ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 94

وَ لَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقۡنٰکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ تَرَکۡتُمۡ مَّا خَوَّلۡنٰکُمۡ وَرَآءَ ظُہُوۡرِکُمۡ ۚ وَ مَا نَرٰی مَعَکُمۡ شُفَعَآءَکُمُ الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ اَنَّہُمۡ فِیۡکُمۡ شُرَکٰٓؤُا ؕ لَقَدۡ تَّقَطَّعَ بَیۡنَکُمۡ وَ ضَلَّ عَنۡکُمۡ مَّا کُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴿٪۹۴﴾
اور بلاشبہ یقینا تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے آئے ہو، جیسے ہم نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور اپنی پیٹھوں کے پیچھے چھوڑ آئے ہو جو کچھ ہم نے تمھیں دیا تھا اور ہم تمھارے ساتھ تمھارے وہ سفارش کرنے والے نہیںدیکھتے جنھیں تم نے گمان کیا تھا کہ بے شک وہ تم میں حصے دار ہیں۔ بلا شبہ یقینا تمھارا آپس کا رشتہ کٹ گیا اور تم سے گم ہوگیا جو کچھ تم گمان کیا کرتے تھے۔ En
اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے اور جو (مال ومتاع) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے (شفیع اور ہمارے) شریک ہیں۔ (آج) تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے
En
اور تم ہمارے پاس تنہا تنہا آگئے جس طرح ہم نے اول بار تم کو پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تم کو دیا تھا اس کو اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے اور ہم تو تمہارے ہمراه تمہارے ان شفاعت کرنے والوں کو نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم دعویٰ رکھتے تھے کہ وه تمہارے معاملے میں شریک ہیں۔ واقعی تمہارے آپس میں تو قطع تعلق ہوگیا اور وه تمہارا دعویٰ سب تم سے گیا گزرا ہوا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 94) {وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى …: } یعنی ان سے کہا جائے گا کہ آج تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے ہو کر آئے ہو اور جو مال و اولاد تمھارے پاس تھا وہیں چھوڑ آئے ہو اور ہم تمھارے ساتھ وہ سفارشی بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم کہتے تھے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اس بات کا حق دار ہے کہ ہم اس کی عبادت کریں یہ بھی حق رکھتے ہیں۔ لاؤ دکھاؤ، یہ ڈانٹنے کے لیے کہا جائے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

94۔ 1 فرادی فرد کی جمع ہے جس طرح سکاری سکران کی اور کسالی کسلان کی جمع ہے۔ مطلب ہے کہ تم علیحدہ علیحدہ ایک ایک کر کے میرے پاس آؤ گے، تمہارے ساتھ نہ مال ہوگا نہ اولاد اور نہ معبود، جن کو تم نے اللہ کا شریک اور اپنا مددگار سمجھ رکھا تھا، یعنی ان میں سے کوئی چیز بھی فائدہ پہنچانے پر قادر نہ ہوگی۔ اگلے جملوں میں انہی امور کی مزید وضاحت ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

94۔ (اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا) تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے ہی آگئے جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور جو نعمتیں ہم نے تمہیں عطا کی تھیں۔ سب اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو۔ ہم تمہارے ساتھ تمہارے وہ سفارشی نہیں دیکھ رہے جن کے متعلق تمہارا خیال تھا کہ تمہارے معاملات میں وہ (اللہ کے) شریک [97] ہیں۔ اب تمہارے درمیان رابطہ کٹ چکا ہے۔ اور تمہیں وہ باتیں ہی بھول گئیں جو تم گمان کیا کرتے تھے
[97] مرنے کے بعد انسان کی بے بسی:۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ مندرجہ بالا اقسام سے بھی بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اختیار تصرف میں کسی دوسرے کو بھی شریک سمجھا جائے۔ اسے اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھا جائے، حاجت روا اور مشکل کشا تسلیم کیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ ہمارے یہ معبود بت یا اولیاء و بزرگ اللہ سے سفارش کر کے ہمیں اخروی عذاب سے بچا لیں گے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ موت کے ساتھ ہی انسان کی اللہ کے حضور پیشی ہو جاتی ہے اس پیشی کے وقت نہ اس کا مال و دولت موجود ہوتا ہے نہ رشتہ دار نہ وہ بزرگ جن کے متعلق انہوں نے سستی نجات کا عقیدہ وابستہ کر رکھا تھا کیونکہ موت کے بعد انسان ویسے ہی تن تنہا قبر میں جاتا ہے جیسا کہ تن تنہا ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا اور جیسے پیدائش کے بعد یہ مختلف قسم کے تعلقات پیدا ہوئے تھے۔ موت کے ساتھ ہی یہ سب رشتے کٹ جاتے ہیں اور صرف انسان کے اپنے اعمال پر ہی اخروی انجام کا دار و مدار ہو گا۔ موت کے بعد ان ظالموں کو یہ یاد ہی نہ رہے گا کہ دنیا میں ان کے تعلقات کس کس سے تھے اور یہ تعلقات کس کس نوعیت کے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مغضوب لوگ ٭٭
اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں سے زیادہ ظالم اور کوئی نہیں خواہ اس جھوٹ کی نوعیت یہ ہو کہ اللہ کی اولاد ہے یا اس کے کئی شریک ہیں یا یوں کہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے حالانکہ دراصل رسول نہیں -خواہ مخواہ کہہ دے کہ میری طرف وحی نازل ہوتی ہے حالانکہ کوئی وحی نہ اتری ہو اور اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظالم نہیں ہو جو اللہ کی سچی وحی سے صف آرائی کا مدعی ہو۔
چنانچہ اور آیتوں میں ایسے لوگوں کا بیان ہے کہ ’ وہ قرآن کی آیتوں کو سن کر کہا کرتے تھے کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام کہہ سکتے ہیں، کاش کہ تو ان ظالموں کو سکرات موت کی حالت میں دیکھتا جبکہ فرشتوں کے ہاتھ ان کی طرف بڑھ رہے ہوں گے اور وہ مار پیٹ کر رہے ہونگے ‘۔ یہ محاورہ مار پیٹ سے ہے، جیسے ہابیل قابیل کے قصے میں آیت «لَىِٕنْ بَسَطْتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِيْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ اِنِّىْٓ اَخَاف اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ» ۱؎ [5۔المائدہ:28]‏‏‏‏ ہے اور آیت میں «وَّيَبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ وَاَلْسِنَتَهُمْ بالسُّوْءِ وَوَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ» ۱؎ [60-الممتحنة:2]‏‏‏‏ ہے۔ ضحاک اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم نے بھی یہی تفسیر کی ہے۔
خود قرآن کی آیت میں «يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ» [8-الانفال:50]‏‏‏‏ موجود ہے یعنی ’ کافروں کی موت کے وقت فرشتے ان کے منہ پر اور کمر پر مارتے ہیں ‘۔ یہی بیان یہاں ہے کہ ’ فرشتے ان کی جان نکالنے کیلئے انہیں مار پیٹ کرتے ہیں اور کہتے ہیں اپنی جانیں نکالو ‘۔
کافروں کی موت کے وقت فرشتے انہیں عذابوں، زنجیروں، طوقوں کی، گرم کھولتے ہوئے جہنم کے پانی اور اللہ کے غضب و غصے کی خبر سناتے ہیں جس سے ان کی روح ان کے بدن میں چھپتی پھرتی ہے اور نکلنا نہیں چاہتی، اس پر فرشتے انہیں مار پیٹ کر جبراً گھسیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب تمہاری بدترین اہانت ہوگی اور تم بری طرح رسوا کئے جاؤ گے جیسے کہ تم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اس کے فرمان کو نہیں مانتے تھے اور اس کے رسولوں کی تابعداری سے چڑتے تھے۔
مومن و کافر کی موت کا منظر جو احادیث میں آیا ہے وہ سب آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» ۱؎ [14۔ ابراہیم:27]‏‏‏‏ کی تفسیر میں ہے، ابن مردویہ نے اس جگہ ایک بہت لمبی حدیث بیان کی ہے لیکن اس کی سند غریب ہے۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:56/3:ضعیف]‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ جس دن انہیں ان کی قبروں سے اٹھایا جائے گا اس دن ان سے کہا جائے گا کہ «وَعُرِضُوا عَلَىٰ رَبِّكَ صَفًّا لَّقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ» ۱؎ [18-الكهف:48]‏‏‏‏ ’ تم تو اسے بہت دور اور محال مانتے تھے تو اب دیکھ لو جس طرح شروع شروع میں ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا اوب دوبارہ بھی پیدا کر دیا -جو کچھ مال متاع ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا سب تم وہیں اپنے پیچھے چھوڑ آئے ‘۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { انسان کہتا ہے میرا مال میرا مال حالانکہ تیرا مال وہی ہے جسے تو نے کھا پی لیا وہ تو فنا ہو گیا یا تو نے پہن اوڑھ لیا وہ پھٹا پرانا ہو کر ضائع ہو گیا یا تو نے نام مولٰی پر خیرات کیا وہ باقی رہا اس کے سوا جو کچھ ہے اسے تو، تو اوروں کے لیے چھوڑ کر یہاں سے جانے والا ہے } } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2958]‏‏‏‏
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں انسان کو قیامت کے دن اللہ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور رب العالمین اس سے دریافت فرمائے گا کہ ’ جو تو نے جمع کیا تھا وہ کہاں ہے؟ ‘ یہ جواب دے گا کہ خوب بڑھا چڑھا کر اسے دنیا میں چھوڑ آیا ہوں۔
اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اے ابن آدم پیچھے چھوڑا ہوا تو یہاں نہیں ہے البتہ آگے بھیجا ہوا یہاں موجود ہے ‘ -اب جو یہ دیکھے گا تو کچھ بھی نہ پائے گا پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھی، پھر انہیں ان کا شرک یاد دلا کر دھمکایا جائے گا کہ «أَيْنَ شُرَكَاؤُكُمُ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:22]‏‏‏‏ ’ جنہیں تم اپنا شریک سمجھ رہے تھے اور جن پر ناز کر رہے تھے کہ ہمیں بچا لیں گے اور نفع دیں گے وہ آج تمہارے ساتھ کیوں نہیں؟ وہ کہاں رہ گئے؟ انہیں شفاعت کے لیے کیوں آگے نہیں بڑھاتے؟ ‘
حق یہ ہے کہ قیامت کے دن سارے جھوٹ بہتان افترا کھل جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ سب کو سنا کر ان سے فرمائے گا ’ جنہیں تم نے میرے شریک ٹھہرا رکھا تھا وہ کہاں ہیں؟ ‘ اور ان سے کہا جائے گا کہ ’ جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے وہ کہاں ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ نہ وہ تمہاری مدد کرتے ہیں نہ خود اپنی مدد وہ آپ کرتے ہیں۔ تم تو دنیا میں انہیں مستحق عبادت سمجھتے رہے ‘۔
«بَيْنَكُمْ» کی ایک قرأت «بَيْنُكُمْ» بھی ہے یعنی تمہاری یکجہتی ٹوٹ گئی اور پہلی قرأت پر یہ معنی ہیں کہ جو تعلقات تم میں تھے جو وسیلے تم نے بنا رکھے تھے سب کٹ گئے معبودان باطل سے جو غلط منصوبے تم نے باندھ رکھے تھے سب برباد ہو گئے۔
جیسے فرمان باری ہے آیت «إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّـهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ» [2-البقرہ:166-167]‏‏‏‏ یعنی ’ تابعداری کرنے والے ان سے بیزار ہوں گے جن کی تابعداری وہ کرتے رہے اور سارے رشتے ناتے اور تعلقات کٹ جائیں گے ‘۔
اس وقت تابعدار لوگ حسرت و افسوس سے کہیں گے کہ اگر ہم دنیا میں واپس جائیں تو تم سے بھی ایسے ہی بیزار ہو جائیں گے جیسے تم ہم سے بیزار ہوئے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں ان کے کرتوت دکھائے گا ان پر حسرتیں ہوں گی اور یہ جہنم سے نہیں نکلیں گے۔
اور آیت میں ہے «فَإِذَا نُفِخَ فِى الصُّورِ فَلاَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلاَ يَتَسَآءَلُونَ» [23-المؤمنون:101]‏‏‏‏ ’ جب صور پھونکا جائے گا تو آپس کے نسب منقطع ہو جائیں گے اور کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» ۱؎ [29-العنکبوت:25]‏‏‏‏ ’ جن جن کو تم نے اپنا معبود ٹھہرا رکھا ہے اور ان سے دوستیاں رکھتے ہو وہ قیامت کے دن تمہارے اور تم ان کے منکر ہو جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرو گے تو تم سب کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور کوئی بھی تمہارا مددگار کھڑا نہ ہو گا ‘۔
اور آیت میں ہے «وَقِيْلَ ادْعُوْا شُرَكَاءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَرَاَوُا الْعَذَابَ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا يَهْتَدُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:64]‏‏‏‏ یعنی ’ ان سے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو آواز دو وہ پکاریں گے لیکن انہیں کوئی جواب نہ ملے گا ‘۔
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْٓا اَيْنَ شُرَكَاؤُكُمُ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ» ۱؎ [6۔الأنعام:22]‏‏‏‏ یعنی ’ قیامت کے دن ہم ان سب کا حشر کریں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے کہاں ہیں تمہارے شریک؟‘ اس بارے کی اور آیتیں بھی بہت ہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ ان کا برزخی حال ہے۔قیامت کے روز جب یہ وارد ہوں گے تو نہایت افلاس کی حالت میں اکیلے اکیلے آئیں گے۔ ان کے ساتھ گھر والے ہوں گے نہ مال ہو گا نہ اولاد ہو گی، ان کے ساتھ لشکر ہوں گے نہ اعوان و انصار، وہ قیامت کے روز اسی طرح ہر چیز سے عاری اور عریاں حالت میں آئیں گے جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا کیونکہ اشیا تو اس کے بعد ان اسباب کے ذریعے سے حاصل کی جاتی ہیں جو ان کے لیے مقرر ہیں۔ اس روز وہ تمام امور منقطع ہو جائیں گے جو دنیا میں بندے کے ساتھ تھے۔ سوائے نیک اعمال یا بداعمال کے اور یہ اعمال ہی آخرت کا مادہ ہیں جن سے آخرت ظہور پذیر ہو گی۔آخرت کا حسن و قبح، اس کا سرور و غم اور اس کا عذاب و نعمت اعمال کے مطابق حاصل ہوگا۔ یہ اعمال ہی ہیں جو نفع دیں گے یا نقصان دیں گے جو اچھے لگیں گے یا برے لگیں گے۔ اور ان اعمال کے علاوہ اہل و اولاد، مال و متاع اور اعوان و انصار تو یہ سب دنیا میں رہ جانے والے اسباب، زائل ہو جانے والے اوصاف اور بدل جانے والے احوال ہیں۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُ٘رَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَؔكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ البتہ تم ہمارے پاس آ گئے ایک ایک ہو کر جیسے ہم نے پیدا کیا تھا تم کو پہلی مرتبہ اور چھوڑ آئے تم جو کچھ اسباب ہم نے دیے تھے تمھیں یعنی جو کچھ ہم نے تمھیں عطا کیا اور جن نعمتوں سے ہم نے تمھیں نوازا تھا ﴿ وَرَآءَؔ ظُهُوْرِكُمْ اپنے پیچھے انھیں پیچھے چھوڑ آئے ہو اور وہ تمھارے کسی کام نہ آئیں گی ﴿وَمَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَؔكٰٓؤُا اور ہم نہیں دیکھتے تمھارے ساتھ سفارشیوں کو جن کو تم گمان کرتے تھے کہ ان کا تم میں ساجھا ہے مشرکین اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا کرتے تھے، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملائکہ، انبیا اور صالحین وغیرہم کی عبادت بھی کیا کرتے تھے، حالانکہ یہ سب اللہ کی ملکیت ہیں مگر وہ لوگ ان مخلوق ہستیوں کے لیے ایک حصہ ٹھہراتے تھے اور اپنی عبادت میں ان کو شریک کرتے تھے اور یہ ان کا زعم باطل اور ظلم ہے کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا مالک اور ان کی عبادت کا مستحق ہے۔ لہذا ان کے شرک فی العبادۃ، بعض بندوں کو عبادت کا مستحق ٹھہرانے اور ان کو خالق و مالک کا مقام دینے کی بنا پر قیامت کے روز ان کو زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے مذکورہ بات کہی جائے گی ﴿لَقَدْ تَّ٘قَ٘طَّ٘عَ بَیْنَكُمْ تمھارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے۔ یعنی آج تمھارے اور تمھارے شرکاء کے مابین سفارش وغیرہ کے تمام روابط اور تعلقات منقطع ہو گئے اور ان تعلقات نے کوئی فائدہ نہ دیا۔ ﴿ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ اور جاتے رہے وہ دعوے جو تم کیا کرتے تھے وہ نفع، امن، سعادت اور نجات جن کے وہ بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے، گم ہو گئے جن کو شیطان تمھارے سامنے مزین کیا کرتا تھا، تمھارے دلوں میں انھیں خوبصورت بنایا کرتا تھا اور تمھاری زبانوں پر ان کا ذکر رہا کرتا تھا۔ اور تم اپنے اس زعم باطل کے فریب میں مبتلا رہے جس کی کوئی حقیقت نہیں یہاں تک کہ ان تمام دعووں کا بطلان واضح ہو گیا اور ظاہر ہو گیا کہ تم خود اپنی ذات، اپنے اہل و عیال اور اپنے مال و متاع کے بارے میں خسارے میں پڑے رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فهذه حالهم في البرزخ، وأما يوم القيامة؛ فإنهم إذا وردوها؛ وردوها مفلسين فرادى بلا أهل ولا مال ولا أولاد ولا جنودٍ ولا أنصارٍ؛ كما خلقهم الله أول مرة، عارين من كل شيء؛ فإن الأشياء إنما تُتَمَوَّلُ وتحصُل بعد ذلك بأسبابها التي هي أسبابها، وفي ذلك اليوم تنقطع جميع الأمور التي كانت مع العبد في الدنيا سوى العمل الصالح والعمل السيئ الذي هو مادة الدار الآخرة الذي تنشأ عنه ويكون حسنها وقبحها وسرورها وغمومها وعذابها ونعيمها بحسب الأعمال؛ فهي التي تنفع أو تضرُّ وتسوء أو تسرُّ، وما سواها من الأهل والولد والمال والأنصار فعواري خارجية وأوصاف زائلة وأحوال حائلة، ولهذا قال تعالى: {ولقد جئتُمونا فُرادى كما خلقْناكم أولَ مرةٍ وتركتُم ما خوَّلْناكم}؛ أي: أعطيناكُم وأنعمنا به عليكم {وراءَ ظهورِكم}: لا يُغنون عنكم شيئاً، {وما نرى معكم شُفعاءَكُم الذين زعمتُم أنهم فيكم شركاءُ}: فإن المشركين يشركون بالله ويعبُدون معه الملائكة والأنبياء والصالحين وغيرهم، وهم كلُّهم لله، ولكنهم يجعلون لهذه المخلوقات نصيباً من أنفسهم وشركة في عبادتهم، وهذا زعمٌ منهم وظلمٌ؛ فإن الجميع عبيد لله، والله مالكهم والمستحقُّ لعبادتهم؛ فشركُهم في العبادة وصرفها لبعض العبيد تنزيلٌ لهم منزلة الخالق المالك، فيوبَّخون يوم القيامة، ويُقال لهم هذه المقالة {ما نرى معكم شفعاءَكم الذين زعمتُم أنهم فيكم شركاء لقد تقطَّع بينَكم}؛ أي: تقطَّعت الوصل والأسباب بينكم وبين شركائكم من الشفاعة وغيرها، فلم تنفعْ ولم تُجْدِ شيئاً. {وضلَّ عنكم ما كنتُم تزعُمون}: من الرِّبح والأمن والسعادة والنجاة التي زيَّنها لكم الشيطانُ وحسَّنها في قلوبكم، فنطقتْ بها ألسنتكُم، واغتررتُم بهذا الزعم الباطل الذي لا حقيقةَ له حين تبيَّن لكم نقيضُ ما كنتم تزعُمون، وظهر أنَّكم الخاسرون لأنفسكم وأهليكم وأموالكم.