تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے سورۃ یٰسین میں ارشاد ہے آیت «وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ لِيَأْكُلُوا مِن ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ ۖ أَفَلَا يَشْكُرُونَ سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [36-یس:36-33] ’ اور ایک نشانی ان کے لیے زمین مردہ ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اُگایا۔ پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کر دیئے تاکہ یہ ان کے پھل کھائیں اور ان کے ہاتھوں نے تو ان کو نہیں بنایا تو پھر یہ شکر کیوں نہیں کرتے؟ وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے ‘۔
«مُخْرِجُ» کا عطف «فَالِقُ» پر ہے اور مفسرین نے دوسرے انداز سے ان جملوں میں ربط قائم کیا ہے لیکن مطلب سب کا یہی ہے اور اسی کے قریب قریب ہے، کوئی کہتا ہے مرغی کا انڈے سے نکلنا اور مرغ سے انڈے کا نکلنا مراد ہے۔ بد شخص کے ہاں نیک اولاد ہونا اور نیکوں کی اولاد کا بد ہونا مراد ہے، وغیرہ۔ آیت درحقیقت ان تمام صورتوں کو گھیرے ہوئے ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ ان تمام کاموں کا کرنے والا اکیلا اللہ ہی ہے پھر کیا وجہ کہ تم حق سے پھر جاتے ہو؟ اور اس لا شریک کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہو؟ ‘ «وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى» [93-الضحى:1-2] ’ وہی دن کی روشنی کا لانے والا اور رات کے اندھیرے کا پیدا کرنے والا ہے ‘۔
جیسے کہ اس سورت کے شروع میں فرمایا تھا کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ» ۱؎ [6-الأنعام:1] ’ وہی نور و ظلمت کا پیدا کرنے والا ہے۔ رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو دن کی نورانیت سے بدل دیتا ہے ‘۔ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ۱؎ [92-الليل:1-2] ’ رات اپنے اندھیروں سمیت چھپ جاتی ہے اور دن اپنی تجلیوں سمیت کائنات پر قبضہ جما لیتا ہے ‘، «وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:3-4]
جیسے فرمان ہے «يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا» ۱؎ [7-الأعراف:54] ’ وہی دن رات چڑھاتا ہے ‘۔
اور جیسے اس آیت میں فرمایا آیت «وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى» ۱؎ [92۔اللیل:1-2] اور آیت میں ہے «وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا وَاللَّيْلِ اِذَا يَغْشٰـىهَا» [91-والشمس:3-4] ان تمام آیتوں میں دن رات کا اور نور و ظلمت روشنی اور اندھیرے کا ذکر ہے۔
سورج چاند اس کو مقرر کئے ہوئے اندازے پر برابر چل رہے ہیں کوئی تغیر اور اضطراب اس میں نہیں ہوتا ہر ایک کی منزل مقرر ہے جاڑے کی الگ گرمی کی الگ اور اسی اعتبار سے دن رات ظاہر ہوتے ہیں چھوٹے اور بڑے ہوتے ہیں۔
جیسے فرمان ہے آیت «ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ» ۱؎ [10۔یونس:5] ’ اسی اللہ نے سورج کو روشن اور چاند کو منور کیا ہے ان کی منزلیں مقرر کر دی ہیں ‘۔
اور آیت میں ہے «لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِيْ لَهَآ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ» ۱؎ [36-یس:40] ’ نہ تو آفتاب ہی سے بن پڑتا ہے کہ چاند کو جا لے اور نہ رات دن پر سبق لے سکتی ہے ہر ایک اپنے فلک میں تیرتا پھرتا ہے ‘ اور جگہ فرمایا «وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ» ۱؎ [7-الأعراف:54]، ’ سورج چاند ستارے سب اس کے فرمان کے ماتحت ہیں ‘۔
یہاں فرمایا ’ یہ سب اندازے اس اللہ کے مقرر کردہ ہیں جسے کوئی روک نہیں سکتا جس کے خلاف کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ جو ہر چیز کو جانتا ہے جس کے علم سے ایک ذرہ باہر نہیں۔ زمین و آسمان کی کوئی مخلوق اس سے پوشیدہ نہیں ‘۔
عموماً قرآن کریم جہاں کہیں رات دن سورج چاند کی پیدائش کا ذکر کرتا ہے وہاں کلام کا خاتمہ اللہ جل و علا نے اپنی عزت و علم کی خبر پر کیا ہے، جیسے اس آیت میں اور «وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» ۱؎ [36۔یس:37-38] میں اور سورۃ حم سجدہ کی شروع کی آیت «وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَحِفْظًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» ۱؎ [41۔فصلت:12] میں۔
پھر فرمایا ’ ستارے تمہیں خشکی اور تری میں راہ دکھانے کے لیے ہیں ‘۔
بعض سلف کا قول ہے کہ ستاروں میں ان تین فوائد کے علاوہ اگر کوئی اور کچھ مانے تو اس نے خطا کی اور اللہ پر چھوٹ باندھا ایک تو یہ کہ یہ آسمان کی زینت ہیں دوسرے یہ شیاطین پر آگ بن کر برستے ہیں جبکہ وہ آسمانوں کی خبریں لینے کو چڑھیں تیسرے یہ کہ مسافروں اور مقیم لوگوں کو یہ راستہ دکھاتے ہیں۔
پھر فرمایا ’ ہم نے عقلمندوں عالموں اور واقف کار لوگوں کیلئے اپنی آیتیں بالتفصیل بیان فرما دی ہیں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما ذكر تعالى مادة خلق الأقواتِ؛ ذكر مِنَّته بتهيئة المساكن وخلقه كلَّ ما يحتاجُ إليه العباد من الضياء والظلمة وما يترتَّب على ذلك من أنواع المنافع والمصالح، فقال: {فالقُ الإصباح}؛ أي: كما أنه فالق الحبِّ والنَّوى، كذلك هو فالقُ ظلمةِ الليل الداجي الشامل لما على وجه الأرض بضياء الصُّبح الذي يفلقه شيئاً فشيئاً، حتى تذهبَ ظلمةُ الليل كلُّها ويخلُفُها الضياءُ والنورُ العامُّ الذي يتصرَّف به الخلقُ في مصالحهم ومعايشهم ومنافع دينهم ودنياهم.
ولما كان الخلقُ محتاجين إلى السكون والاستقرار والراحة التي لا تتمُّ إلا بوجود النهار والنور؛ {جعل}: الله الليلَ سَكَناً يسكن فيه الآدميُّون إلى دورهم ومنامهم والأنعامُ إلى مأواها والطيورُ إلى أوكارها فتأخذ نصيبها من الراحة، ثم يزيل الله ذلك بالضياء، وهكذا أبداً إلى يوم القيامة. {و} جعل تعالى {الشمسَ والقمرَ حُسْباناً}: بهما تُعرف الأزمنة والأوقات؛ فتنضبِطُ بذلك أوقات العبادات وآجال المعاملات، ويُعْرَفُ بها مدة ما مضى من الأوقات التي لولا وجودُ الشمس والقمر وتناوُبُهما واختلافُهما لما عَرَفَ ذلك عامة الناس واشتركوا في علمه، بل كان لا يعرفه إلا أفرادٌ من الناس بعد الاجتهاد، وبذلك يفوت من المصالح الضرورية ما يفوت. {ذلك}: التقدير المذكور، {تقديرُ العزيز العليم}: الذي من عزَّته انقادت له هذه المخلوقاتُ العظيمة فَجَرَتْ مذلَّلة مسخَّرة بأمره، بحيثُ لا تتعدَّى ما حدَّه الله لها ولا تتقدَّم عنه ولا تتأخَّر، العليم الذي أحاط علمُهُ بالظواهر والبواطن والأوائل والأواخر. ومن الأدلة العقلية على إحاطة علمِهِ تسخيرُ هذه المخلوقات العظيمة على تقديرٍ ونظام بديع تَحير العقول في حسنِهِ وكماله وموافقته للمصالح والحكم.