تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِي اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ:} اس سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارک {” اَحْمَدُ “} کی صراحت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوش خبری دی تھی۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: [إِنَّ لِيْ أَسْمَاءً، أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِيْ يَمْحُو اللّٰهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِيْ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمِيْ، وَ أَنَا الْعَاقِبُ] [بخاري، التفسیر، باب قولہ تعالٰی: «یأتی من بعدي اسمہ أحمد» : ۴۸۹۶] ”میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی (مٹانے والا) ہوں کہ میرے ساتھ اللہ کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر (اکٹھا کرنے والا) ہوں کہ لوگ میرے پیچھے جمع کیے جائیں گے اور میں عاقب (سب نبیوں کے بعد آنے والا) ہوں۔“
{” اَحْمَدُ “} ({أَفْعَلُ}) اسم تفضیل ہے جو اسم فاعل اور اسم مفعول دونوں کے معنی میں آتا ہے۔ اسم فاعل کے معنی میں ہو تو مطلب ہوگا ”بہت زیادہ حمد کرنے والا“ اور حقیقت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ حمد کرنے والے اور آپ کی امت کے لوگ {”حَمَّادُوْنَ“} (بہت زیادہ حمد کرنے والے) ہیں۔ اگر اسم مفعول کے معنی میں ہو تو معنی ہے ”جس کی بہت زیادہ تعریف کی گئی۔“ اس صورت میں یہ اسم مبارک ”محمد“ کا ہم معنی ہے۔ اسم تفضیل کے اسم مفعول کے معنی میں آنے کی مثال قرآن مجید میں ملتی ہے، فرمایا: «اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ يَقُوْلُوْنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سَبِيْلًا» [النساء: ۵۱] ”کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا، وہ بتوں اور باطل معبود پر ایمان لاتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ان سے زیادہ سیدھے راستے پر ہیں جو ایمان لائے ہیں۔“ اس آیت میں {” اَهْدٰى “} اسم فاعل کے معنی میں (زیادہ ہدایت دینے والے) نہیں بلکہ اسم مفعول کے معنی میں ہے، یعنی ”زیادہ ہدایت دیے گئے۔“ اسی طرح سورۂ فاطر (۴۲) میں بھی {” اَهْدٰى “} اسم مفعول کے معنی میں ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی اس بشارت میں دو چیزیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں، ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے زمانے کی تعیین کہ وہ مسیح علیہ السلام کے بعد آئے گا، دوسرا اسم مبارک {” اَحْمَدُ “} کی صراحت، تاکہ آپ کے متعلق کوئی ابہام یا پوشیدگی نہ رہے۔ جہاں تک نام کا تعلق ہے تو قرآن کے بیان کے مطابق یہ بات یقینی ہے کہ انجیل میں یہ نام موجود تھا۔ اس کی بڑی دلیل یہ ہے کہ اگر قرآن کا یہ بیان غلط ہوتا تو نزول قرآن کے زمانے کے نصرانی ضرور اس کی تردید کرتے۔ موجودہ انجیلوں میں اس نام کا مذکور نہ ہونا اس کی نفی کی دلیل نہیں بن سکتا، کیونکہ اس وقت اصل انجیل دنیا میں موجود ہی نہیں۔ ہمارے سامنے جو انجیلیں عربی، انگریزی یا اردو میں ہیں یہ سب ترجمہ در ترجمہ ہیں۔ ان ترجموں میں باہمی اختلاف اس قدر ہے جتنا خود ان انجیلوں میں ہے۔ یہ ترجمہ کرنے والے حضرات ہر لفظ کا ترجمہ کرتے جاتے ہیں خواہ وہ کسی کا نام ہو، حالانکہ نام میں تبدیلی یا اس کا ترجمہ نہیں کیا جاتا۔ پھر جب کتمان حق اور تحریف کی عادت بھی ہو تو بات کہاں سے کہاں جا پہنچے گی۔ اس کے باوجود زمانے کی تعیین کے ساتھ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کے ساتھ انجیل میں یہ بشارت کئی جگہ موجود ہے جو آپ کے سوا کسی اور پر منطبق نہیں ہوتی۔ یہاں انجیل یوحنا سے چند حوالے نقل کیے جاتے ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی بشارت دی گئی ہے۔ مسیح علیہ السلام نے فرمایا: ”اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمھیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمھارے ساتھ رہے، یعنی سچائی کا روح۔“ [یوحنا، باب ۱۴، فقرہ: 17،16]”لیکن مددگار یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمھیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمھیں یاد دلائے گا۔“ [یوحنا، باب ۱۴، فقرہ: ۲۶] ”اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا، کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔“ [یوحنا، باب ۱۴، فقرہ: ۳۰] ”لیکن جب وہ مددگار آئے گا جس کو میں تمھارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا، یعنی سچائی کا روح جو باپ سے صادر ہوتا ہے تو وہ میری گواہی دے گا۔“ [یوحنا، باب ۱۵، فقرہ: ۲۶] ”مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہیں مگر تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔ اس لیے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا، لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمھیں آئندہ کی خبریں دے گا۔“ [یوحنا، باب ۱۶، فقرہ: 13،12]
یہ حوالے یوحنا کی انجیل سے نقل کیے گئے ہیں جو نصرانیوں کے تمام فرقوں کے ہاں مسلّم ہے۔ انجیل برناباس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ”محمد“ کی صراحت بار بار آئی ہے، مگر موجودہ نصرانی جو پال کے پیروکار ہیں وہ چونکہ اسے نہیں مانتے، اس لیے یوحنا کی انجیل کے حوالے نقل کیے گئے ہیں۔ ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت ایسی صفات کے ساتھ دی گئی ہے جو آپ کے سوا کسی اور پر صادق ہی نہیں آتیں۔ مثلاً ”وہ تمھیں دوسرا مدد گار بخشے گا کہ ابد تک تمھارے ساتھ رہے۔“ اور ”وہی تمھیں سب باتیں سکھائے گا۔“ اور ”دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔“ غور کیجیے! مسیح علیہ السلام کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کون ہے جس پر یہ صفات صادق آتی ہوں۔
➌ { فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ:} بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے مراد مسیح علیہ السلام ہیں، کیونکہ آیت کے شروع میں ان کے خطاب کا ذکر ہے، مگر راجح بات یہ ہے کہ اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یعنی پھر جب وہ ”احمد“ جس کی بشارت عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی واضح نشانیاں لے کر ان کے پاس آیا تو انھوں نے اسے پہچاننے کے باوجود کھلا جادو کہہ کر جھٹلا دیا، جیسا کہ فرمایا: «فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ» [البقرۃ: ۸۹] ”پھر جب ان کے پاس وہ چیز آگئی جسے انھوں نے پہچان لیا تو انھوں نے اس کے ساتھ کفر کیا، پس کافروں پر اللہ کی لعنت ہے۔“ ابن جریر طبری نے یہی معنی کیا ہے اور ابن کثیر اور بہت سے مفسرین نے اسی معنی پر اکتفا کیا ہے، اس کی تائید بعد کی آیت میں {” وَ هُوَ يُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ “} کے الفاظ سے بھی ہوتی ہے، کیونکہ اس سورت کے نزول کے وقت اسلام کی دعوت دینے والے احمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے نہ کہ مسیح علیہ السلام۔
➍ { قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ:} یعنی آپ جو نشانیاں اور معجزات لے کر آئے ان کے متعلق انھوں نے کہہ دیا کہ یہ کھلا جادو ہے، یا مبالغے کے لیے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جادوگر کے بجائے مجسم جادو کہہ دیا، جیسے {” زَيْدٌ عَادِلٌ“} کے بجائے {” زَيْدٌ عَدْلٌ“} کہہ دیتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
رہی یہ بات کہ آیا یہ نام موجودہ بائیبل میں موجود ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ تورات اور انجیل دونوں میں تحریف ہونے کے باوجود آپ کی ایسی واضح صفات اب بھی مذکور ہیں۔ جن کو دیکھ کر آپ کو پہچانا جا سکتا تھا۔ یہود مدینہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے منتظر تھے۔ اور ان میں سے بعض منصف مزاج لوگ انہی مذکورہ صفات کی بنا پر ایمان بھی لے آئے تھے۔
[8] ﴿جَاءَ هُمْ﴾ میں ﴿جاءَ﴾ کی ضمیر کے مرجع عیسیٰؑ بھی ہو سکتے ہیں اور احمد بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ جب عیسیٰؑ بنی اسرائیل کے پاس آئے جو اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیتے تھے۔ مٹی کے پرندے بنا کر ان میں پھونک مارتے تو وہ اڑنے لگتے تھے یا کوڑھی اور پھلبہری والے پر ہاتھ پھیرتے تو وہ تندرست ہو جاتا تھا تو ایسی باتیں دیکھ کر بنی اسرائیل نے ان معجزات کو صریح جادو کہہ دیا۔ اور دوسری صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ سیدنا عیسیٰؑ کی بشارت اور بتائی ہوئی صفات کے مطابق جب آپ مبعوث ہو گئے تو انہیں بنی اسرائیل نے آپ کی تعلیمات کو فریب کاری اور شعبدہ بازی پر محمول کیا۔ اور ایمان نہ لانے کی خاطر طرح طرح کے الزام عائد کرنے لگے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور ساتھ ہی اس میں مومنوں کو ادب سکھایا جا رہا ہے کہ وہ اللہ کے نبی کو ایذاء نہ پہنچائیں ایسا نہ کریں جس سے آپ کا دل دکھتا ہو، جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ اللَّـهُ مِمَّا قَالُوا ۚ وَكَانَ عِندَ اللَّـهِ وَجِيهًا» ۱؎ [33-الأحزاب:69] ’ ایمان والو تم ایسے نہ ہونا جیسے موسیٰ کو ایذاء دینے والے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ذی عزت بندے کو اس کے بہتانوں سے پاک کیا۔ ‘ پس جبکہ یہ لوگ علم کے باوجود اتباع حق سے ہٹ گئے اور ٹیڑھے چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے دل ہدایت سے ہٹا دیئے شک و حیرت ان میں سما گئی۔
جیسے اور جگہ ہے «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:110] یعنی ’ ہم ان کے دل اور آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح یہ ہماری آیتوں پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں چھوڑ دیں گے جس میں وہ سرگرداں رہیں گے ‘
اور جگہ ہے «وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا» ۱؎ [4-النساء:115] ’ جو رسول کی مخالفت کرے ہدایت ظاہر ہو جانے کے بعد اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی دوسرے کی تابعداری کرے ہم اسے اسی طرف متوجہ کریں گے جس طرف وہ متوجہ ہوا ہے اور بالاخر اسے ہم جہنم میں ڈال دیں گے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ ‘ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فاسقوں کی رہبری نہیں کرتا، پھر عیسیٰ علیہ السلام کا خطبہ بیان ہوتا ہے جو آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں پڑھا تھا جس میں فرمایا تھا کہ ”توراۃ میں میری خوشخبری دی گئی تھی اور اب میں تمہیں اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی پیش گوئی سناتا ہوں جو نبی امی، عربی مکی، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“
پس عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء اور مرسلین کے خاتم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ تو کوئی نبی آئے نہ رسول، نبوت و رسالت سب آپ پر من کل الوجوہ ختم ہو گئی۔
ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اپنے بہت سے نام بیان فرمائے جو ہمیں محفوظ رہے ان میں سے چند یہ ہیں، فرمایا: ” «أَنَا مُحَمَّد وَأَنَا أَحْمَد وَالْحَاشِر وَالْمُقَفِّي وَنَبِيّ الرَّحْمَة وَالتَّوْبَة وَالْمَلْحَمَة» میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں، میں مقفی ہوں، میں نبی الرحمتہ ہوں، میں نبی التوبہ ہوں، میں نبی الْمَلْحَمَة ہوں“، یہ حدیث بھی صحیح مسلم شریف میں ہے۔} ۱؎ [صحیح مسلم:2355]
قرآن کریم میں ہے «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» ۱؎ [7-الأعراف:157] ’ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول نبی امی کی جنہیں اپنے پاس لکھا ہوا پاتے ہیں توراۃ میں بھی اور انجیل میں بھی۔ ‘
اور جگہ فرمان ہے «وَإِذْ أَخَذَ اللَّه مِيثَاق النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَاب وَحِكْمَة ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُول مُصَدِّق لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلْتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنْ الشَّاهِدِينَ» ۱؎ [3-آلعمران:81] الخ، ’ اللہ تعالیٰ نے جب نبیوں سے عہد لیا کہ جب کبھی میں تمہیں کتاب و حکمت دوں پھر تمہارے پاس میرا رسول آئے جو اسے سچ کہتا ہو جو تمہارے ساتھ ہے تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤ گے اور اس کی ضرور مدد کرو گے کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میرا عہد لیتے ہو؟ سب نے کہا ہمیں اقرار ہے فرمایا بس گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔‘
ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اپنی خبر سنایئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام کی خوشخبری ہوں، میری والدہ کا جب پاؤں بھاری ہوا تو خواب میں دیکھا کہ گویا ان میں سے ایک نور نکلا ہے جس سے شام کے شہر بصریٰ کے محلات چمک اٹھے۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:2057] اس کی سند عمدہ ہے اور دوسری سندوں سے اس کے شواہد بھی ہیں۔
مسند احمد میں ہے { میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاتم الانبیاء تھا درآنحالیکہ آدم علیہ السلام اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔ میں تمہیں اس کی ابتداء سناؤں۔ میں اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور اپنی ماں کا خواب ہوں۔ انبیاء کی والدہ اسی طرح خواب دکھائی جاتی ہیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:127/4:صحیح لغیرہ] مسند احمد میں اور سند سے بھی اسی کے قریب روایت مروی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:262/5:صحیح لغیرہ]
نجاشی نے پوچھا وہ کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا یہیں اسی شہر میں ہیں، حکم دیا کہ انہیں حاضر کرو، چنانچہ یہ مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم دربار میں آئے ان کے خطیب اس وقت جعفر رضی اللہ عنہ تھے باقی لوگ ان کے ماتحت تھے، یہ جب آئے تو انہوں نے سلام تو کیا لیکن سجدہ نہیں کیا درباریوں نے کہا تم بادشاہ کے سامنے سجدہ کیوں نہیں کرتے؟ جواب ملا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے، پوچھا گیا کیوں؟ فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول ہماری طرف بھیجا اور اس رسول نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو سجدہ نہ کریں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم نمازیں پڑھتے رہیں زکوٰۃ ادا کرتے رہیں۔
اب عمرو بن العاص سے نہ رہا گیا کہ ایسا نہ ہو ان باتوں کا اثر بادشاہ پر پڑے درباریوں اور بادشاہ کو بھڑکانے کے لیے وہ بیچ میں بول پڑا کہ حضور ان کے اعتقاد عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں آپ لوگوں سے بالکل مختلف ہیں، اس پر بادشاہ نے پوچھا: بتاؤ تم عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہمارا عقیدہ اس بارے میں وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں ہمیں تعلیم فرمایا کہ وہ کلمتہ اللہ ہیں، روح اللہ ہیں، جس روح کو اللہ تعالیٰ کنواری مریم بتول کی طرف القا کیا جو کنواری تھیں، جنہیں کسی انسان نے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا، نہ انہیں بچہ ہونے کا کوئی موقعہ تھا۔ بادشاہ نے یہ سن کر زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا: اے حبشہ کے لوگو اور اے واعظو عالمو اور درویشو ان کا اور ہمارا اس کے بارے میں ایک ہی عقیدہ ہے اللہ کی قسم ان کے اور ہمارے عقیدے میں اس تنکے جتنا بھی فرق نہیں۔
ان مہاجرین کرام میں سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو جلد ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملے، جنگ بدر میں بھی آپ نے شرکت کی۔ اس شاہ حبشہ کے انتقال کی خبر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کے لیے بخشش کی دعا مانگی۔ ۱؎ [مسند احمد:461/1:ضعیف] یہ پورا واقعہ سیدنا جعفر اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:201/1:ضعیف]
تفسیری موضوع سے چونکہ یہ الگ چیز ہے اس لیے ہم نے اسے یہاں مختصراً وارد کر دیا مزید تفصیل سیرت کی کتابوں میں ملاحظہ ہو۔
ہمارا مقصود یہ ہے کہ عالی جناب حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت اگلے انبیاء کرام علیہم السلام برابر پشین گوئیاں کرتے رہے اور اپنی امت کو اپنی کتاب میں سے آپ کی صفتیں سناتے رہے اور آپ کی اتباع اور نصرت کا انہیں حکم کرتے رہے، ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کی شہرت ابراہیم خلیل اللہ کی دعا کے بعد ہوئی جو تمام انبیاء کے باپ تھے اسی طرح مزید شہرت کا باعث عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوئی جس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل کے سوال پر اپنے امر نبوت کی نسبت دعا خلیل اللہ اور نوید مسیح کی طرف کی ہے، اس سے یہی مراد ہے ان دونوں کے ساتھ آپ کا اپنی والدہ محترمہ کے خواب کا ذکر کرنا اس لیے تھا کہ اہل مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شروع شہرت کا باعث یہ خواب تھا، اللہ تعالیٰ آپ پر بےشمار درود و رحمت بھیجے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ باوجود اس قدر شہرت اور باوجود انبیاء کی متواتر پیش گوئیوں کے بھی جب آپ روشن دلیلیں لے کر آئے تو مخالفین نے اور کافروں نے کہہ دیا کہ یہ تو صاف صاف جاود ہے۔‘
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مخبراً عن عناد بني إسرائيل المتقدِّمين الذين دعاهم عيسى بن مريم وقال لهم: {يا بني إسرائيلَ إنِّي رسولُ اللهِ إليكم}؛ أي: أرسلني الله لأدعوكم إلى الخير وأنهاكم عن الشرِّ، وأيَّدني بالبراهين الظاهرة، ومما يدلُّ على صدقي كوني {مصدِّقاً لما بين يديَّ من التَّوراة}؛ أي: جئت بما جاء به موسى من التوراة والشرائع السماويَّة، ولو كنت مدَّع للنبوَّةِ؛ لجئتُ بغير ما جاء به المرسلون، و {مصدِّقاً لما بين يديَّ من التَّوراة}: أيضاً أنها أخبرت بي وبشَّرت، فجئتُ وبعثتُ مصدقاً لها، {ومبشراً برسول يأتي من بعدي اسمُهُ أحمدُ}: وهو محمد بن عبد الله بن عبد المطلب النبيُّ الهاشميُّ؛ فعيسى عليه الصلاة والسلام كسائر الأنبياء ؛ يصدِّق بالنبيِّ السابق، ويبشِّر بالنبيِّ اللاحق؛ بخلاف الكذَّابين؛ فإنَّهم يناقضون الأنبياء أشدَّ مناقضة، ويخالِفونهم في الأوصاف والأخلاق والأمرِ والنهي، {فلمَّا جاءهم}: محمدٌ - صلى الله عليه وسلم - الذي بَشَّرَ به عيسى {بالبيِّناتِ}؛ أي: الأدلَّة الواضحة الدالَّة على أنه هو، وأنَّه رسول الله حقًّا، {قالوا}: معاندين للحقِّ مكذِّبين له: {هذا سحرٌ مبينٌ}: وهذا من أعجب العجائب، الرسول الذي قد وضحت رسالتُه وصارتْ أبين من شمس النهار؛ يُجعل ساحراً بيِّناً سحره؛ فهل في الخذلان أعظم من هذا؟! وهل في الافتراء أبلغ من هذا الافتراء الذي نفى عنه ما كان معلوماً من رسالته وأثبتَ له ما كان أبعد الناس عنه ؟!