تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ مَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ: ” مَسٰكِنَ طَيِّبَةً “} کا خاص طور پر اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ آدمی کی پسندیدہ ترین چیزوں میں اس کا مسکن بھی ہے جسے چھوڑے بغیر جہاد ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پسندیدہ مساکن چھوڑنے کے عوض {” مَسٰكِنَ طَيِّبَةً “} کی بشارت سنائی، جن میں دوام کی خوبی بھی ہے، جب کہ دنیا کے مساکن کسی کے پاس رہنے والے نہیں۔ سورۂ توبہ میں فرمایا: «قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ» [التوبۃ: ۲۴] ”کہہ دے اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارا خاندان اور وہ اموال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور رہنے کے مکانات، جنھیں تم پسند کرتے ہو، تمھیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔“
➌ { ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ:} خبر {” الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ “} پر الف لام سے حصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے، یعنی فوز عظیم صرف یہ ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنت کے سوا کوئی اور چھوٹی کامیابی بھی ہے، بلکہ {” الْعَظِيْمُ “} کا لفظ صرف اس کامیابی کی عظمت کے بیان کے لیے آیا ہے، ورنہ کامیاب صرف وہ ہے جو آخرت میں کامیاب ہے، کوئی دوسرا حقیقت میں کامیاب ہے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَ مَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» [آل عمران: ۱۸۵] ”پھر جو شخص آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا ذَكَرَ الجزاء في الآخرة فقال: {يَغْفِرْ لكم ذُنوبَكم}: وهو شاملٌ للصغائر والكبائر؛ فإنَّ الإيمان بالله والجهاد في سبيله مكفِّرٌ للذُّنوب، ولو كانت كبائر، {ويدخِلْكم جناتٍ تجري من تحتها الأنهار}؛ أي: من تحت مساكنها وقصورها وغُرَفِها وأشجارها أنهارٌ من ماءٍ غير آسن وأنهارٌ من لبنٍ لم يتغيَّرْ طعمُه وأنهارٌ من خمر لذَّةٍ للشاربين وأنهارٌ من عسل مصفى ولهم فيها من كلِّ الثمرات، {ومساكنَ طيِّبةً في جناتِ عدنٍ}؛ أي: جمعت كلَّ طيبٍ من علوٍّ وارتفاع وحسن بناءٍ وزخرفةٍ، حتَّى إنَّ أهل الغرف من أهل علِّيين يتراءاهم أهلُ الجنَّة كما يُتراءى الكوكب الدُّرِّي في الأفق الشرقيِّ أو الغربيِّ، وحتَّى إنَّ بناء الجنَّة بعضُه من لَبِنِ ذهبٍ وبعضُه من لَبِنِ فضَّةٍ ، وخيامها من اللؤلؤ والمرجان، وبعض المنازل من الزُّمُرُّد والجواهر الملونة بأحسن الألوان، حتى إنَّها من صفائها يُرى ظاهرُها من باطنها وباطنُها من ظاهرها، وفيها من الطيبِ والحُسن ما لا يأتي عليه وصفُ الواصفين ولا خَطَرَ على قلب أحدٍ من العالمين، لا يمكن أن يدرِكوه حتى يَرَوْه ويتمتَّعوا بحسنه، وتقرَّ به أعينُهم.
ففي تلك الحالة لولا أنَّ الله خَلَقَ أهل الجنَّة وأنشأهم نشأةً كاملةً لا تقبلُ العدم؛ لأوشك أن يموتوا من الفرح؛ فسبحان من لا يحصي أحدٌ من خلقه ثناءً عليه، بل هو كما أثنى على نفسه، وفوق ما يُثْني عليه أحدٌ من خلقه، وتبارك الجليلُ الجميلُ، الذي أنشأ دار النعيم، وجعل فيها من الجلال والجمال ما يبهر عقولَ الخلق ويأخُذُ بأفئِدتهم، وتعالى من له الحكمةُ التامَّة، الذي من جملتها أنه لو أرى العباد الجنَّة ونظروا إلى ما فيها من النعيم؛ لما تخلَّف عنها أحدٌ، ولما هناهم العيش في هذه الدار المنغصة المَشوب نعيمها بألمها وفرحها بِتَرَحِها. وسُمِّيت [الجنة] جنَّة عدن؛ لأنَّ أهلها مقيمون فيها، لا يخرجون منها أبداً، ولا يبغون عنها حِوَلاً. ذلك الثواب الجزيل والأجر الجميل هو الفوزُ العظيم الذي لا فوزَ مثله؛ فهذا الثواب الأخرويُّ.