تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ بعض اہلِ علم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے تین باتوں میں یہود کا ردّ فرمایا، انھوں نے فخر کیا کہ وہ اہلِ کتاب ہیں جب کہ عرب اُمی ہیں، تو اس کی تردید کرتے ہوئے انھیں اس گدھے کے ساتھ تشبیہ دی جو بڑی بڑی کتابیں اٹھائے ہوئے ہو۔ انھوں نے فخر کیا کہ وہ اللہ کے دوست اور محبوب ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ» [الجمعۃ: ۶] ”(اگر ایسا ہے) تو موت کی تمنا کرو۔ “ تیسرا یہ کہ ان کے ہاں ”سبت“ (ہفتے کا دن)ہے جو مسلمانوں کے پاس نہیں، تو اللہ تعالیٰ نے یوم جمعہ کی صورت میں مسلمانوں پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا، جس سے یہود اپنی نادانی کی وجہسے محروم رہ گئے۔ (الکشاف)
➌ تورات کا بوجھ رکھا جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر عمل کی ذمہ داری ڈالی گئی، جیساکہ فرمایا: «اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ» [الأحزاب:۷۲] ”بے شک ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اس کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا۔“ {” ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا “} پھر انھوں نے اس پر عمل نہیں کیا،یعنی جس طرح گدھے پر کتابیں لدی ہوں اور وہ نہیں جانتا کہ اس کی پیٹھ پر کیا ہے، اسی طرح وہ لوگ ہیں جن پر تورات کا بوجھ ڈالا گیا کہ اس پر عمل کریں، مگر انھوں نے پروا ہی نہیں کی کہ اس میں کیا ہے اور وہ ان سے کیا چاہتی ہے۔
➍ {بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ:} اللہ کی آیات کو جھٹلانے سے مراد ان بشارتوں کو جھٹلانا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تورات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نازل فرمائیں۔ (دیکھیے اعراف: ۱۵۷) {” بِئْسَ “} فعل ذم ہے، {” مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ “} اس کا فاعل ہے اور اس کا مخصوص بالذم محذوف ہے، یعنی {”هٰذَا الْمَثَلُ۔“} یعنی ان لوگوں کی یہ مثال جنھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا بری مثال ہے، جس کا مصداق ایمان والوں کو نہیں بننا چاہیے۔ جیسا کہ کسی مسلمان کو کتے کی مثال کا مصداق بھی نہیں بننا چاہیے کہ اس پر کتے کی مثال صادق آئے۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ، الَّذِيْ يَعُوْدُ فِيْ هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَرْجِعُ فِيْ قَيْهٖ] [بخاري، الھبۃ و فضلھا، باب لا یحل لأحد أن یرجع في ھبتہ وصدقتہ: ۲۶۲۲] ”یہ بری مثال ہمارے لیے نہیں ہے، وہ شخص جو اپنے ہبہ میں لوٹتا ہے اس کتے کی ما نند ہے جو اپنی قے میں لوٹتا ہے۔“
➎ استاد محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”کیا وجہ ہے کہ ان علماء کا حال اس سے مختلف ہو جو قرآن و حدیث کا علم رکھتے ہیں لیکن اس پرعمل نہیں کرتے، یا یہودیوں کی طرح ان کی من مانی تاویلیں کرتے ہیں۔“ شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یہود کے عالم ایسے تھے کتاب پڑھی اور دل میں کچھ اثر نہ ہوا، اللہ ہم کو پناہ دے۔ “(موضح)
➏ {وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ:} یعنی جاننے کے باوجود نہ ماننا صریح ظلم ہے اور ایسے ظالموں کو اللہ بھی راہِ راست پر چلنے کی توفیق نہیں دیتا، کیونکہ نہ چاہنے والوں کو زبر دستی راہِ راست پر چلانا اس کا دستور نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[10] یہاں اللہ کی آیات سے مراد وہ بشارتیں اور نبی آخر الزمان کی صفات ہیں جو تورات میں موجود تھیں اور اس نبی آخر الزمان کو جھٹلا دینا ہی گویا اللہ کی آیات کو جھٹلا دینے کے مترادف تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسی لیے دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ» [7-الاعراف:179] یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے، یہ غافل لوگ ہیں۔ یہاں فرمایا اللہ کی آیتوں کو جھٹلانے والوں کی بری مثال ہے، ایسے ظالم اللہ کی رہنمائی سے محروم رہتے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لمَّا ذكر تعالى منَّته على هذه الأمة الذين بَعَثَ فيهم النبيَّ الأميَّ وما خصَّهم الله [به] من المزايا والمناقب التي لا يلحقهم فيها أحدٌ، وهم الأمة الأميَّة، الذين فاقوا الأوَّلين والآخرين، حتى أهل الكتاب الذين يزعمون أنهم العلماء الربانيون والأحبار المتقدِّمون؛ ذكر أن الذين حمَّلهم الله التوراة من اليهود وكذا النصارى وأمرهم أن يتعلَّموها ويعملوا بها فلم يحملوها ولم يقوموا بما حُمِّلوا به؛ أنَّهم لا فضيلة لَهم، وأنَّ مَثَلَهم كمثل الحمار الذي يحمل فوق ظهره أسفاراً من كتب العلم؛ فهل يستفيد ذلك الحمار من تلك الكتب التي فوق ظهره؟! وهل تلحقه فضيلةٌ بسبب ذلك؟! أم حظُّه منها حملها فقط؟ فهذا مَثَلُ علماء أهل الكتاب ، الذين لم يعملوا بما في التوراة الذي من أجلِّه وأعظمه الأمر باتِّباع محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - والبشارة به والإيمان بما جاء به من القرآن؛ فهل استفاد مَن هذا وصفه من التوراة إلاَّ الخيبة والخسران وإقامة الحجَّة عليه؛ فهذا المثل مطابقٌ لأحوالهم. {بئس مَثَلُ القوم الذين كذَّبوا} بآياتنا الدالَّة على صدق رسولنا وصحة ما جاء به {والله لا يَهْدي القوم الظالمين}؛ أي: لا يرشدهم إلى مصالحهم ما دام الظلم لهم وصفاً والعناد لهم نعتاً.