تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 166

فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُہُوۡا عَنۡہُ قُلۡنَا لَہُمۡ کُوۡنُوۡا قِرَدَۃً خٰسِئِیۡنَ ﴿۱۶۶﴾
پھر جب وہ اس بات میں حد سے بڑھ گئے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے ان سے کہہ دیا کہ ذلیل بندر بن جاؤ۔ En
غرض جن اعمال (بد) سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پراصرار اور ہمارے حکم سے) گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ
En
یعنی جب وه، جس کام سے ان کو منع کیا گیا تھا اس میں حد سے نکل گئے تو ہم نے ان کو کہہ دیا تم ذلیل بندر بن جاؤ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلْنَا لَهُمْ تو ہم نے ان سے کہا یعنی قضا و قدر کی زبان میں۔ ﴿ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِىِٕیْنَ ہو جاؤ تم بندر ذلیل پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلما عَتَوْا عما نُهوا عنه}؛ أي: قسوا فلم يلينوا ولا اتَّعظوا، {قلنا لهم} قولاً قدريًّا: {كونوا قردةً خاسئين}: فانقلبوا بإذن الله قردةً وأبعدهم الله من رحمته.