(آیت 23) {قُلْهُوَالَّذِيْۤاَنْشَاَكُمْ …:} اللہ تعالیٰ ہی نے تمھیں پیدا فرمایا اور تمھیں کان، آنکھیں اور دل عطا فرمائے۔ اب پیدا کرنے کا شکر تو یہ تھا کہ صرف اسی کی عبادت کرتے اور کان، آنکھیں اور دل عطا فرمانے کا شکر یہ تھاکہ انھیں وہیں استعمال کرتے جہاں یہ نعمتیں دینے والے کی رضا تھی اور ان کے ذریعے سے اس کی خوشنودی کا راستہ تلاش کرتے، مگر تم نے نہ کانوں سے حق بات سنی، نہ آنکھوں سے اللہ کی قدرتیں دیکھ کر عبرت پکڑی اور نہ دل سے اس کی توحید سمجھنے کی کوشش کی۔ بے شمار نعمتوں میں سے یہ تین نعمتیں اس لیے ذکر فرمائیں کہ یہ تینوں علم کے ذرائع ہیں، انھی کے ذریعے سے آدمی حق تک پہنچ سکتا ہے۔ اس آیت میں خطاب کفار سے ہے اور {”قَلِيْلًامَّاتَشْكُرُوْنَ“} (کم ہی تم شکر کرتے ہو) سے مراد یہ ہے کہ تم بالکل شکر ادا نہیں کرتے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 یعنی پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ 23۔ 2 یعنی کان آنکھیں اور دل بنائیں جن سے تم سن سکو اور اللہ کی مخلوق میں غور و فکر کرکے اللہ کی معرفت حاصل کرسکو تین قوتوں کا ذکر فرمایا ہے جن سے انسان مسموعات، مبصرات اور معقولات کا ادراک کرسکتا ہے یہ ایک طرح سے اتمام حجت بھی ہے اور اللہ کی ان نعمتوں پر شکر نہ کرنے کی مذمت بھی اسی لیے آگے فرمایا تم بہت ہی کم شکرگزاری کرتے ہو۔ 23۔ 2 یعنی شُکْرًاقَلِیْلًا یا زَمْنًقَلِیلًا یا قلت شکر سے مراد ان کی طرف سے شکر کا عدم وجود ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
23۔ آپ ان سے کہیے کہ: ”اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان، آنکھیں [26] اور دل بنائے مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو
[26] آنکھیں، کان اور دل ان میں سے ایک ایک نعمت ایسی ہے جو ہزار نعمتوں کے برابر ہے۔ ان میں سے کوئی بھی چھن جائے تو تمہیں ان کی قدر و قیمت کا احساس ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ کی ان عظیم نعمتوں کا تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تمہیں آنکھیں، کان اور دل محض اس لیے نہیں دیئے تھے کہ تم ان سے اتنا ہی کام لو۔ جتنا جانور لیتے ہیں۔ بلکہ اس لیے دیئے تھے کہ آنکھوں سے تم اللہ کی آیات کا مشاہدہ کرو، کانوں سے اللہ کی آیات و احکام سنو، پھر دل سے ان میں غور کرو۔ مگر کافروں کا یہ حال ہے کہ ان نعمتوں پر شکر تو کیا کرتے، الٹا ان نعمتوں کو اللہ کی راہ کی مخالفت میں استعمال کر رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ یہ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہ وہی اکیلا معبود ہے، اپنے بندوں کو اپنے شکر کی طرف بلاتے ہوئے اور عبادت میں اپنے متفرد ہونے کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُ٘لْهُوَالَّذِیْۤاَنْشَاَكُمْ﴾ یعنی وہی ہے جو کسی معاون اور مددگار کے بغیر تمھیں عدم سے وجود میں لایا، جب اس نے تمھیں پیدا کیا تو کانوں، آنکھوں اور دلوں کے ساتھ تمھارے وجود کی تکمیل کی جو بدن کے نافع ترین اور کامل ترین جسمانی اعضاء ہیں۔ مگر ان نعمتوں کے باوجود ﴿قَلِیْلًامَّاتَشْكُرُوْنَ﴾”تم کم ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہو“ تم میں شکر گزار لوگ بہت کم اور شکر گزاری بہت کم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مبيِّناً أنَّه المعبودُ وحدَه وداعياً عباده إلى شكره وإفراده بالعبادة: {هو الذي أنشأكم}؛ أي: أوجدكم من العدم؛ من غير معاونٍ له ولا مظاهر، ولما أنشأكم؛ كمَّل لكم الوجود بالسمعِ والأبصارِ والأفئدةِ، وهذه الثلاثة هي أفضل أعضاء البدن وأكمل القوى الجسمانيَّة، ولكنَّكم مع هذا الإنعام {قليلاً ما تشكُرون} الله، قليلٌ منكم الشاكر، وقليلٌ منكم الشكر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔