اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! تم مجھے کیوں تکلیف دیتے ہو، حالانکہ یقینا تم جانتے ہو کہ میں تمھاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ پھر جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دیے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
En
اور وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ تو جب ان لوگوں نے کج روی کی خدا نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیئے۔ اور خدا نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا
اور (یاد کرو) جبکہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم کے لوگو! تم مجھے کیوں ستا رہے ہو حاﻻنکہ تمہیں (بخوبی) معلوم ہے کہ میں تمہاری جانب اللہ کا رسول ہوں پس جب وه لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے ان کے دلوں کو (اور) ٹیڑھا کر دیا، اور اللہ تعالیٰ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاِذْقَالَمُوْسٰؔىلِقَوْمِهٖ﴾”اور (یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا۔“ یعنی ان کے کرتوت پر زجر و توبیخ کرتے ہو ئے اور انھیں آپ کو اللہ کا رسول سمجھنے کے باوجود اذیت پہنچانے سے باز رکھتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا: ﴿ لِمَتُؤْذُوْنَنِیْ﴾ اپنے اقوال و افعال کے ذریعے سے مجھے کیوں اذیت دیتے ہو؟ ﴿ وَقَدْتَّعْلَمُوْنَاَنِّیْرَسُوْلُاللّٰهِاِلَیْكُمْ﴾”اور تم جانتے ہو کہ میں تمھاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔“ رسول کی اکرام و تعظیم، اس کے احکامات کی تعمیل اور اس کے فیصلے کو قبول کرنا رسول کا حق ہے۔رہا رسول کو اذیت پہنچانا جس کا مخلوق پر اللہ تعالیٰ کے احسان کے بعد سب سے بڑا احسان ہےتو یہ سب سے بڑی بے شرمی، جسارت اور صراط مستقیم سے انحراف ہے، جسے جان بوجھ کر انھوں نے ترک کر دیا۔ اس لیے فرمایا: ﴿ فَلَمَّازَاغُوْۤا﴾”پس جب انھوں نے کج روی کی۔“ یعنی اپنے ارادے سے حق سے پھر گئے ﴿ اَزَاغَاللّٰهُقُلُوْبَهُمْ﴾”تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے۔“ یعنی ان کی کج روی کی سزا کے طور پر، جسے انھوں نے اپنے لیے خود چنا اور اس پر راضی ہوئے، اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت کی توفیق نہ دی، وہ شر کے سوا کسی چیز کے قابل نہ تھے۔ ﴿ وَاللّٰهُلَایَهْدِیالْقَوْمَالْفٰسِقِیْنَ﴾”اور اللہ فاسق و نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔“ یعنی وہ لوگ کہ فسق جن کا وصف ہےاور وہ ہدایت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو گمراہ کرنا، اس کا ظلم نہیں اور نہ بندوں کی اس پر کوئی حجت ہےبلکہ اس گمراہی کا سبب وہ خود ہیں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت کو پہچان لینے کے بعد اپنے آپ پر ہدایت کے دروازے خود بند کر لیے ہیں تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بدلے کے طور پر سزا دیتے ہوئے اور اپنے عدل کی بنا پر ان کو گمراہی اور کجروی میں مبتلا کر تے ہوئے ان کے دلوں کو بدل ڈالتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَنُقَلِّبُاَفْــِٕدَتَهُمْوَاَبْصَارَهُمْكَمَالَمْیُؤْمِنُوْابِهٖۤاَوَّلَمَرَّةٍوَّنَذَرُهُمْفِیْطُغْیَانِهِمْیَعْمَهُوْنَ﴾ (الانعام:6؍110) ”ہم ان کے دلوں اور ان کی نگاہوں کو بدل ڈالتے ہیں جیسا کہ یہ لوگ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {وإذْ قال موسى لقومِهِ}: موبخاً لهم على صنيعهم، ومقرعاً لهم على أذيَّته، وهم يعلمون أنَّه رسول الله: {لم تُؤذونَني}: بالأقوال والأفعال، {وقد تعلمونَ أنِّي رسولُ الله إليكم}: والرسولُ من حقِّه الإكرام والإعظام والقيام بأوامره والابتدار لحكمِهِ، وأمَّا أذيَّة الرسول الذي إحسانُه إلى الخلق فوق كلِّ إحسان بعد إحسان الله؛ ففي غاية الوقاحة والجراءة والزيغ عن الصراط المستقيم، الذي قد عَلِموه وتَرَكوه، ولهذا قال: {فلمَّا زاغوا}؛ أي: انصرفوا عن الحقِّ بقصدهم، {أزاغَ الله قلوبَهم}: عقوبةً لهم على زيغهم الذي اختاروه لأنفسهم ورضوه لها، ولم يوفِّقْهم الله للهدى؛ لأنَّهم لا يَليقُ بهم الخير ولا يَصلُحون إلاَّ للشرِّ. {والله لا يهدي القومَ الفاسقينَ}؛ أي: الذينَ لم يزلِ الفسقُ وصفاً لهم، ليس لهم قصد في الهدى. وهذه الآية الكريمة تفيد أن إضلال الله لعبيده ليس ظلماً منه ولا حجَّة لهم عليه، وإنَّما ذلك بسببٍ منهم؛ فإنَّهم الذين أغلقوا على أنفسهم باب الهدى بعدما عرفوه، فيجازيهم بعد ذلك بالإضلال والزيغ وتقليب القلوب عقوبةً لهم وعدلاً منه بهم؛ كما قال تعالى: {ونقلِّبُ أفئِدَتَهم وأبصارَهم كما لم يؤمِنوا به أولَ مرةٍ ونَذَرُهُم في طغيانِهم يعمهونَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔