تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {” النَّوٰى “} یہ {” نَوَاةٌ “} کی جمع ہے، اس لیے ترجمہ ”گٹھلیاں“ کیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ زمین کے اندر دانے کو پھاڑ کر لہلہاتا ہوا پودا اور گٹھلی کو پھاڑ کر کھجور کا ہرا بھرا درخت نکالتا ہے۔ اس کی کاری گری دیکھیے کہ مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے، نطفے اور انڈے سے جان دار، دانے اورگٹھلی سے زندہ درخت اور کافر سے مسلمان کو پیدا کرتا ہے اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے، جیسے حیوان اور پرندے سے نطفہ اور انڈا، پودوں اور درختوں سے دانے اور گٹھلیاں اور مسلمان سے کافر پیدا کرتا ہے۔ یہ ہے اللہ جو تمھاری عبادت کا حق دار ہے، پھر کیسی عجیب بات ہے کہ تم شیطان کے بہکاوے میں آکر اس کے غیر کی عبادت کرنے لگتے ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے سورۃ یٰسین میں ارشاد ہے آیت «وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ لِيَأْكُلُوا مِن ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ ۖ أَفَلَا يَشْكُرُونَ سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [36-یس:36-33] ’ اور ایک نشانی ان کے لیے زمین مردہ ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اُگایا۔ پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کر دیئے تاکہ یہ ان کے پھل کھائیں اور ان کے ہاتھوں نے تو ان کو نہیں بنایا تو پھر یہ شکر کیوں نہیں کرتے؟ وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے ‘۔
«مُخْرِجُ» کا عطف «فَالِقُ» پر ہے اور مفسرین نے دوسرے انداز سے ان جملوں میں ربط قائم کیا ہے لیکن مطلب سب کا یہی ہے اور اسی کے قریب قریب ہے، کوئی کہتا ہے مرغی کا انڈے سے نکلنا اور مرغ سے انڈے کا نکلنا مراد ہے۔ بد شخص کے ہاں نیک اولاد ہونا اور نیکوں کی اولاد کا بد ہونا مراد ہے، وغیرہ۔ آیت درحقیقت ان تمام صورتوں کو گھیرے ہوئے ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ ان تمام کاموں کا کرنے والا اکیلا اللہ ہی ہے پھر کیا وجہ کہ تم حق سے پھر جاتے ہو؟ اور اس لا شریک کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہو؟ ‘ «وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى» [93-الضحى:1-2] ’ وہی دن کی روشنی کا لانے والا اور رات کے اندھیرے کا پیدا کرنے والا ہے ‘۔
جیسے کہ اس سورت کے شروع میں فرمایا تھا کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ» ۱؎ [6-الأنعام:1] ’ وہی نور و ظلمت کا پیدا کرنے والا ہے۔ رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو دن کی نورانیت سے بدل دیتا ہے ‘۔ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ۱؎ [92-الليل:1-2] ’ رات اپنے اندھیروں سمیت چھپ جاتی ہے اور دن اپنی تجلیوں سمیت کائنات پر قبضہ جما لیتا ہے ‘، «وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:3-4]
جیسے فرمان ہے «يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا» ۱؎ [7-الأعراف:54] ’ وہی دن رات چڑھاتا ہے ‘۔
اور جیسے اس آیت میں فرمایا آیت «وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى» ۱؎ [92۔اللیل:1-2] اور آیت میں ہے «وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا وَاللَّيْلِ اِذَا يَغْشٰـىهَا» [91-والشمس:3-4] ان تمام آیتوں میں دن رات کا اور نور و ظلمت روشنی اور اندھیرے کا ذکر ہے۔
سورج چاند اس کو مقرر کئے ہوئے اندازے پر برابر چل رہے ہیں کوئی تغیر اور اضطراب اس میں نہیں ہوتا ہر ایک کی منزل مقرر ہے جاڑے کی الگ گرمی کی الگ اور اسی اعتبار سے دن رات ظاہر ہوتے ہیں چھوٹے اور بڑے ہوتے ہیں۔
جیسے فرمان ہے آیت «ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ» ۱؎ [10۔یونس:5] ’ اسی اللہ نے سورج کو روشن اور چاند کو منور کیا ہے ان کی منزلیں مقرر کر دی ہیں ‘۔
اور آیت میں ہے «لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِيْ لَهَآ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ» ۱؎ [36-یس:40] ’ نہ تو آفتاب ہی سے بن پڑتا ہے کہ چاند کو جا لے اور نہ رات دن پر سبق لے سکتی ہے ہر ایک اپنے فلک میں تیرتا پھرتا ہے ‘ اور جگہ فرمایا «وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ» ۱؎ [7-الأعراف:54]، ’ سورج چاند ستارے سب اس کے فرمان کے ماتحت ہیں ‘۔
یہاں فرمایا ’ یہ سب اندازے اس اللہ کے مقرر کردہ ہیں جسے کوئی روک نہیں سکتا جس کے خلاف کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ جو ہر چیز کو جانتا ہے جس کے علم سے ایک ذرہ باہر نہیں۔ زمین و آسمان کی کوئی مخلوق اس سے پوشیدہ نہیں ‘۔
عموماً قرآن کریم جہاں کہیں رات دن سورج چاند کی پیدائش کا ذکر کرتا ہے وہاں کلام کا خاتمہ اللہ جل و علا نے اپنی عزت و علم کی خبر پر کیا ہے، جیسے اس آیت میں اور «وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» ۱؎ [36۔یس:37-38] میں اور سورۃ حم سجدہ کی شروع کی آیت «وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَحِفْظًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» ۱؎ [41۔فصلت:12] میں۔
پھر فرمایا ’ ستارے تمہیں خشکی اور تری میں راہ دکھانے کے لیے ہیں ‘۔
بعض سلف کا قول ہے کہ ستاروں میں ان تین فوائد کے علاوہ اگر کوئی اور کچھ مانے تو اس نے خطا کی اور اللہ پر چھوٹ باندھا ایک تو یہ کہ یہ آسمان کی زینت ہیں دوسرے یہ شیاطین پر آگ بن کر برستے ہیں جبکہ وہ آسمانوں کی خبریں لینے کو چڑھیں تیسرے یہ کہ مسافروں اور مقیم لوگوں کو یہ راستہ دکھاتے ہیں۔
پھر فرمایا ’ ہم نے عقلمندوں عالموں اور واقف کار لوگوں کیلئے اپنی آیتیں بالتفصیل بیان فرما دی ہیں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن كماله وعظمةِ سلطانه وقوة اقتداره وسعة رحمته وعموم كرمه وشدة عنايته بخلقه، فقال: {إنَّ الله فالقُ الحبِّ} شاملٌ لسائر الحبوب التي يباشر الناس زرعَها، والتي لا يباشِرونها منها؛ كالحبوب التي يبثها الله في البراري والقفار، فيفلق الحبوب عن الزروع والنوابت على اختلاف أنواعها وأشكالها ومنافعها، ويفلق النوى عن الأشجار من النخيل والفواكه وغير ذلك، فينتفع الخلقُ من الآدميين والأنعام والدواب، ويرتعون فيما فَلَقَ الله من الحبِّ والنوى، ويقتاتون وينتفعون بجميع أنواع المنافع التي جعلها الله في ذلك، ويريهم الله من برِّه وإحسانه ما يبهر العقول ويُذْهِلُ الفحول، ويريهم من بدائع صنعته وكمال حكمته ما به يعرفونه ويوحِّدونه ويعلمون أنه هو الحقُّ وأن عبادة ما سواه باطلة. {يُخْرِجُ الحيَّ من الميِّت}: كما يخرِجُ من المنيِّ حيواناً ومن البيضة فرخاً ومن الحبِّ والنوى زرعاً وشجراً، {ومُخْرِجُ الميِّتِ}: وهو الذي لا نموَّ فيه أو لا روح {من الحيِّ}: كما يخرِجُ من الأشجار والزُّروع النوى والحب، ويخرِجُ من الطائر بيضاً ونحو ذلك. {ذلكم} الذي فعل ما فعل وانفردَ بخلقِ هذه الأشياء وتدبيرِها {اللهُ ربُّكم}؛ أي: الذي له الألوهيَّة والعبادة على خلقه أجمعينَ، وهو الذي ربَّى جميع العالَمين بنعمِهِ وغذَّاهم بكرمه، {فأنَّى تؤفَكونَ}؛ أي: فأنَّى تصرَفون وتَصُدُّون عن عبادة من هذا شأنه إلى عبادة من لا يملك لنفسه نفعاً ولا ضرًّا ولا موتاً ولا حياةً ولا نشوراً؟