تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ: ” زَاغُوْا“ ”زَاغَ يَزِيْغُ زَيْغًا“} (ض) ٹیڑھا ہونا۔ {” اَزَاغَ “} اس سے باب افعال ہے، ٹیڑھا کر دیا۔ یعنی جب وہ اطاعت کے بجائے ہر کام میں ٹیڑھے چلے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اسی راہ پر ڈال دیا، کیونکہ وہ ٹیڑھی راہ پر چلنے والوں کو زبردستی سیدھی راہ پر نہیں چلاتا، کیونکہ اس سے آزمائش کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى» [النساء: ۱۱۵] ”ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرے گا۔“
➌ { وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ:} جہاد سے انکار کی وجہ سے سورۂ مائدہ کی آیت (۲۵) میں موسیٰ علیہ السلام نے اور سورۂ مائدہ ہی کی آیت (۲۶) میں اللہ تعالیٰ نے قوم موسیٰ کو {” الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ “} کا خطاب دیا ہے۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے علاوہ ایمان کا دعویٰ کرنے والے منافقین سے بھی بہت اذیت پہنچی۔ زبانی اذیت کے علاوہ جہاد کے مواقع پر انھوں نے کئی دفعہ غداری کی، جنگ احد کے موقع پر عبد اللہ بن اُبی تین سو (۳۰۰) آدمیوں کو، جو لشکر کا تقریباً تیسرا حصہ تھے، عین میدان جنگ سے نکال کر لے گیا۔ جنگ خندق میں بھی انھوں نے کفار سے مل کر سازشوں میں اور مسلمانوں کی حوصلہ شکنی میں کوئی کمی نہیں کی۔ سورۂ آل عمران (۱۵۴ تا ۱۶۸) اور سورۂ احزاب (۹ تا ۲۰) میں اللہ تعالیٰ نے اس کا تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ زبانی اذیت کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (74،61،58)، احزاب (۵۷) اور منافقون (۸)۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کے اعلان ہی سے کفار کی طرف سے مسلسل اور بے پناہ تکلیفیں پہنچیں، مگر اپنی جماعت میں شامل لوگوں کی طرف سے ایذا کا احساس زیادہ ہوتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دلائی ہے کہ اگر کچھ منافق قسم کے لوگ آپ کو تکلیف دیتے ہیں اور جہاد میں جانے سے پس و پیش کرتے ہیں تو آپ غم نہ کریں، آپ کے ساتھ تو پھر بھی جہاد کرنے والوں اور جان و مال قربان کرنے والوں کی عظیم جماعت موجود ہے، موسیٰ علیہ السلام کو تو اپنوں کی طرف سے اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی، ان کی قوم نے جہاد کے لیے نکلنے ہی سے صاف انکار کر دیا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چیزیں تقسیم کیں تو ایک آدمی نے کہا: ”یہ ایسی تقسیم ہے جس میں اللہ کے چہرے کا ارادہ نہیں کیا گیا۔“ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے حتیٰ کہ میں نے غصے کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک میں دیکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَرْحَمُ اللّٰهُ مُوْسٰی لَقَدْ أُوْذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هٰذَا فَصَبَرَ] [بخاري، الدعوات، باب قول اللّٰہ تبارک و تعالٰی: «وصل علیھم» …: ۶۳۳۶] ”اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے، انھیں اس سے زیادہ اذیت دی گئی مگر انھوں نے صبر کیا۔“ اللہ تعالیٰ نے یہاں موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کا بھی ذکر فرمایا، کیونکہ ان کے ساتھ بھی چند لوگوں کے سوا بنی اسرائیل نے ایسا ہی سلوک کیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
انبیاء اپنی دشمن قوم کے لیے تو ایسی دعا مانگتے ہی رہے ہیں۔ مگر کسی نبی نے غالباً اپنی قوم کے حق میں ایسی دعا کبھی نہیں مانگی۔
[5] اپنے نبی کی شان میں گستاخیاں کرتے کرتے اور دکھ پہنچاتے پہنچاتے ان کی فطرت ہی کچھ ایسی ٹیڑھی بن چکی تھی کہ کسی حکم کو بھی وہ سچے ایمانداروں کی طرح تسلیم کر لینے کو تیار نہ ہوتے تھے۔ بلکہ اس میں مین میخ نکال کر اس کا کچھ الٹا ہی مطلب نکال لیتے تھے۔ پھر جب انہوں نے کجروی کی راہ اختیار کی تو اللہ نے بھی انہیں اسی راہ پر ڈال دیا۔ کیونکہ اللہ کا یہ دستور نہیں کہ وہ ٹیڑھی راہ اختیار کرنے والوں کو زبردستی سیدھی راہ پر ڈال دے۔ اس لیے کہ ایسا کرنے سے اس دنیا میں انسان کی آزمائش کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور ساتھ ہی اس میں مومنوں کو ادب سکھایا جا رہا ہے کہ وہ اللہ کے نبی کو ایذاء نہ پہنچائیں ایسا نہ کریں جس سے آپ کا دل دکھتا ہو، جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ اللَّـهُ مِمَّا قَالُوا ۚ وَكَانَ عِندَ اللَّـهِ وَجِيهًا» ۱؎ [33-الأحزاب:69] ’ ایمان والو تم ایسے نہ ہونا جیسے موسیٰ کو ایذاء دینے والے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ذی عزت بندے کو اس کے بہتانوں سے پاک کیا۔ ‘ پس جبکہ یہ لوگ علم کے باوجود اتباع حق سے ہٹ گئے اور ٹیڑھے چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے دل ہدایت سے ہٹا دیئے شک و حیرت ان میں سما گئی۔
جیسے اور جگہ ہے «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:110] یعنی ’ ہم ان کے دل اور آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح یہ ہماری آیتوں پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں چھوڑ دیں گے جس میں وہ سرگرداں رہیں گے ‘
اور جگہ ہے «وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا» ۱؎ [4-النساء:115] ’ جو رسول کی مخالفت کرے ہدایت ظاہر ہو جانے کے بعد اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی دوسرے کی تابعداری کرے ہم اسے اسی طرف متوجہ کریں گے جس طرف وہ متوجہ ہوا ہے اور بالاخر اسے ہم جہنم میں ڈال دیں گے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ ‘ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فاسقوں کی رہبری نہیں کرتا، پھر عیسیٰ علیہ السلام کا خطبہ بیان ہوتا ہے جو آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں پڑھا تھا جس میں فرمایا تھا کہ ”توراۃ میں میری خوشخبری دی گئی تھی اور اب میں تمہیں اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی پیش گوئی سناتا ہوں جو نبی امی، عربی مکی، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“
پس عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء اور مرسلین کے خاتم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ تو کوئی نبی آئے نہ رسول، نبوت و رسالت سب آپ پر من کل الوجوہ ختم ہو گئی۔
ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اپنے بہت سے نام بیان فرمائے جو ہمیں محفوظ رہے ان میں سے چند یہ ہیں، فرمایا: ” «أَنَا مُحَمَّد وَأَنَا أَحْمَد وَالْحَاشِر وَالْمُقَفِّي وَنَبِيّ الرَّحْمَة وَالتَّوْبَة وَالْمَلْحَمَة» میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں، میں مقفی ہوں، میں نبی الرحمتہ ہوں، میں نبی التوبہ ہوں، میں نبی الْمَلْحَمَة ہوں“، یہ حدیث بھی صحیح مسلم شریف میں ہے۔} ۱؎ [صحیح مسلم:2355]
قرآن کریم میں ہے «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» ۱؎ [7-الأعراف:157] ’ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول نبی امی کی جنہیں اپنے پاس لکھا ہوا پاتے ہیں توراۃ میں بھی اور انجیل میں بھی۔ ‘
اور جگہ فرمان ہے «وَإِذْ أَخَذَ اللَّه مِيثَاق النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَاب وَحِكْمَة ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُول مُصَدِّق لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلْتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنْ الشَّاهِدِينَ» ۱؎ [3-آلعمران:81] الخ، ’ اللہ تعالیٰ نے جب نبیوں سے عہد لیا کہ جب کبھی میں تمہیں کتاب و حکمت دوں پھر تمہارے پاس میرا رسول آئے جو اسے سچ کہتا ہو جو تمہارے ساتھ ہے تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤ گے اور اس کی ضرور مدد کرو گے کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میرا عہد لیتے ہو؟ سب نے کہا ہمیں اقرار ہے فرمایا بس گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔‘
ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اپنی خبر سنایئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام کی خوشخبری ہوں، میری والدہ کا جب پاؤں بھاری ہوا تو خواب میں دیکھا کہ گویا ان میں سے ایک نور نکلا ہے جس سے شام کے شہر بصریٰ کے محلات چمک اٹھے۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:2057] اس کی سند عمدہ ہے اور دوسری سندوں سے اس کے شواہد بھی ہیں۔
مسند احمد میں ہے { میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاتم الانبیاء تھا درآنحالیکہ آدم علیہ السلام اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔ میں تمہیں اس کی ابتداء سناؤں۔ میں اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور اپنی ماں کا خواب ہوں۔ انبیاء کی والدہ اسی طرح خواب دکھائی جاتی ہیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:127/4:صحیح لغیرہ] مسند احمد میں اور سند سے بھی اسی کے قریب روایت مروی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:262/5:صحیح لغیرہ]
نجاشی نے پوچھا وہ کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا یہیں اسی شہر میں ہیں، حکم دیا کہ انہیں حاضر کرو، چنانچہ یہ مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم دربار میں آئے ان کے خطیب اس وقت جعفر رضی اللہ عنہ تھے باقی لوگ ان کے ماتحت تھے، یہ جب آئے تو انہوں نے سلام تو کیا لیکن سجدہ نہیں کیا درباریوں نے کہا تم بادشاہ کے سامنے سجدہ کیوں نہیں کرتے؟ جواب ملا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے، پوچھا گیا کیوں؟ فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول ہماری طرف بھیجا اور اس رسول نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو سجدہ نہ کریں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم نمازیں پڑھتے رہیں زکوٰۃ ادا کرتے رہیں۔
اب عمرو بن العاص سے نہ رہا گیا کہ ایسا نہ ہو ان باتوں کا اثر بادشاہ پر پڑے درباریوں اور بادشاہ کو بھڑکانے کے لیے وہ بیچ میں بول پڑا کہ حضور ان کے اعتقاد عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں آپ لوگوں سے بالکل مختلف ہیں، اس پر بادشاہ نے پوچھا: بتاؤ تم عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہمارا عقیدہ اس بارے میں وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں ہمیں تعلیم فرمایا کہ وہ کلمتہ اللہ ہیں، روح اللہ ہیں، جس روح کو اللہ تعالیٰ کنواری مریم بتول کی طرف القا کیا جو کنواری تھیں، جنہیں کسی انسان نے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا، نہ انہیں بچہ ہونے کا کوئی موقعہ تھا۔ بادشاہ نے یہ سن کر زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا: اے حبشہ کے لوگو اور اے واعظو عالمو اور درویشو ان کا اور ہمارا اس کے بارے میں ایک ہی عقیدہ ہے اللہ کی قسم ان کے اور ہمارے عقیدے میں اس تنکے جتنا بھی فرق نہیں۔
ان مہاجرین کرام میں سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو جلد ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملے، جنگ بدر میں بھی آپ نے شرکت کی۔ اس شاہ حبشہ کے انتقال کی خبر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کے لیے بخشش کی دعا مانگی۔ ۱؎ [مسند احمد:461/1:ضعیف] یہ پورا واقعہ سیدنا جعفر اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:201/1:ضعیف]
تفسیری موضوع سے چونکہ یہ الگ چیز ہے اس لیے ہم نے اسے یہاں مختصراً وارد کر دیا مزید تفصیل سیرت کی کتابوں میں ملاحظہ ہو۔
ہمارا مقصود یہ ہے کہ عالی جناب حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت اگلے انبیاء کرام علیہم السلام برابر پشین گوئیاں کرتے رہے اور اپنی امت کو اپنی کتاب میں سے آپ کی صفتیں سناتے رہے اور آپ کی اتباع اور نصرت کا انہیں حکم کرتے رہے، ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کی شہرت ابراہیم خلیل اللہ کی دعا کے بعد ہوئی جو تمام انبیاء کے باپ تھے اسی طرح مزید شہرت کا باعث عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوئی جس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل کے سوال پر اپنے امر نبوت کی نسبت دعا خلیل اللہ اور نوید مسیح کی طرف کی ہے، اس سے یہی مراد ہے ان دونوں کے ساتھ آپ کا اپنی والدہ محترمہ کے خواب کا ذکر کرنا اس لیے تھا کہ اہل مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شروع شہرت کا باعث یہ خواب تھا، اللہ تعالیٰ آپ پر بےشمار درود و رحمت بھیجے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ باوجود اس قدر شہرت اور باوجود انبیاء کی متواتر پیش گوئیوں کے بھی جب آپ روشن دلیلیں لے کر آئے تو مخالفین نے اور کافروں نے کہہ دیا کہ یہ تو صاف صاف جاود ہے۔‘
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {وإذْ قال موسى لقومِهِ}: موبخاً لهم على صنيعهم، ومقرعاً لهم على أذيَّته، وهم يعلمون أنَّه رسول الله: {لم تُؤذونَني}: بالأقوال والأفعال، {وقد تعلمونَ أنِّي رسولُ الله إليكم}: والرسولُ من حقِّه الإكرام والإعظام والقيام بأوامره والابتدار لحكمِهِ، وأمَّا أذيَّة الرسول الذي إحسانُه إلى الخلق فوق كلِّ إحسان بعد إحسان الله؛ ففي غاية الوقاحة والجراءة والزيغ عن الصراط المستقيم، الذي قد عَلِموه وتَرَكوه، ولهذا قال: {فلمَّا زاغوا}؛ أي: انصرفوا عن الحقِّ بقصدهم، {أزاغَ الله قلوبَهم}: عقوبةً لهم على زيغهم الذي اختاروه لأنفسهم ورضوه لها، ولم يوفِّقْهم الله للهدى؛ لأنَّهم لا يَليقُ بهم الخير ولا يَصلُحون إلاَّ للشرِّ. {والله لا يهدي القومَ الفاسقينَ}؛ أي: الذينَ لم يزلِ الفسقُ وصفاً لهم، ليس لهم قصد في الهدى. وهذه الآية الكريمة تفيد أن إضلال الله لعبيده ليس ظلماً منه ولا حجَّة لهم عليه، وإنَّما ذلك بسببٍ منهم؛ فإنَّهم الذين أغلقوا على أنفسهم باب الهدى بعدما عرفوه، فيجازيهم بعد ذلك بالإضلال والزيغ وتقليب القلوب عقوبةً لهم وعدلاً منه بهم؛ كما قال تعالى: {ونقلِّبُ أفئِدَتَهم وأبصارَهم كما لم يؤمِنوا به أولَ مرةٍ ونَذَرُهُم في طغيانِهم يعمهونَ}.