تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَلَمَّاعَتَوْاعَنْمَّانُهُوْاعَنْهُ ﴾”پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے“ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلْنَالَهُمْ ﴾”تو ہم نے ان سے کہا“ یعنی قضا و قدر کی زبان میں۔ ﴿ كُوْنُوْاقِرَدَةًخٰسِىِٕیْنَ ﴾”ہو جاؤ تم بندر ذلیل“ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فلما عَتَوْا عما نُهوا عنه}؛ أي: قسوا فلم يلينوا ولا اتَّعظوا، {قلنا لهم} قولاً قدريًّا: {كونوا قردةً خاسئين}: فانقلبوا بإذن الله قردةً وأبعدهم الله من رحمته.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔