامت کو پالو گے۔ اس سے مراد ان کی موت ہے جو آخرت کے برزخ میں پہنچا دیتی ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6511]
بعض روایات میں ان کے اس قسم کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا علی الاطلاق یہی فرمانا بھی مروی ہے کہ اس نوعمر کے بڑھاپے تک قیامت آ جائے گی۔ یہ اطلاق بھی اسی تقلید پر مجمول ہو گا۔ یعنی مراد اس سے ان لوگوں کی موت کا وقت ہے۔
وفات سے ایک ماہ قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم مجھ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہو؟ اس کے صحیح وقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، میں حلفاً بیان کرتا ہوں کہ اس وقت روئے زمین پر جتنے متنفس ہیں، ان میں سے ایک بھی سو سال تک باقی نہ رہے گا ـ } [صحیح مسلم:2538] (مسلم)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { معراج والی شب میری ملاقات موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام سے ہوئی، وہاں قیامت کے وقت کا ذکر چلا تو ابراہیم علیہ السلام کی طرف سب نے بات کو جھکا دیا۔ آپ نے جواب دیا کہ مجھے تو اس کا علم نہیں۔ سب موسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے، یہی جواب وہاں سے ملا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے فرمایا: اس کے واقع ہونے کا وقت تو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ ہاں! مجھ سے میرے رب نے فرما رکھا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے۔ میرے ساتھ دو شاخیں ہوں گی، وہ مجھے دیکھ کر سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا۔ آخر اللہ اسے میرے ہاتھوں ہلاک کرے گا یہاں تک کہ درخت اور پتھر بھی بولنے لگیں گے کہ اے مسلمان! یہاں میرے نیچے ایک کافر چھپا ہوا ہے، آ اور اسے قتل کر ڈال۔ جب اللہ تعالیٰ ان سب کو ہلاک کر دے گا، تب لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کو لوٹیں گے۔ اس وقت یاجوج ماجوج نکلیں گے جو کودتے پھلانگتے چاروں طرف پھیل جائیں گے۔ جہاں سے گزریں گے، تباہی پھیلا دیں گے۔ جس پانی سے گزریں گے، سب پی جائیں گے۔ آخر لوگ تنگ آ کر مجھ سے شکایت کریں گے۔ میں اللہ سے دعا کروں گا۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہلاک کر دے گا، ان کی لاشوں کا سڑاند پھیلے گی جس سے لوگ تنگ آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا جو ان کی لاشوں کو بہا کر سمندر میں ڈال آئے گی۔ پھر تو پہاڑ اڑنے لگیں گے اور زمین سکڑنے لگے گی۔ جب یہ سب کچھ ظاہر ہو گا، اس وقت قیامت ایسی قریب ہو گی جیسی پورے دن والی حاملہ عورت کے بچہ جننے کا زمانہ قریب ہوتا ہے کہ گھر کے لوگ ہوشیار رہتے ہیں کہ نہ جانے دن کو پیدا ہو جائے یا رات کو۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:4081،قال الشيخ الألباني:ضعیف] (ابن ماجہ، مسند وغیرہ)
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: اس کا علم اللہ کے پاس ہی ہے۔ سوائے اس کے اسے اور کوئی نہیں جانتا۔ ہاں! میں تمہیں اس کی شرطیں بتلاتا ہوں، اس سے پہلے بڑے بڑے فتنے اور لڑائیاں ہوں گی، لوگوں کے خون ایسے سفید ہو جائیں گے کہ گویا کوئی کسی کو جانتا پہچانتا ہی نہیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:389/5:صحیح لغیرہ] (مسند)
آپ اس آیت کے اترنے سے پہلے بھی اکثر قیامت کا ذکر فرماتے رہا کرتے تھے۔ پس غور کر لو کہ یہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم جو سید الرسل ہیں، خاتم الانبیاء ہیں، نبی الرحمہ ہیں، نبی اللہ ہیں، الملحمہ ہیں، عاقب ہیں، مقفی ہیں، حاشر ہیں جن کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو گا۔
جن کا فرمان ہے کہ { میں اور قیامت اس طرح آئے ہیں اور آپ نے اپنی دونوں انگلیاں جوڑ کر بتائیں یعنی شہادت کی انگلی اور اس کے پاس کی انگلی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6504] لیکن باوجود اس کے، قیامت کا علم آپ کو نہ تھا۔
آپ سے جب سوال ہوا تو یہی حکم ملا، جواب دو کہ «يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَاهَا» ۱؎ [79-النازعات:42] ’ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ ‘
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لرسوله محمد - صلى الله عليه وسلم -: {يسألونَك}؛ أي: المكذبون لك المتعنِّتون {عن الساعة أيان مُرْساها}؛ أي: متى وقتها التي تجيء به؟ ومتى تحِلُّ بالخلق؟ {قل إنَّما علمُها عند ربي}؛ أي: إنه تعالى المختصُّ بعلمها، {لا يجلِّيها لوقتها إلا هو}؛ أي: لا يظهرها لوقتها الذي قُدِّر أن تقوم فيه إلا هو. {ثَقُلَتْ في السموات والأرض}؛ أي: خفي علمها على أهل السماوات والأرض واشتدَّ أمرُها أيضاً عليهم فهم من الساعة مشفقون. {لا تأتيكم إلَّا بغتةً}؛ أي: فجأة من حيث لا يشعرون لم يستعدُّوا لها ولم يتهيؤوا لها. {يسألونك كأنَّك حَفِيٌّ عنها}؛ أي: هم حريصون على سؤالك عن الساعة كأنك مستحفٍ عن السؤال عنها، ولم يعلموا أنك لكمال علمك بربِّك وما ينفعُ السؤال عنه غير مبال بالسؤال [عنها، ولا حريص على ذلك، فَلِمَ لا يقتدون بك؟ ويكفون عن الاستحفاء عن هذا السؤال] الخالي من المصلحة المتعذِّر علمه؛ فإنَّه لا يعلمها نبيٌّ مرسلٌ ولا مَلَكٌ مقرَّب، وهي من الأمور التي أخفاها عن الخلق لكمال حكمته وسعة علمه. {قل إنَّما علمُها عند الله ولكنَّ أكثر الناس لا يعلمون}: فلذلك حرصوا على ما لا ينبغي الحرص عليه، وخصوصاً مثل حال هؤلاء الذين يتركون السؤال عن الأهمِّ ويَدَعون ما يجبُ عليهم من العلم، ثم يذهبون إلى ما لا سبيل لأحدٍ أن يدركه ولا هُم مطالبون بعلمه.