ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 128

قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہِ اسۡتَعِیۡنُوۡا بِاللّٰہِ وَ اصۡبِرُوۡا ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰہِ ۟ۙ یُوۡرِثُہَا مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ الۡعَاقِبَۃُ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۲۸﴾
موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، بے شک زمین اللہ کی ہے، وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے بناتا ہے اور اچھا انجام متقی لوگوں کے لیے ہے۔ En
موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا سے مدد مانگو اور ثابت قدم رہو۔ زمین تو خدا کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مالک بناتا ہے۔ اور آخر بھلا تو ڈرنے والوں کا ہے
En
موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ تعالیٰ کا سہارا حاصل کرو اور صبر کرو، یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے وه مالک بنا دے اور اخیر کامیابی ان ہی کی ہوتی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 128) ➊ { قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا بِاللّٰهِ …:} فرعون کی دھمکیوں پر موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو تسلی دینا ضروری سمجھا، چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے اور صبر کرنے کی تلقین فرمائی، جس پر انھوں نے ظالموں سے پناہ کی وہ دعا لازم کر لی جو اللہ تعالیٰ نے سورۂ یونس میں ذکر فرمائی ہے: «{ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ (85) وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ [یونس: ۸۵، ۸۶] موسیٰ علیہ السلام نے انھیں تسلی دیتے ہوئے یہ خوش خبری بھی سنائی کہ آج اگر مصر پر فرعون حکمران ہے تو کل اللہ تعالیٰ تمھیں اس کی سرزمین کا وارث، یعنی حکمران بنا سکتا ہے۔
➋ {وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ: عَاقِبَةٌ } کا لفظی معنی تو انجام ہے جو اچھا بھی ہو سکتا ہے اور برا بھی، جیسا کہ فرمایا: «{ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيْنَ [القصص: ۴۰] سو دیکھو ظالموں کا انجام کیسا تھا۔ مگر جب اس پر الف لام آ جائے تو اس کا معنی اچھا انجام ہی ہوتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

128۔ 1 جب فرعون کی طرف سے دوبارہ اس ظلم کا آغاز ہوا تو حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کو اللہ سے مدد حاصل کرنے اور صبر کرنے کی تلقین کی اور تسلی دی کہ اگر تم صحیح رہے تو زمین کا اقتدار بالآخر تمہیں ہی ملے گا

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

128۔ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: ”اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ یہ زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنا دے اور انجام (خیر) تو پرہیزگاروں ہی کے لیے ہے“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭
فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے۔ کہنے لگے: یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں۔ بغاوت پھیلا دیں گے، ملک میں بد امنی پیدا کریں گے۔ ان کا ضرور اور جلد کوئی انتظام کرنا چاہیئے۔ اللہ کی شان دیکھئے! یہ کیسے مصلح بنے ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسول اور مومنوں کے فساد سے دنیا کو بچانا چاہتے ہیں حالانکہ مفسد اور بد نفس خود ہیں۔
«وَيَذَرَكَ» میں بعض تو کہتے ہیں واؤ حالیہ ہے یعنی در آنحالیکہ موسیٰ علیہ السلام اور قوم موسیٰ نے تیری پرستش چھوڑ رکھی ہے، پھر بھی تو انہیں زندہ رہنے دیتا ہے؟
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں ہے: «وَقَدْ تَرَکُوْکَ اَنْ يَّعْبُدْوْکَ وَالِھَتَکَ» ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26/6]‏‏‏‏
اور قول ہے کہ واؤ عاطفہ ہے یعنی تو نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔ جس فساد کو یہ برپا کر رہے ہیں اور تیرے معبودوں کے چھوڑنے پر اکسا رہے ہیں۔
بعض کی قرأت «اِلَاھَتَکَ» ہے یعنی تیری عبادت سے۔
بعض کا بیان ہے کہ فرعون بھی کسی کو پوجا کرتا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے وہ پوشیدہ راز میں رکھتا تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ اس کا بت اس کی گردن میں ہی لٹکتا رہتا تھا جسے یہ سجدہ کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بہترین گائے پر فرعون کی نگاہ پڑی جاتی تو لوگوں سے کہہ دیتا کہ اس کی پرستش کرو۔ اسی لیے سامری نے بھی بنی اسرائیل کے لیے بچھڑا نکالا۔
الغرض اپنے سرداروں کی بات سن کر فرعون جواب دیتا ہے کہ اب ان کے لیے ہم احکام جاری کریں گے کہ ان کے ہاں جو اولاد ہو، دیکھ لی جائے۔ اگر لڑکا ہو تو قتل کر دیا جائے، لڑکی ہو تو زندہ چھوڑ دی جائے۔
پہلے سرکش فرعون ان مساکین کے ساتھ یہی کر چکا تھا جبکہ اسے یہ منظور تھا کہ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہی نہ ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ غالب آیا اور موسیٰ علیہ السلام باوجود اس کے حکم کے زندہ و سالم بچے رہے۔ اب دوبارہ اس نے یہی قانون جاری کیا تاکہ بنی اسرائیل کی جمعیت ٹوٹ جائے، یہ کمزور پڑ جائیں اور بالاخر ان کا نام مٹ جائے لیکن قدرت نے اس کا بھی خلاف کر دکھایا، اس کو اور اس کی قوم کو غارت کر دیا اور بنی اسرائیل کو اوج و ترقی پر پہنچا دیا۔
موسیٰ علیہ السلام نے اس تکبر کے مقابلے میں تحمل اور اس کے ظلم کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ اپنی قوم کو سمجھایا اور بتایا کہ اللہ فرما چکا ہے کہ انجام کے لحاظ سے تم ہی اچھے رہو گے۔ تم اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ قوم والوں نے کہا: اے اللہ کے نبی علیہ السلام! آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم اسی طرح ستائے جاتے رہے، اسی ذلت و اہانت میں مبتلا رہے اور اب پھر یہی نوبت آئی ہے۔
آپ نے مزید تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں۔ یقین مانو کہ تمہارا بدخواہ ہلاک ہو گا اور تم کو اللہ تعالیٰ اوج پر پہنچائے گا۔ اس وقت وہ دیکھے گا کہ کون کتنا شکر بجا لاتا ہے؟ تکلیف کا ہٹ جانا، راحت کامل جانا انسان کو نہال نہال کر دیتا ہے۔ یہ پورے شکریئے کا وقت ہوتا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ مُوْسٰؔى لِقَوْمِهِ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا۔ ان حالات میں، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ اللہ سے مدد طلب کرو یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصْبِرُوْا اور صبر کرو۔ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ یُوْرِثُ٘هَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔
﴿ وَالْعَاقِبَةُ اور اچھا انجام ﴿ لِلْ٘مُتَّقِیْنَ متقین کے لیے ہے یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال {موسى لقومه}: موصياً لهم ـ في هذه الحالة التي لا يقدرون معها على شيء ولا مقاومة ـ بالمقاومة الإلهية والاستعانة الربانيَّة: {استعينوا بالله}؛ أي: اعتمدوا عليه في جلب ما ينفعكم ودفع ما يضرُّكم، وثِقوا بالله أنه سيتمُّ أمركم، {واصبروا}؛ أي: الزموا الصبر على ما يحلُّ بكم منتظرين للفرج. {إنَّ الأرض لله}: ليست لفرعون ولا لقومه حتى يتحكَّموا فيها، {يورِثُها مَن يشاءُ من عبادِهِ}؛ أي: يداولها بين الناس على حسب مشيئته وحكمته، ولكن العاقبة للمتَّقين؛ فإنهم وإن امتُحِنوا مدة ابتلاء من الله وحكمة؛ فإنَّ النصر لهم، {والعاقبةُ}: الحميدة لهم على قومهم. وهذه وظيفة العبد؛ أنَّه عند القدرة أن يفعل من الأسباب الدافعة عنه أذى الغير ما يقدر عليه وعند العجز أن يصبر ويستعين الله وينتظر الفرج.