تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ اَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا …:} اللہ تعالیٰ نے برائی سے منع کرنے والوں کی نجات اور ظلم کرنے والوں کو سخت عذاب، مثلاً قحط یا بیماری وغیرہ میں پکڑنے کا ذکر کیا ہے اور اس سے اگلی آیت میں سرکشی کرنے والوں کی شکلیں بدل کر بندر بنا دینے کا ذکر فرمایا ہے۔ تیسرے گروہ کا واضح ذکر نہیں فرمایا کہ ان کا کیا بنا۔ اکثر مفسرین کا کہنا یہی ہے کہ صرف اس جرم کا مسلسل ارتکاب کرنے والے ہی عذاب میں گرفتار ہوئے، جیسا کہ {” بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ “} کے استمرار سے معلوم ہوتا ہے کہ باقی دونوں گروہ بچ گئے۔ بعض کا کہنا ہے کہ وہ بھی برائی سے منع نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہو گئے۔ بعض کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے انجام سے خاموشی اختیار فرمائی تو ہمیں بھی خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔ مگر حافظ ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے ان کے بچ جانے ہی کو ترجیح دی ہے، کیونکہ یہ لوگ سرکشی اختیار کرنے والے ہر گز نہ تھے، بلکہ جیسا کہ اسی آیت کے حاشیہ(۱) میں ذکر ہوا ہے، یہ لوگ اس برائی سے نفرت رکھنے والے تھے اور عین ممکن ہے کہ منع کرنے کے بعد تھک کر ان پر عذاب کے منتظر ہوں، مگر ان پر لازم تھا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جاری رکھتے۔
ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”کوئی بھی قوم جس میں اللہ کی نافرمانیوں پر عمل ہوتا ہو، پھر وہ اسے بدلنے کی طاقت رکھتے ہوں، پھر نہ بدلیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنی طرف سے عذاب بھیج دے۔“ [أبو داوٗد، الملاحم، باب الأمر والنھی: ۴۳۳۸۔ ترمذی: ۳۰۵۷، و قال الألبانی صحیح]
راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ پہلے ان پر {”عَذَابٌ بَىِٕيْسٌ“} آیا، جو قحط یا بیماری یا خوف وغیرہ کی شکل میں تھا، اس میں شکار کرنے والے اور اس پر خاموش رہنے والے دونوں گرفتار ہوئے، کیونکہ برائی پر خاموش رہنا بھی ایک قسم کا ظلم تھا مگر جب بندر بنانے کا عذاب آیا تو یہ صرف ان پر آیا جو اس سرکشی کے مرتکب تھے اور اب کھلم کھلا بلاجھجک یہ کام کر رہے تھے۔ [وَاللّٰہُ أَعْلَمُ وَ عِلْمُہُ أَتَمُّ]
➌ قرآن کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ ان کی شکلیں بدل کر بندر کی بنا دی گئیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان میں صرف بندروں کی خصلتیں پیدا کر دی گئیں، مگر اس تاویل کی ضرورت تب ہے جب اللہ تعالیٰ کا انھیں بندر بنانا ممکن نہ ہو، یا پہلے ان کی خصلتیں انسانوں والی ہوں اور اب بندروں والی بنا دی گئی ہوں، جبکہ ان کے تمام حیلے ایسے تھے جو سلیم الفطرت انسان کر ہی نہیں سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب کسی شے کو مسخ کرے (شکل بدل دے) تو نہ اس کے پیچھے رہنے والا کوئی ہوتا ہے اور نہ اس کی نسل ہوتی ہے۔“ [المعجم الکبیر: ۷۴۶، و صححہ الألبانی فی صحیح الجامع: ۵۶۷۳، عن أم سلمۃ رضی اللہ عنھا۔ مسلم: ۲۶۶۳]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسا کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار بیان کر آئے ہیں۔ جو لوگ خاموش تھے نہ برائی کرتے تھے، نہ بروں کو برائی سے روکتے تھے انہوں نے روکنے والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ میاں ان لوگوں کو کہنے سننے سے کیا فائدہ؟ انہوں نے تو اللہ کے عذاب مول لے لیے ہیں، رب کے غضب کیلئے تیار ہو گئے ہیں۔ اب تم ان کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ تو اس پاک گروہ نے جواب دیا کہ اس میں دو فائدے ہیں: ایک تو یہ کہ اللہ کے پاس ہم معذرت خواہ ہو جائیں کہ ہم اپنا فرض برابر ادا کرتے رہے، انہیں ہر وقت سمجھاتے بجھاتے رہے۔
«معذرۃ» ت کے پیش سے بھی ایک قرأت ہے تو گویا «ھذا» کا لفظ یہاں مقدر مانا یعنی انہوں نے کہا: یہ ہماری معذرت ہے اور زبر کی قرأت پر یہ مطلب ہے کہ ہم جو انہیں روک رہے ہیں، یہ کام اس لیے کر رہے ہیں کہ اللہ کے ہاں ہم پر الزام نہ آئے کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمیشہ نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو۔
عبارت کی عمدگی ملاحظہ ہو کہ روکنے والوں کو نجات کا کھلے لفظوں میں اعلان کیا، ظالموں کی ہلاکت کا بھی غیر مشتبہ الفاظ میں بیان کیا اور چپ رہنے والوں کی حالت سے سکوت کیا گیا۔ اس لئے کہ ہر عمل کی جزا اسی کی ہم جنس ہے۔
یہ لوگ نہ تو اس ظلم عظیم میں شریک تھے کہ ان کی مذمت اعلانیہ کی جائے، نہ دلیری سے روکتے تھے کہ صاف طور پر قابل تعریف ٹھہریں۔
آپ کے شاگرد عکرمہ کا بیان ہے کہ پہلے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس میں بڑا تردد تھا کہ آیا یہ لوگ ہلاک ہوئے یا بچ گئے، یہاں تک کہ ایک روز میں آیا تو دیکھا کہ قرآن گود میں رکھے ہوئے رو رہے ہیں۔ اول اول تو میرا حوصلہ نہ پڑا کہ سامنے آؤں لیکن دیر تک جب یہی حالت رہی تو میں نے قریب آ کر سلام کیا، بیٹھ گیا اور رونے کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا: دیکھو یہ سورۃ الاعراف ہے، اس میں ایلہ کے یہودیوں کا ذکر ہے کہ انہیں ہفتے کے روز مچھلی کے شکار کی ممانعت کر دی گئی اور ان کی آزمائش کے لیے مچھلیوں کو حکم ہوا کہ وہ صرف ہفتے کے دن ہی نکلیں، ہفتے کے دن دریا مچھلیوں سے بھرے رہتے تھے۔ تروتازہ موٹی اور عمدہ بکثرت مچھلیاں پانی کے اوپر اچھلتی کودتی رہتی تھیں اور دنوں میں سخت کوشش کے باوجود بھی نہ ملتی تھیں۔ کچھ دنوں تک تو ان کے دلوں کے اندر حکم الٰہی کی عظمت رہی اور یہ ان کے پکڑنے سے رکے رہے۔ لیکن پھر شیطان نے ان کے دل میں یہ قیاس ڈال دیا کہ اس دن منع کھانے سے ہے، تم نے آج کھانا نہیں۔ پکڑ لو اور جائز دن کھا لینا۔ سچے مسلمانوں نے انہیں اس حیلہ جوئی سے ہر چند روکا اور سمجھایا کہ دیکھو! شکار کھیلنا شروع نہ کرو۔ شکار اور کھانا دونوں منموع ہیں۔ اگلے جمعہ کے دن جو جماعت شیطانی پھندے میں پھنس چکی تھی، وہ اپنے بال بچوں سمیت شکار کو نکل کھڑی ہوئی۔
رات ہم تو یہیں گزاریں گے، تمہارے ساتھ شہر میں نہیں رہیں گے۔ جب صبح ہو گئی اور شہر کے دروازے نہ کھلے تو انہوں نے کواڑ کھٹکھٹائے، آوازیں دیں لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ آخر سیڑھی لگا کر ایک شخص کو قلعہ کی دیوار پر چڑھایا، اس نے دیکھا تو حیران ہو گیا کہ سب لوگ بندر بنا دیئے گئے۔ اس نے ان سب مسلمانوں کو خبر دی، یہ دروازے توڑ کر اندر گئے تو دیکھا کہ سب دم دار بندر بن گئے ہیں، یہ تو کسی کو پہچان نہ سکے لیکن وہ پہچان گئے۔ ہر بندر اپنے اپنے رشتے دار کے قدموں میں لوٹنے لگا، ان کے کپڑے پکڑ پکڑ کر رونے لگا تو انہوں نے کہا: دیکھو ہم تو تمہیں منع کر رہے تھے لیکن تم نے مانا ہی نہیں۔ وہ اپنا سر ہلاتے تھے کہ ہاں ٹھیک ہے، ہمارے اعمال کی شامت نے ہی ہمیں برباد کیا ہے۔
عکرمہ کہتے ہیں: میں نے آپ سے یہ سن کر کہا: اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے، آپ یہ تو دیکھئے کہ وہ لوگ ان کے اس فعل کو برا سمجھتے رہے تھے، ان کی مخالفت کرتے تھے، جانتے تھے کہ یہ ہلاک ہونے والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بچ گئے۔ آپ کی سمجھ میں آ گیا اور اسی وقت حکم دیا کہ مجھے دو چادریں انعام میں دی جائیں۔
الغرض اس بیچ کی جماعت کی نسبت ایک قول تو یہ ہے کہ عذاب سے بچ گئی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ عذاب ان پر بھی آیا۔
ابن رومان فرماتے ہیں کہ ہفتے والے دن خوب مچھلیاں آتیں، پانی ان سے بھر جاتا۔ پھر بیچ کے کسی دن نظر نہ آتیں، دوسرے ہفتے کو پھر یہی حال ہوتا۔ سب سے پہلے ایک شخص نے یہ حیلہ نکالا کہ ڈور اور کانٹا تیار کیا، مچھلی کو اس میں پھنسا لیا اور پانی میں ہی چھوڑ دیا۔ اتوار کی رات کو جا کر نکال لیا، بھونا، لوگوں کو مچھلی کی خوشبو پہنچی تو سب نے گھیر لیا۔ ہر چند پوچھا لیکن اول تو یہ سختی سے انکار کرتا رہا، آخر بات بنا دی کہ دراصل ایک مچھلی کا چھلکا مجھے مل گیا تھا، میں نے اسے بھونا تھا۔ دوسرے ہفتے کے دن اس نے اسی طرح دو مچھلیاں پھانس لیں، اتوار کی رات کو نکال کر بھوننے لگا۔ لوگ آ گئے تو اس نے کہا: میں نے ایک ترکیب نکال لی ہے جس سے نافرمانی بھی نہ ہو اور کام بھی نہ رکے۔ اب جو حیلہ بیان کیا تو ان سب نے اسے پسند کیا اور بکثرت لوگ یونہی کرنے لگے۔
اس سے پہلے سورۃ البقرہ کی ایسی ہی آیت کی تفسیر کے موقعہ پر بالتفصیل ان واقعات کو اچھی طرح بیان کر چکے ہیں، وہیں دیکھ لیجئے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
دوسرا قول یہ ہے کہ جو چپ رہے تھے، وہ بھی ان گنہگاروں کے ساتھ ہلاک ہوئے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ پہلے ہفتہ کے دن کی تعظیم بطور بدعت خود ان لوگوں نے نکالی، اب اللہ کی طرف سے بطور آزمائش کے وہ تعظیم ان پر ضروری قرار دے دی گئی اور حکم ہو گیا کہ اس دن مچھلی کا شکار نہ کرو۔ پھر مچھلیوں کا اس دن نمایاں ہونا اور دوسرے دنوں میں نہ نکلنا وغیرہ بیان فرما کر فرمایا کہ پھر ان میں سے ایک شخص نے ایک مچھلی ہفتے کے دن پکڑی، اس کی ناک میں سوراخ کر کے ڈور باندھ کر ایک کیل کنارے گاڑ کر اس میں ڈور اٹکا کر مچھلی کو دریا میں ڈال دیا۔ دوسرے دن جا کر پانی میں سے نکال لایا اور بھون کر کھا لی۔ سوائے اس پاک باز حق گو جماعت کے لوگوں کے کسی نے نہ اسے روکا، نہ منع کیا، نہ سمجھایا لیکن ان کی نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس ایک کی دیکھا دیکھی اور بھی یہی کام کرنے لگے۔ یہاں تک کہ بازاروں میں مچھلی آنے لگی اور اعلانیہ یہ کام ہونے لگا۔
یہ تین گروہوں میں بٹ گئے تھے: ایک تو شکار کھیلنے والا، ایک منع کرنے والا، ایک ان منع کرنے والوں سے کہنے والا کہ اب نصیحت بے کار ہے۔ بس وہ تو بچ گئے جو برابر روکتے رہے تھے اور باقی دونوں جماعتیں ہلاک کر دی گئیں۔ سند اس کی نہایت عمدہ ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا عکرمہ کے قول کی طرف رجوع کرنا، اس قول کے کہنے سے اولیٰ ہے۔ اس لیے کہ اس قول کے بعد ان پر ان کے حال کی حقیقت کھل گئی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرمان ہے کہ ہم نے ظالموں کو سخت عذابوں سے دبوچ لیا۔ مفہوم کی دلالت تو اس بات پر ہے کہ جو باقی رہے، بچ گئے۔
«بَئِيسٍ» کی کئی ایک قرأتیں ہیں۔ اس کے معنی سخت کے، درد ناک کے، تکلیف دہ کے ہیں۔ اور سب کا مطلب قریب قریب یکساں ہے۔ ان کی سرکشی اور ان کے حد سے گزر جانے کے باعث ہم نے ان سے کہہ دیا کہ تم ذلیل، حقیر اور ناقدرے بندر بن جاؤ۔ چنانچہ وہ ایسے ہی ہو گئے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فلما نسوا ما ذُكِّروا به}؛ أي: تركوا ما ذُكِّروا به واستمروا على غَيِّهم واعتدائهم، {أنْجَيْنا الذين ينهون عن السوء}: وهكذا سنة الله في عباده أن العقوبة إذا نزلت نجا منها الآمرون بالمعروف والناهون عن المنكر، {وأخذنا الذين ظلموا}: وهم الذين اعتدَوْا في السبت {بعذابٍ بئيس}؛ أي: شديد {بما كانوا يفسُقون}.
وأما الفرقة الأخرى التي قالت للناهين: لم تعِظون قوماً الله مهلكهم؛ فاختلف المفسرون في نجاتِهِم وهلاكهم، والظاهرُ أنهم كانوا من الناجين؛ لأنَّ الله خصَّ الهلاك بالظالمين، وهو لم يذكر أنهم ظالمون، فدلَّ على أن العقوبة خاصَّة بالمعتدين في السبت، ولأنَّ الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر فرضُ كفاية إذا قام به البعض سقط عن الآخرين؛ فاكتفوا بإنكار أولئك، ولأنهم أنكروا عليهم بقولهم: {لم تَعِظونَ قوماً الله مهلِكُهم أو معذِّبهم عذاباً شديداً}: فأبدَوْا من غضبهم عليهم ما يقتضي أنَّهم كارهون أشدَّ الكراهة لفعلهم، وأنَّ الله سيعاقبهم أشدَّ العقوبة.