تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ۠ مَنْ اَنْصَارِيْۤ اِلَى اللّٰهِ: ” اِلَى اللّٰهِ “} کی ترکیب دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ {”مَنْ أَنْصَارِيْ فِي الدَّعْوَةِ إِلَي اللّٰهِ“} ”اللہ کی طرف دعوت میں میرے مددگار کون ہیں؟“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ» [یوسف: ۱۰۸] ”کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں۔“ اور دوسری ترکیب یہ ہے: {”مَنْ أَنْصَارِيْ ذَاهِبًا إِلَي اللّٰهِ “} ”اللہ کی طرف جاتے ہوئے میرے مددگار کون ہیں؟“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «وَ قَالَ اِنِّيْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ» [الصافات: ۹۹] ”اور اس نے کہا میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں، وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا۔“ مزید دیکھیے سورۂ آلِ عمران (۵۲) کی تفسیر۔
➌ {قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ …:} جہاد فی سبیل اللہ کے دوران کئی مرحلے آتے ہیں جن میں سب سے آخری مرحلہ اللہ کے دشمنوں سے قتال اور جنگ کا ہوتا ہے، جس کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان سورت کے شروع سے آ رہا ہے۔ اس سے بھی مشکل مرحلہ وہ ہوتا ہے جب حق کی طرف دعوت دینے والا اکیلا ہوتا ہے یا اس کے ساتھ چند آدمی ہوتے ہیں۔ دوسرے تمام لوگ اس کے دشمن ہوتے ہیں جو گالی گلوچ، استہزا، مار پیٹ، غرض ہر طرح کی تکلیف دے کر اسے دعوت حق سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات اس کے ساتھیوں کو یا ان کے ساتھ اسے بھی قتل کر دیا جاتا ہے۔ ایسے وقت میں حق کی طرف دعوت دینے والے کے ساتھ کھڑا ہونا، اپنی جان و مال کی پروا نہ کرتے ہوئے تمام تکلیفیں برداشت کرنا اور حق پر ثابت قدم رہنا بڑے عزم و ہمت والے لوگوں کا کام ہے، جیسا کہ فرمایا: «لَتُبْلَوُنَّ فِيْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِيْرًا وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ» [آل عمران: ۱۸۶] ”یقینا تم اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں ضرور آزمائے جاؤ گے اور یقینا تم ان لوگوں سے جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان لوگوں سے جنھوں نے شرک کیا، ضرور بہت سی ایذا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور متقی بنو تو بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔“ پھر یہ سب کچھ سہتے ہوئے کئی لوگ قید کر دیے جاتے ہیں، کئی معذور ہو جاتے ہیں، کئی شہید ہو جاتے ہیں اور آخر میں وہ مرحلہ آتا ہے جب اللہ کے دشمنوں سے جنگ ہوتی ہے اور اس وقت جو لوگ دشمنوں کے مقابلے میں قلیل اور ضعیف ہونے کے باوجود میدان میں ڈٹ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی خاص مدد فرماتا ہے اور انھیں فتح و نصرت سے ہم کنار کر کے دشمن پر غلبہ عطا فرما دیتا ہے۔ اس آیت میں مسلمانوں کے سامنے عیسیٰ علیہ السلام کے مخلص ساتھیوں کا نمونہ پیش کر کے انھیں حکم دیا ہے کہ وہ بھی ان کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت «مَنْ اَنْصَارِيْۤ اِلَى اللّٰهِ» پر لبیک کہیں اور ہر تکلیف پر صبر کرتے ہوئے جان و مال کی قربانی کے ذریعے سے ان کا ساتھ دیں۔
یہ بات معلوم ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو دشمنوں سے قتال کا مرحلہ پیش نہیں آیا، اس وقت کے یہود نے انھیں پہچان لینے کے باوجود اتنا ستایا اور تنگ کیا کہ ان کے لیے دعوت دینا بھی مشکل ہوگیا۔ اس وقت انھوں نے یہ کہا کہ اللہ کی طرف دعوت دینے میں اور اس کے راستے پر چلنے میں میرے مددگار کون ہیں؟ حواریوں نے کہا، ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ اس وقت بنی اسرائیل کے دو گروہ ہوگئے، ایک وہ جو ان پر ایمان لے آئے اور ان کے فرمان {” مَنْ اَنْصَارِيْۤ اِلَى اللّٰهِ “} پر {” نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ “} کہہ کر لبیک کہا، پھر جان و مال کے ساتھ ہر طرح سے ان کی مدد کی اور اس راستے میں دشمنوں کی طرف سے دی جانے والی تکلیفوں پر صبر کیا۔ دوسرے وہ جنھوں نے انھیں رسول ماننے سے انکار کر دیا، انھیں جھوٹا کہا اور ان کی ماں پر تہمتیں لگائیں، حکومتِ وقت سے مل کر انھیں گرفتار کروایا اور اپنے گمان کے مطابق انھیں سولی پر چڑھا کر دم لیا، اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گمان کی تردید فرمائی ہے۔ دیکھیے سورۂ آلِ عمران (۵۲ تا ۵۵) اور سورۂ نساء (58،57)۔
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سب سے پہلے یہی مرحلہ پیش آیا۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور آپ نے اسلام کی دعوت کا آغاز کیا تو کفار مکہ کی طرف سے شدید مزاحمت کی گئی اور آپ کو اور آپ کے ساتھ مسلمان ہونے والے مردوں اور عورتوں کو سخت تکلیفیں دی گئیں، جس کی وجہ سے بہت تھوڑے لوگ ایمان لانے کی جرأت کر سکے۔ پھر کئی حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے اور کئی مکہ ہی میں ظلم و ستم سہتے رہے۔ آزمائشوں اور تکلیفوں کا یہ سلسلہ کئی سال جاری رہا، حتیٰ کہ کفار قریش نے آپ کو دعوت سے مطلق روک دیا۔ آپ ہر سال حج کے لیے آنے والے قبائل کے پاس جا کر ایک ایک قبیلہ کو کہتے کہ کون ہے جو مجھے اپنے ساتھ لے جا کر اللہ کا پیغام پہنچانے میں میری مدد کرے۔ کئی سال کے بعد وہ موقع آیا کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے کچھ لوگوں کو آپ کی دعوت پر انصار اللہ بننے کی توفیق عطا فرمائی۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: [كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَی النَّاسِ بِالْمَوْقِفِ فَيَقُوْلُ هَلْ مِنْ رَجُلٍ يَحْمِلُنِيْ إِلٰی قَوْمِهِ، فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُوْنِيْ أَنْ أُبَلِّغَ كَلاَمَ رَبِّيْ عَزَّوَجَلَّ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِّنْ هَمْدَانَ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ مِنْ هَمْدَانَ، قَالَ فَهَلْ عِنْدَ قَوْمِكَ مِنْ مَنَعَةٍ؟ قَالَ نَعَمْ، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَشِيَ أَنْ يَخْفِرَهُ قَوْمُهُ، فَأَتٰي رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ آتِيْهِمْ، فَأُخْبِرُهُمْ، ثُمَّ آتِيْكَ مِنْ عَامٍ قَابِلٍ، قَالَ نَعَمْ، فَانْطَلَقَ وَجَاءَ وَفْدُ الْأَنْصَارِ فِيْ رَجَبٍ] [مسند أحمد: 390/3، ح: ۱۵۱۹۲، قال المحقق إسنادہ صحیح علی شرط البخاري] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو حج کے موقع پر موقف میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے اور کہتے تھے: ”کیا کوئی آدمی ہے جو مجھے اپنے ساتھ اپنی قوم کے پاس لے جائے؟ کیونکہ قریش نے مجھے میرے رب کا کلام پہنچانے سے منع کر دیا ہے۔“ تو ہمدان کا ایک آدمی آپ کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: ”تم کن لوگوں سے ہو؟“ اس آدمی نے کہا: ”ہمدان سے۔“ آپ نے فرمایا: ”تو کیا تیری قوم کے پاس کچھ حفاظت اور دفاع مل سکتا ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں!“ پھر وہ آدمی ڈر گیا کہ کہیں اس کی قوم اس کا کیا ہوا عہد پورا نہ کرے، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”میں ان کے پاس جاؤں گا اور انھیں بتاؤں گا، پھر آئندہ سال آپ کے پاس آؤں گا۔“ آپ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ چنانچہ وہ چلا گیا اور انصار کا وفد رجب میں آگیا۔“
➍ {فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِيْنَ:} یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت پر بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا اور ایک گروہ نے انھیں رسول ماننے سے انکار کر دیا۔ انکار کرنے والے یہودی تھے اور ایمان لانے والے نصرانی۔ ایمان لانے والے قلیل تھے اور کفر کرنے والے بہت زیادہ تھے۔ ان یہودیوں نے مسیح علیہ السلام کو اللہ کا پیغام پہنچانے سے روکنے کی ہر کوشش کی اور مسیح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں پر بدترین مظالم کیے، مگر نہ عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ کی طرف دعوت کو ترک کیا اور نہ ہی ان کے ساتھیوں نے ان کا ساتھ دینے سے کوئی کوتاہی کی، حتیٰ کہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا تو اس وقت بھی ایمان والوں کی استقامت میں کمی نہیں آئی، وہ بدستور ڈٹے رہے اور اسلام کی طرف دعوت دیتے رہے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کفار کے ساتھ قتال کی توفیق عطا فرمائی۔ پھر جب وہ قلت تعداد کے باوجود میدان میں ڈٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں قوت بخشی اور ان کی مدد فرمائی، تو وہ اپنے دشمن پر غالب آگئے اور ان کے دشمن یہودی مغلوب ہوگئے جو آج تک مغلوب چلے آ رہے ہیں۔ پھر جب عیسیٰ علیہ السلام کے نام لیوا شرک میں مبتلا ہوگئے اور انھیں رب تعالیٰ یا رب کا بیٹا کہنے لگے تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو، جو عیسیٰ علیہ السلام پر صحیح ایمان لانے والی تھی، ان پر غالب کر دیا۔
➎ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی بھی کفار کے ظلم و ستم سہتے رہے اور سہ رہے تھے، اس میں ان کے لیے بشارت ہے کہ اگر تم عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی طرح اللہ تعالیٰ کے انصار ہوگے تو اللہ تعالیٰ تمھیں بھی تمھارے دشمنوں پر غالب کرے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کفار پر غلبہ عطا فرما دیا، اس فرق کے ساتھ کہ مسیح علیہ السلام اپنے ساتھیوں کا غلبہ دیکھنے سے پہلے اٹھا لیے گئے، جب کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وہ نظارا آنکھوں سے دکھا دیا جس کا ذکر سورۂ نصر میں ہے، فرمایا: «اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ (1) وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا» [النصر: 2،1] ”جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔ اور تو لوگوں کو دیکھے کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔“ ہاں، عیسیٰ علیہ السلام جب دوبارہ تشریف لائیں گے تو وہ بنفس نفیس اس فتح اور غلبے میں شریک ہوں گے جو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھی مسلمانوں کو ان کے دشمنوں اور دجال پر عطا فرمائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[17] سیدنا عیسیٰ کا انکار کرنے والے تو یہود ہیں۔ اور ان پر ایمان لانے والے عیسائی ہیں جو سیدنا عیسیٰ کے بعد آپس میں دست و گریبان رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس بحث و مناظرہ اور خانہ جنگیوں میں ایمان لانے والوں کو یہودیوں پر غالب کیا پھر ان نصاریٰ میں شرک کی عام گمراہی پھیل گئی۔ ان میں سے جو بچے کھچے افراد توحید پر قائم رہ گئے تھے انہیں اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کے ذریعہ غلبہ عنایت فرمایا۔ حجت و برہان کے لحاظ سے بھی وہی غالب رہے اور سیاسی طور پر بھی انہیں ہی غلبہ حاصل ہوا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر مثال دیتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے تابعداروں کو دیکھو کہ عیسیٰ علیہ السلام کی آواز پر فوراً لبیک پکار اٹھے اور ان کے اس کہنے پر کہ کوئی ہے جو اللہ کی باتوں میں میری امداد کرے انہوں نے بلا غور علی الفور کہہ دیا کہ ہم سب آپ کے ساتھی ہیں اور دین اللہ کی امداد میں آپ کے تابع ہیں۔
چنانچہ روح اللہ علیہ صلوالت اللہ نے اسرائیلیوں اور یونانیوں میں انہیں مبلغ بنا کر شام کے شہروں میں بھیجا، حج کے دنوں میں سرور رسل صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرمایا کرتے تھے کہ { کوئی ہے جو مجھے جگہ دے تاکہ میں اللہ کی رسالت کو پہنچا دوں قریش تو مجھے رب کا پیغام پہنچانے سے روک رہے ہیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4734،قال الشيخ الألباني:۔صحیح]۔
چنانچہ اہل مدینہ کے قبیلے اوس و خزرج کو اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت ابدی بخشی انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں قبول کیں اور مضبوط عہد و پیمان کئے کہ اگر آپ ہمارے ہاں آ جائیں تو پھر کسی سرخ و سیاہ کی طاقت نہیں جو آپ کو دکھ پہنچائے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جانیں لڑا دیں گے اور آپ پر کوئی آنچ نہ آنے دیں گے۔
پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر ہجرت کر کے ان کے ہاں گئے تو فی الواقع انہوں نے اپنے کہے کو پورا کر دکھایا اور اپنی زبان کی پاسداری کی اسی لیے انصار کے معزز لقب سے ممتاز ہوئے اور یہ لقب گویا ان کا امتیازی نام بن گیا، اللہ ان سے خوش ہو اور انہیں بھی راضی کرے آمین!
جبکہ حواریوں کو لے کر آپ علیہ السلام دین اللہ کی تبلیغ کے لیے کھڑے ہوئے تو بنی اسرائیل کے کچھ لوگ تو راہ راست پر آ گئے اور کچھ لوگ نہ آئے بلکہ آپ علیہ السلام کو اور آپ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ طاہرہ کو بدترین برائی کی طرف منسوب کیا ان یہودیوں پر اللہ کی پھٹکار پڑی اور ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ بن گئے۔
پھر ماننے والوں میں سے بھی ایک جماعت ماننے میں ہی حد سے گزر گئی اور انہیں ان کے درجہ سے بہت بڑھا دیا، پھر اس گروہ میں بھی کئی گروہ ہو گئے، بعض تو کہنے لگے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں بعض نے کہا تین میں کے تیسرے ہیں یعنی باپ بیٹا اور روح القدس اور بعض نے تو آپ علیہ السلام کو اللہ ہی مان لیا، ان سب کا ذکر سورۃ نساء میں مفصل ملاحظہ ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب اللہ کا ارادہ ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا لے، آپ علیہ السلام نہا دھو کر اپنے اصحاب کے پاس آئے، سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، یہ بارہ صحابہ تھے جو ایک گھر میں بیٹھے ہوئے تھے آتے ہی فرمایا ”تم میں وہ بھی ہیں جو مجھ پر ایمان لا چکے ہیں لیکن پھر میرے ساتھ کفر کریں گے اور ایک دو دفعہ نہیں بلکہ بارہ بارہ مرتبہ۔“
پھر فرمایا ”تم میں سے کون اس بات پر آمادہ ہے کہ اس پر میری مشابہت ڈالی جائے اور وہ میرے بدلے قتل کیا جائے اور جنت میں میرے درجے میں میرا ساتھی بنے۔“ ایک نوجوان جو ان سب میں کم عمر تھا، اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے آپ کو پیش کیا، آپ نے فرمایا ”تم بیٹھ جاؤ“، پھر وہی بات کہی اب کی مرتبہ بھی کم عمر نوجوان صحابی کھڑے ہوئے، عیسیٰ علیہ السلام نے اب کی مرتبہ بھی انہیں بٹھا دیا، پھر تیسری مرتبہ یہی سوال کیا، اب کی مرتبہ بھی یہی نوجوان کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا بہت بہتر، اسی وقت ان کی شکل و صورت بالکل عیسیٰ علیہ السلام جیسی ہو گئی اور خود عیسیٰ علیہ السلام اس گھر کے ایک روزن سے آسمان کی طرف اٹھا لیے گئے۔
اب یہودیوں کی فوج آئی اور انہوں نے اس نوجوان کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر گرفتار کر لیا اور قتل کر دیا اور سولی پر چڑھا دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کی پیشین گوئی کے مطابق ان باقی کے گیارہ لوگوں میں سے بعض نے بارہ بارہ مرتبہ کفر کیا، حالانکہ وہ اس سے پہلے ایماندار تھے۔
ایک فرقے نے کہا: ہم میں اللہ کا بیٹا تھا، جب تک اللہ نے چاہا اسے ہم میں رکھا اور جب چاہا اپنی طرف چڑھا لیا، انہیں سطوریہ کہا جاتا ہے۔
تیسری جماعت حق پر قائم رہی ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول عیسیٰ علیہ السلام ہم میں تھے، جب تک اللہ کا ارادہ رہا آپ ہم میں موجود رہے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا، یہ جماعت مسلمانوں کی ہے۔
پھر ان دونوں کافر جماعتوں کی طاقت بڑھ گئی اور انہوں نے ان مسلمانوں کو مار پیٹ کر قتل و غارت کرنا شروع کیا اور یہ دبے بھی ہوئے اور مغلوب ہی رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، پس بنی اسرائیل کی وہ مسلمان جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لائی اور ان کافر جماعتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کفر کیا، ان ایمان والوں کی اللہ تعالیٰ نے مدد کی اور انہیں ان کے دشمنوں پر غالب کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غالب آ جانا اور دین اسلام کا تمام ادیان کو مغلوب کر دینا ہی ان کا غالب آنا اور اپنے دشمنوں پر فتح پانا ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر ابن جریر اور سنن نسائی۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:489/6]
پس یہ امت حق پر قائم رہ کر ہمیشہ تک غالب رہے گی یہاں تک کہ امر اللہ یعنی قیامت آ جائے اور یہاں تک کہ اس امت کے آخری لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہو کر مسیح دجال سے لڑائی کریں گے جیسے کہ صحیح احادیث میں موجود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ صف کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا كونوا أنصارَ اللهِ}؛ أي: بالأقوال والأفعال، وذلك بالقيام بدين الله، والحرص على تنفيذه على الغير وجهادِ مَنْ عانده ونابذه بالأبدان والأموال، ومَنْ نَصَرَ الباطلَ بما يزعمُه من العلم، وَرَدَّ الحقَّ بدحض حجَّته وإقامة الحجَّة عليه والتحذير منه، ومن نصرِ دين الله تعلُّم كتاب الله وسنَّة رسوله [وتعليمه] والحثُّ على ذلك والأمر بالمعروف والنهيُ عن المنكر.
ثم هيَّج الله المؤمنين بالاقتداء بمَنْ قبلَهم من الصالحين بقوله: {كما قال عيسى ابنُ مريم للحواريِّينَ مَنْ أنصاري إلى الله}؛ أي: قال لهم منبهاً: من يعاونني ويقوم معي في نصر دين الله ويَدْخُلُ مدخلي ويَخْرُجُ مخرجي؟ فابتدرَ الحواريُّون فقالوا: {نحنُ أنصارُ اللهِ}: فمضى [عيسى] عليه السلام على [أمر اللَّه و] نصرِ دين الله هو ومن معه من الحواريِّين، {فآمنتْ طائفةٌ من بني إسرائيلَ}: بسبب دعوة عيسى والحواريِّين، {وكفرت طائفةٌ}: منهم، فلم ينقادوا لدعوتهم، فجاهد المؤمنونَ الكافرين، {فأيَّدْنا الذين آمنوا على عَدُوِّهِم}؛ أي: قوَّيْناهم ونصرناهم عليهم، {فأصبحوا ظاهرينَ}: عليهم، قاهرين لهم. فأنتم يا أمَّة محمدٍ! كونوا أنصارَ الله ودعاةَ دينه؛ يَنْصُرْكُم الله كما نَصَرَ مَنْ قبلكم، ويُظْهِرْكم على عدوِّكم.