ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصف (61) — آیت 13

وَ اُخۡرٰی تُحِبُّوۡنَہَا ؕ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَتۡحٌ قَرِیۡبٌ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳﴾
اور ایک اور چیز جسے تم پسند کرتے ہو اللہ کی طرف سے مدد اور قریب فتح ہے اور ایمان والوں کو خوش خبری سنا دے۔ En
اور ایک اور چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو (یعنی تمہیں) خدا کی طرف سے مدد (نصیب ہوگی) اور فتح عنقریب ہوگی اور مومنوں کو (اس کی) خوشخبری سنا دو
En
اور تمہیں ایک دوسری (نعمت) بھی دے گا جسے تم چاہتے ہو وه اللہ کی مدد اور جلد فتح یابی ہے، ایمان والوں کو خوشخبری دے دو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13) {وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا …: اُخْرٰى } محذوف موصوف {نِعْمَةٌ} کی صفت ہے جو مبتدا ہے، خبر اس کی {لَكُمْ} محذوف ہے: {أَيْ وَلَكُمْ نِعْمَةٌ أُخْرٰي} یعنی اور تمھارے لیے مغفرتِ ذنوب اور دخولِ جنت کے علاوہ ایک اور نعمت { نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِيْبٌ } بھی ہے جو تمھیں پسند ہے۔ آخرت کی نعمتوں کے ساتھ دنیوی نعمتوں کا ذکر کر کے جہاد کی ترغیب دلائی ہے، دنیا میں فتح و کامرانی بھی اگرچہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، مگر یہ مومن کے لیے اصل مقصود نہیں۔ اس لیے پہلے حاصل ہونے کے باوجود اس کا ذکر بعد میں فرمایا اور آخرت میں حاصل ہونے والی نعمتوں کا ذکر پہلے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے ساتھ اپنی نصرت اور فتح قریب کا یہ وعدہ پورا فرمایا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں مکہ فتح ہو گیا، پھر پورا جزیرۂ عرب مشرکین سے پاک ہوگیا۔ اس کے بعد اتنی تھوڑی مدت میں اسلام کا جھنڈا پوری دنیا پر لہرانے لگا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، چنانچہ مسلمان قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں کے مالک بن گئے اور انھوں نے ایسے عمدہ طریقے سے کاروبار سلطنت چلایا جس کی خوبی دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

13۔ 1 یعنی جب تم اس کی راہ میں لڑو گے اور اس کے دین کی مدد کروگے، تو وہ بھی تمہیں فتح و نصرت سے نوازے گا۔ " ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم " (سورة محمد) " ولینصرن اللہ من ینصرہ ان اللہ لقوی عزیز " (الحج) آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں اسے فتح قریب قرار دیا اور اس سے مراد فتح مکہ ہے اور بعض نے فارس و روم کی عظیم الشان سلطنتوں پر مسلمانوں کے غلبے کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔ جو خلافت راشدہ میں مسلمانوں کو حاصل ہوا۔ 13۔ 2 جنت کی بھی، مرنے کے بعد اور فتح و نصرت کی بھی، دنیا میں، بشرطیکہ اہل ایمان ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہیں۔ " وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ " 3۔ آل عمران:139) آگے اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو اپنے دین کی نصرت کی مزید ترغیب دے رہا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ اور ایک دوسری چیز (بھی عطا کرے گا) جسے تم پسند کرتے ہو اور وہ ہے اللہ کی مدد اور جلد ہی (حاصل ہونے والی) فتح [14]۔ آپ مومنوں کی اس کی بشارت [15] دے دیجئے
[14] اللہ تعالیٰ نے پہلے اخروی نعمتوں کا ذکر فرمایا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ⑰ اصل اور پائیدار نعمتیں وہی ہیں ان کے علاوہ ایک اور تیسری نعمت جو اس دنیا سے متعلق ہے۔ اس کا بعد میں ذکر فرمایا۔ اور یہ پسندیدہ اس لحاظ سے ہے کہ انسان طبعاً نقد چیز کو زیادہ پسند کرتا ہے۔ اور وہ نعمت ہے اللہ کی مدد سے مکہ کی فتح جو عنقریب حاصل ہو گی۔ گویا اللہ سے ایمانداروں کا یہ سودا ہر لحاظ سے منفعت بخش اور بارآور ہے۔ دنیا میں فتح حاصل ہوتی ہے اور اموال غنیمت وغیرہ بھی ملتے ہیں۔ عزت حاصل ہوتی ہے اسلام کی فتح سے روحانی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ اور آخرت میں جو فائدے حاصل ہوں گے وہ ان سب سے بڑھ کر ہیں۔
[15] یعنی اس مدد اور قریبی فتح کی بشارت بذات خود ایک مستقل انعام ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رہا اس تجارت کا دنیوی اجر و ثواب، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے: ﴿ وَاُخْرٰؔى تُحِبُّوْنَهَا یعنی تمھیں ایک اور چیز حاصل ہو گی جسے تم پسند کرتے ہو، اور وہ ہے ﴿ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ دشمن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ فتح و نصرت، جس سے عزت و فرحت حاصل ہوتی ہے ﴿ وَفَ٘تْحٌ قَ٘رِیْبٌ اور جلد فتح یابی جس سے اسلام کا دائرہ وسیع ہو گا اور وسیع رزق حاصل ہو گا، یہ مومن مجاہدوں کی جزا ہے۔
رہے وہ مومنین جو جہاد نہیں کر رہے، جب ان کے علاوہ دوسرے لوگ فریضۂ جہاد ادا کر رہے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے جہاد میں شریک نہ ہونے والے مومنوں کو بھی اپنے فضل و احسان سے مایوس نہیں کیا بلکہ فرمایا: ﴿ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ یعنی مومنوں کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی بشارت دے دو، اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے درجے کو تو نہیں پہنچ سکتے تاہم ہر شخص کو اس کے ایمان کے مطابق ثواب ملے گا۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ جنت میں سو درجات ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے۔ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین في سبیل اللہ، حدیث: 2790)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأما الثواب الدنيويُّ لهذه التجارة؛ فذكره بقوله: {وأخرى تحبُّونها}؛ أي: ويحصُلُ لكم خَصْلَةٌ أخرى تحبُّونها، وهي: {نصرٌ من الله}: لكم على الأعداء، يحصُلُ به العزُّ والفرح، {وفتحٌ قريبٌ}: تتَّسع به دائرة الإسلام، ويحصُلُ به الرزق الواسع؛ فهذا جزاء المؤمنين المجاهدين، وأما المؤمنون من غير أهل الجهاد إذا قام غيرهم بالجهادِ؛ فلم يؤيِّسْهُمُ الله تعالى من فضله وإحسانه، بل قال: {وبشِّرِ المؤمنينَ}؛ أي: بالثواب العاجل والآجل؛ كلٌّ على حسب إيمانه، وإن كانوا لا يبلغون مبلغ المجاهدين في سبيل الله؛ كما قال النبيُّ - صلى الله عليه وسلم -: «مَنْ رَضِي بالله ربًّا، وبالإسلام ديناً، وبمحمدٍ رسولاً؛ وجبتْ له الجنةُ». فعجب لها أبو سعيد الخدريُّ راوي الحديث، فقال: أعدها عليَّ يا رسول الله! فأعادها عليه، ثم قال: «وأخرى يُرْفَعُ بها العبدُ مائة درجةٍ في الجنة، ما بين كلِّ درجتين كما بين السماء والأرض». فقال: وما هي يا رسولَ الله؟ قال: «الجهادُ في سبيل الله، الجهاد في سبيل الله». رواه مسلم.