ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصف (61) — آیت 12

یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ وَ یُدۡخِلۡکُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ وَ مَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿ۙ۱۲﴾
وہ تمھیں تمھارے گناہ معاف کردے گا اور تمھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور رہنے کی پاکیزہ جگہوں میں، جو ہمیشہ رہنے کے باغوں میں ہیں، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ En
وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو باغہائے جنت میں جن میں نہریں بہہ رہیں ہیں اور پاکیزہ مکانات میں جو بہشت ہائے جاودانی میں (تیار) ہیں داخل کرے گا۔ یہ بڑی کامیابی ہے
En
اللہ تعالیٰ تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور تمہیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور صاف ستھرے گھروں میں جو جنت عدن میں ہوں گے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12) ➊ { يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ يُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ: يَغْفِرْ } اور {يُدْخِلْ} پر جزم { تُؤْمِنُوْنَ } اور { تُجَاهِدُوْنَ } کا جواب ہونے کی وجہ سے آئی ہے، کیونکہ وہ امر کے معنی میں ہیں اور امر کے جواب میں مضارع آئے تو اس پر جزم آتی ہے۔
➋ {وَ مَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ: مَسٰكِنَ طَيِّبَةً } کا خاص طور پر اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ آدمی کی پسندیدہ ترین چیزوں میں اس کا مسکن بھی ہے جسے چھوڑے بغیر جہاد ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پسندیدہ مساکن چھوڑنے کے عوض { مَسٰكِنَ طَيِّبَةً } کی بشارت سنائی، جن میں دوام کی خوبی بھی ہے، جب کہ دنیا کے مساکن کسی کے پاس رہنے والے نہیں۔ سورۂ توبہ میں فرمایا: «قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ» ‏‏‏‏ [التوبۃ: ۲۴] کہہ دے اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارا خاندان اور وہ اموال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور رہنے کے مکانات، جنھیں تم پسند کرتے ہو، تمھیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
➌ { ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ:} خبر { الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ } پر الف لام سے حصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے، یعنی فوز عظیم صرف یہ ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنت کے سوا کوئی اور چھوٹی کامیابی بھی ہے، بلکہ { الْعَظِيْمُ } کا لفظ صرف اس کامیابی کی عظمت کے بیان کے لیے آیا ہے، ورنہ کامیاب صرف وہ ہے جو آخرت میں کامیاب ہے، کوئی دوسرا حقیقت میں کامیاب ہے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَ مَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» ‏‏‏‏ [آل عمران: ۱۸۵] پھر جو شخص آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

2۔ 1 یعنی انسان کے لیے خیروشر، نیکی اور بدی اور کفر و ایمان کے راستوں کی وضاحت کے بعد اللہ نے انسان کو ارادہ واختیار کی جو آزادی دی ہے اس کی رو سے کسی نے کفر کا اور کسی نے ایمان کا راستہ اپنایا ہے اس نے کسی پر جبر نہیں کیا ہے۔ اگر وہ جبر کرتا تو کوئی بھی شخص کفر کا راستہ اختیار کرنے پر قادر نہ ہوتا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ وہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہ رہی ہیں اور ہمیشہ رہنے والے باغوں میں پاکیزہ گھر عطا کرے گا۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چنانچہ فرمایا:﴿ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ اللہ تعالیٰ تمھارے گناہ معاف فرما دے گا۔ اور یہ تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو شامل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں خواہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ﴿وَیُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْ٘هٰرُ اور وہ تمھیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ یعنی اس کے مساکن، اس کے محلات، اس کے بالا خانوں اور اس کے درختوں کے نیچے ایسے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس میں بونہ ہو گی، ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گی جس کا ذائقہ متغیر نہ ہو گا، ایسی شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کو لذت دے گی اور خالص شہد کی نہریں ہوں گی اور جنت کے اندر ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے۔
﴿ وَمَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ یعنی جنت میں ہر اچھی چیز جمع ہو گی، بلندی، ارتفاع، عمارتوں کی خوبصورتی اور سجاوٹ حتیٰ کہ اہل علیین کو دیگر اہل جنت اس طرح دیکھیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں چمک دار ستارہ دیکھا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ جنت کی (عمارتوں کی) تعمیر کی کچھ اینٹیں سونے کی ہوں گی اور کچھ چاندی کی، اس کے خیموں میں موتی اور مرجان جڑے ہوئے ہوں گے، جنت کے بعض گھر زمرد اور بہترین رنگوں کے جواہرات کے بنے ہوئے ہوں گے، حتیٰ کہ ان کے صاف و شفاف ہونے کی وجہ سے ان کے اندر سے بیرونی اور باہر سے اندرونی حصہ صاف نظر آئے گا۔ جنت کے اندر خوشبو اور ایسا حسن ہو گا کہ وصف بیان کرنے والے اس کا وصف بیان کر سکتے ہیں نہ اس کا تصور دنیا میں کسی شخص کے دل میں آیا ہے، ان کے لیے ممکن نہیں کہ اسے پا سکیں، جب تک کہ اسے دیکھ نہ لیں، وہ اس کے حسن سے متمتع ہوں گے اور اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔
اس حالت میں اگر اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو کامل زندگی عطا نہ کی ہوتی جو موت کو قبول نہیں کرتی تو ہو سکتا ہے کہ وہ خوشی سے مر جاتے۔ پس پاک ہے وہ ذات کہ اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی، اس کی ثنا بیان نہیں کر سکتی بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے، وہ اس حمد و ثنا سے بہت بڑھ کر ہے جو اس کی مخلوق میں سے کوئی بیان کرتا ہے۔بہت بابرکت ہے وہ جلیل و جمیل ہستی، جس نے نعمتوں کے گھر جنت کو تخلیق فرمایا، اس کو ایسا جلال و جمال عطا کیا جو مخلوق کی عقلوں کو مبہوت اور ان کے دلوں کو پکڑ لیتا ہے۔بالا و برتر ہے وہ ذات، جو کامل حکمت کی مالک ہے، یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اگر بندے جنت اور اس کی نعمتوں کو دیکھ لیں، تو اس کو حاصل کرنے سے کوئی پیچھے نہ رہے اور انھیں اس دنیا کی ناخوشگوار اور مکدر زندگی کبھی اچھی نہ لگتی، جس کی نعمتوں میں درد و الم اور جس کی فرحتوں میں رنج و غم کی ملاوٹ ہے۔
اس کو جنت عدن اس لیے کہا گیا کہ اہل جنت اس میں ہمیشہ مقیم رہیں گے اور اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور نہ اس سے منتقل ہونا چاہیں گے۔ یہ ثواب جزیل اور اجر جمیل ہی درحقیقت بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس جیسی کوئی اور کامیابی نہیں۔ یہ ہے اخروی ثواب۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا ذَكَرَ الجزاء في الآخرة فقال: {يَغْفِرْ لكم ذُنوبَكم}: وهو شاملٌ للصغائر والكبائر؛ فإنَّ الإيمان بالله والجهاد في سبيله مكفِّرٌ للذُّنوب، ولو كانت كبائر، {ويدخِلْكم جناتٍ تجري من تحتها الأنهار}؛ أي: من تحت مساكنها وقصورها وغُرَفِها وأشجارها أنهارٌ من ماءٍ غير آسن وأنهارٌ من لبنٍ لم يتغيَّرْ طعمُه وأنهارٌ من خمر لذَّةٍ للشاربين وأنهارٌ من عسل مصفى ولهم فيها من كلِّ الثمرات، {ومساكنَ طيِّبةً في جناتِ عدنٍ}؛ أي: جمعت كلَّ طيبٍ من علوٍّ وارتفاع وحسن بناءٍ وزخرفةٍ، حتَّى إنَّ أهل الغرف من أهل علِّيين يتراءاهم أهلُ الجنَّة كما يُتراءى الكوكب الدُّرِّي في الأفق الشرقيِّ أو الغربيِّ، وحتَّى إنَّ بناء الجنَّة بعضُه من لَبِنِ ذهبٍ وبعضُه من لَبِنِ فضَّةٍ ، وخيامها من اللؤلؤ والمرجان، وبعض المنازل من الزُّمُرُّد والجواهر الملونة بأحسن الألوان، حتى إنَّها من صفائها يُرى ظاهرُها من باطنها وباطنُها من ظاهرها، وفيها من الطيبِ والحُسن ما لا يأتي عليه وصفُ الواصفين ولا خَطَرَ على قلب أحدٍ من العالمين، لا يمكن أن يدرِكوه حتى يَرَوْه ويتمتَّعوا بحسنه، وتقرَّ به أعينُهم.

ففي تلك الحالة لولا أنَّ الله خَلَقَ أهل الجنَّة وأنشأهم نشأةً كاملةً لا تقبلُ العدم؛ لأوشك أن يموتوا من الفرح؛ فسبحان من لا يحصي أحدٌ من خلقه ثناءً عليه، بل هو كما أثنى على نفسه، وفوق ما يُثْني عليه أحدٌ من خلقه، وتبارك الجليلُ الجميلُ، الذي أنشأ دار النعيم، وجعل فيها من الجلال والجمال ما يبهر عقولَ الخلق ويأخُذُ بأفئِدتهم، وتعالى من له الحكمةُ التامَّة، الذي من جملتها أنه لو أرى العباد الجنَّة ونظروا إلى ما فيها من النعيم؛ لما تخلَّف عنها أحدٌ، ولما هناهم العيش في هذه الدار المنغصة المَشوب نعيمها بألمها وفرحها بِتَرَحِها. وسُمِّيت [الجنة] جنَّة عدن؛ لأنَّ أهلها مقيمون فيها، لا يخرجون منها أبداً، ولا يبغون عنها حِوَلاً. ذلك الثواب الجزيل والأجر الجميل هو الفوزُ العظيم الذي لا فوزَ مثله؛ فهذا الثواب الأخرويُّ.