ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 166

فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُہُوۡا عَنۡہُ قُلۡنَا لَہُمۡ کُوۡنُوۡا قِرَدَۃً خٰسِئِیۡنَ ﴿۱۶۶﴾
پھر جب وہ اس بات میں حد سے بڑھ گئے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے ان سے کہہ دیا کہ ذلیل بندر بن جاؤ۔ En
غرض جن اعمال (بد) سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پراصرار اور ہمارے حکم سے) گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ
En
یعنی جب وه، جس کام سے ان کو منع کیا گیا تھا اس میں حد سے نکل گئے تو ہم نے ان کو کہہ دیا تم ذلیل بندر بن جاؤ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 165 میں تا آیت 167 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

166۔ 1 عَتَوا کے معنی ہیں جنہوں نے اللہ کی نافرمانی میں حد سے تجاوز کیا۔ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ نجات پانے والے صرف وہی تھے، جو منع کرتے تھے اور باقی دونوں عذاب الٰہی کی زد میں آئے؟ یا زد میں آنے والے صرف معصیت کار تھے؟ باقی دو جماعتیں نجات پانے والی تھیں؟ امام ابن کثیر نے دوسری رائے کو ترجیح دی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

166۔ پھر جب وہ سرکشی کرتے ہوئے وہی کام کرتے رہے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے انہیں حکم دیا کہ: ”ذلیل و خوار بندر بن جاؤ“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلْنَا لَهُمْ تو ہم نے ان سے کہا یعنی قضا و قدر کی زبان میں۔ ﴿ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِىِٕیْنَ ہو جاؤ تم بندر ذلیل پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلما عَتَوْا عما نُهوا عنه}؛ أي: قسوا فلم يلينوا ولا اتَّعظوا، {قلنا لهم} قولاً قدريًّا: {كونوا قردةً خاسئين}: فانقلبوا بإذن الله قردةً وأبعدهم الله من رحمته.