اور وہی ہے جس نے تمھارے لیے ستارے بنائے، تاکہ تم ان کے ساتھ خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں راستہ معلوم کرو۔ بے شک ہم نے ان لوگوں کے لیے کھول کر نشانیاں بیان کر دی ہیں جو جانتے ہیں۔
En
اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے رستے معلوم کرو۔ عقل والوں کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں
اور وه ایسا ہے جس نے تمہارے لئے ستاروں کو پیدا کیا، تاکہ تم ان کے ذریعہ سے اندھیروں میں، خشکی میں اور دریا میں بھی راستہ معلوم کرسکو۔ بےشک ہم نے دﻻئل خوب کھول کھول کر بیان کردیئے ہیں ان لوگوں کے لئے جو خبر رکھتے ہیں
En
(آیت 97) {وَهُوَالَّذِيْجَعَلَلَكُمُالنُّجُوْمَ …:} یہ ستاروں کا ایک فائدہ ہے، دوسری آیات میں تاروں کو آسمان کی زینت اور شیطانوں کے لیے سنگ باری (رجوم) کا سامان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ صافات (7،6) اور سورۂ ملک (۵) اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان میں اور کتنے فوائد ہیں، مگر ان کے ذریعے سے غیب معلوم ہونے یا ان کا قدرت کے کارخانے میں کوئی اختیار ہونے کا عقیدہ صاف گمراہی اور شرک ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں بار بار علم اور قدرت کا مالک صرف ایک اللہ کو قرار دیا گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
97۔ 1 ستاروں کا یہاں یہ ایک فائدہ اور مقصد بیان کیا گیا ہے، ان کے دو مقصد اور ہیں جو دوسرے مقام پر بیان کئے گئے ہیں۔ آسمانوں کی زینت اور شیطانوں کی مرمت۔ رجو ما للشیطین۔ یعنی شیطان آسمان پر جانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ ان پر شعلہ بن کر گرتے ہی۔ بعض علماء کا قول ہے۔ من اعتقد فی ہذاہ النجوم غیر ثلاث فقد اخطاء وکذب علی اللہ ان تینوں باتوں کے علاوہ ان ستاروں کے بارے میں اگر کوئی شخص کوئی اور عقیدہ رکھتا ہے تو وہ غلطی پر ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ہمارے ملک میں جو علم نجوم کا چرچا ہے، جس میں ستاروں کے ذریعے سے مستقبل کے حالات اور انسانی زندگی یا کائنات میں ان کے اثرات بتانے کا دعوٰی کیا جاتا ہے وہ بےبنیاد ہے اور شریعت کے خلاف بھی۔ چناچہ ایک حدیث میں اسے جادو ہی کا ایک شعبہ بتلایا گیا ہے۔ من اقتبس علماء من النجوم اقتبس شعبۃ من السحر زاد ما زاد (حسنہ الالبانی صحیح ابی داؤد)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
97۔ وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے ستارے [100] پیدا کئے تاکہ تم ان سے بر و بحر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کر سکو۔ ہم نے یہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں ان لوگوں کے لیے جو ان کا علم رکھتے ہیں
[100] سورج اور چاند کے علاوہ اللہ نے ستارے بھی پیدا فرمائے ہیں جو تاریک راتوں میں جب چاند بھی غائب ہوتا ہے تو کچھ نہ کچھ روشنی پہنچاتے رہتے ہیں نیز ان کی چال میں بھی چونکہ ایک ترتیب ہے لہٰذا رات کی تاریکی میں ان کی چال سے یہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ رات کا کتنا حصہ گزر چکا ہے اور کتنا باقی ہے سمت بھی معلوم کی جا سکتی ہے کہ اس وقت ہم کونسی سمت میں سفر کر رہے ہیں اور اس طرح راستہ کا بھی تعین ہو سکتا ہے اور یہ فوائد جیسے خشکی پر حاصل ہوتے ہیں ویسے ہی سمندری سفر میں بھی حاصل ہوتے ہیں۔ یہ ستاروں کی پیدائش اور ان کی مقر رہ چال اور ان سے انسان کے لیے ایسے فوائد کا حصول بھی اللہ کی ذات اور اس کی قدرت کی واضح نشانی ہے کیونکہ اس کے بغیر نہ کوئی ستارے پیدا کر سکتا ہے اور نہ ہی مقرر چال کا پابند بنا سکتا ہے کہ ان سے مذکور فوائد حاصل ہوں اور جو لوگ غور و فکر کرنے والے ہیں انہیں ان سے اللہ کی معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَهُوَالَّذِیْجَعَلَلَكُمُالنُّجُوْمَلِتَهْتَدُوْابِهَافِیْظُلُمٰتِالْـبَرِّوَالْبَحْرِ ﴾”وہی ہے جس نے بنائے تمھارے لیے ستارے تاکہ ان کے ذریعے سے تم راستے معلوم کرو، خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں “ جب راستے تم پر مشتبہ ہو جاتے ہیں اور مسافر کا سفر تحیر کا شکار ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو راستے دکھانے کے لیے ستاروں کو تخلیق فرمایا۔ لوگ اپنے مصالح، سفر تجارت اور دیگر سفروں میں ان راستوں کی پہچان کے محتاج ہوتے ہیں۔ کچھ ستارے ایسے ہیں جو ہمیشہ دکھائی دیتے ہیں اور اپنی جگہ نہیں چھوڑتے۔ کچھ ستارے ہمیشہ رواں دواں رہتے ہیں۔ ستاروں کی معرفت رکھنے والے ستاروں کی رفتار کو پہچانتے ہیں، بنابریں وہ سمتیں اور اوقات معلوم کر سکتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ ستاروں کی رفتار اور ان کے محل و مقام کا علم حاصل کرنا مشروع ہے جسے ستاروں کی رفتار کے علم سے موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے بغیر راستوں کے علم سے بہرہ ور ہونا ممکن نہیں۔
﴿ قَدْفَصَّلْنَاالْاٰیٰتِ ﴾”ہم نے آیات کھول کھول کر بیان کردیں۔“ یعنی ہم نے نشانیوں کو بیان کر کے واضح کر دیا ہے اور ہر جنس اور نوع کو ایک دوسری سے ممیز کر دیا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی آیات صاف ظاہر اور عیاں ہو گئیں ﴿ لِقَوْمٍیَّعْلَمُوْنَ ﴾”جاننے والوں کے لیے۔“ یعنی ہم نے ان آیات کو ان لوگوں کے سامنے واضح کر دیا جو علم اور معرفت سے بہرہ ور ہیں کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کی طرف خطاب کا رخ ہے اور جن سے جواب مطلوب ہے۔ بخلاف جاہل اور اہل جفا کے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس علم سے منہ موڑتے ہیں جسے لے کر انبیاء و مرسلین مبعوث ہوئے۔ کیونکہ ان کے سامنے بیان کرنا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا اور ان کے سامنے اس کی تفصیل بیان کرنے سے ان کا التباس رفع نہیں ہو سکتا اور اس کی توضیح سے ان کا اشکال دور نہیں ہوتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وهو الذي جعل لكم النُّجومَ لِتَهْتَدوا بها في ظلمات البرِّ والبحر}: حين تشتبه عليكم المسالك، ويتحيَّر في سيره السالك، فجعل الله النجوم هدايةً للخلق إلى السبيل التي يحتاجون إلى سلوكها لمصالحهم وتجاراتهم وأسفارهم، منها نجومٌ لا تزال تُرى ولا تسيرُ عن محلِّها، ومنها ما هو مستمرُّ السير يعرِفُ سيرَه أهلُ المعرفة بذلك، ويعرفون به الجهاتِ والأوقاتِ. ودلَّت هذه الآيةُ ونحوها على مشروعيَّة تعلُّم سير الكواكب ومحالِّها الذي يسمَّى علم التسيير؛ فإنه لا تتمُّ الهداية ولا تُمْكِنُ إلاَّ بذلك.
{قد فصَّلْنا الآياتِ}؛ أي: بيَّناها ووضَّحناها وميَّزنا كل جنس ونوع منها عن الآخر بحيث صارت آياتُ الله باديةً ظاهرة، {لقوم يعلمونَ}؛ أي: لأهل العلم والمعرفة؛ فإنَّهم الذين يوجَّه إليهم الخطاب، ويُطلب منهم الجواب؛ بخلاف أهل الجهل والجفاء المعرضين عن آيات الله وعن العلم الذي جاءت به الرسل؛ فإن البيان لا يفيدُهم شيئاً، والتفصيل لا يزيل عنهم ملتبساً، والإيضاح لا يكشف لهم مشكلاً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔