تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ:} نکالو اپنی جانیں اور انھیں ہمارے حوالے کرو کہ سزا دیں، یا انھیں موت کی سختیوں اور عذاب سے بچا کر تو دکھاؤ۔ (فتح القدیر)
➌ {اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ …:} آج سے مراد وہ دن ہے جس میں ان کی روح قبض کی جائے گی اور عذاب قبر کی ابتدا ہو گی۔ اس آیت میں واضح عذاب قبر کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ قیامت تو جب اللہ چاہے گا قائم ہو گی، درمیان کا وقفہ یعنی برزخ ہم سے پردے میں ہے۔ انسان کا کوئی جز کسی بھی جگہ میں ہو یا راکھ بن جائے، اسے وہیں عذاب قبر ہو گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اور تیسرے وہ لوگ جو یہ دعویٰ کریں کہ ہم بھی قرآن جیسی چیز بنا سکتے ہیں۔ جیسا کہ ایک دفعہ کفار مکہ نے بھی کہا تھا کہ ﴿لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ﴾ [18: 31] حالانکہ جب قرآن نے ان کو ایسی ایک ہی سورت بنا لانے کا چیلنج کیا تو وہ اپنی بھرپور اور اجتماعی کوششوں کے باوجود اس کی نظیر لانے پر قادر نہ ہو سکے تھے۔
[96] مندرجہ بالا اقسام کے ظالم اس لحاظ سے سب سے بڑھ کر ظالم ہیں کہ انہوں نے براہ راست اللہ پر الزام لگائے انہیں سزا بھی سب ظالموں سے بڑھ کر ہو گی۔ ان پر موت طاری ہوتے ہی فرشتے انہیں ڈانٹنا شروع کر دیں گے اور نہایت شدت اور سختی کے ساتھ ان کی روحیں قبض کریں گے اسی وقت انہیں اپنی قدر و عافیت ٹھیک ٹھیک معلوم ہو جائے گی اور سب شیخیاں کر کری ہو جائیں گی اور اسی دن سے انہیں رسوا کرنے والے عذاب سے دو چار کر دیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ اور آیتوں میں ایسے لوگوں کا بیان ہے کہ ’ وہ قرآن کی آیتوں کو سن کر کہا کرتے تھے کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام کہہ سکتے ہیں، کاش کہ تو ان ظالموں کو سکرات موت کی حالت میں دیکھتا جبکہ فرشتوں کے ہاتھ ان کی طرف بڑھ رہے ہوں گے اور وہ مار پیٹ کر رہے ہونگے ‘۔ یہ محاورہ مار پیٹ سے ہے، جیسے ہابیل قابیل کے قصے میں آیت «لَىِٕنْ بَسَطْتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِيْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ اِنِّىْٓ اَخَاف اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ» ۱؎ [5۔المائدہ:28] ہے اور آیت میں «وَّيَبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ وَاَلْسِنَتَهُمْ بالسُّوْءِ وَوَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ» ۱؎ [60-الممتحنة:2] ہے۔ ضحاک اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم نے بھی یہی تفسیر کی ہے۔
کافروں کی موت کے وقت فرشتے انہیں عذابوں، زنجیروں، طوقوں کی، گرم کھولتے ہوئے جہنم کے پانی اور اللہ کے غضب و غصے کی خبر سناتے ہیں جس سے ان کی روح ان کے بدن میں چھپتی پھرتی ہے اور نکلنا نہیں چاہتی، اس پر فرشتے انہیں مار پیٹ کر جبراً گھسیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب تمہاری بدترین اہانت ہوگی اور تم بری طرح رسوا کئے جاؤ گے جیسے کہ تم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اس کے فرمان کو نہیں مانتے تھے اور اس کے رسولوں کی تابعداری سے چڑتے تھے۔
مومن و کافر کی موت کا منظر جو احادیث میں آیا ہے وہ سب آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» ۱؎ [14۔ ابراہیم:27] کی تفسیر میں ہے، ابن مردویہ نے اس جگہ ایک بہت لمبی حدیث بیان کی ہے لیکن اس کی سند غریب ہے۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:56/3:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { انسان کہتا ہے میرا مال میرا مال حالانکہ تیرا مال وہی ہے جسے تو نے کھا پی لیا وہ تو فنا ہو گیا یا تو نے پہن اوڑھ لیا وہ پھٹا پرانا ہو کر ضائع ہو گیا یا تو نے نام مولٰی پر خیرات کیا وہ باقی رہا اس کے سوا جو کچھ ہے اسے تو، تو اوروں کے لیے چھوڑ کر یہاں سے جانے والا ہے } } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2958]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں انسان کو قیامت کے دن اللہ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور رب العالمین اس سے دریافت فرمائے گا کہ ’ جو تو نے جمع کیا تھا وہ کہاں ہے؟ ‘ یہ جواب دے گا کہ خوب بڑھا چڑھا کر اسے دنیا میں چھوڑ آیا ہوں۔
حق یہ ہے کہ قیامت کے دن سارے جھوٹ بہتان افترا کھل جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ سب کو سنا کر ان سے فرمائے گا ’ جنہیں تم نے میرے شریک ٹھہرا رکھا تھا وہ کہاں ہیں؟ ‘ اور ان سے کہا جائے گا کہ ’ جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے وہ کہاں ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ نہ وہ تمہاری مدد کرتے ہیں نہ خود اپنی مدد وہ آپ کرتے ہیں۔ تم تو دنیا میں انہیں مستحق عبادت سمجھتے رہے ‘۔
«بَيْنَكُمْ» کی ایک قرأت «بَيْنُكُمْ» بھی ہے یعنی تمہاری یکجہتی ٹوٹ گئی اور پہلی قرأت پر یہ معنی ہیں کہ جو تعلقات تم میں تھے جو وسیلے تم نے بنا رکھے تھے سب کٹ گئے معبودان باطل سے جو غلط منصوبے تم نے باندھ رکھے تھے سب برباد ہو گئے۔
جیسے فرمان باری ہے آیت «إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّـهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ» [2-البقرہ:166-167] یعنی ’ تابعداری کرنے والے ان سے بیزار ہوں گے جن کی تابعداری وہ کرتے رہے اور سارے رشتے ناتے اور تعلقات کٹ جائیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے «فَإِذَا نُفِخَ فِى الصُّورِ فَلاَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلاَ يَتَسَآءَلُونَ» [23-المؤمنون:101] ’ جب صور پھونکا جائے گا تو آپس کے نسب منقطع ہو جائیں گے اور کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» ۱؎ [29-العنکبوت:25] ’ جن جن کو تم نے اپنا معبود ٹھہرا رکھا ہے اور ان سے دوستیاں رکھتے ہو وہ قیامت کے دن تمہارے اور تم ان کے منکر ہو جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرو گے تو تم سب کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور کوئی بھی تمہارا مددگار کھڑا نہ ہو گا ‘۔
اور آیت میں ہے «وَقِيْلَ ادْعُوْا شُرَكَاءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَرَاَوُا الْعَذَابَ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا يَهْتَدُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:64] یعنی ’ ان سے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو آواز دو وہ پکاریں گے لیکن انہیں کوئی جواب نہ ملے گا ‘۔
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْٓا اَيْنَ شُرَكَاؤُكُمُ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ» ۱؎ [6۔الأنعام:22] یعنی ’ قیامت کے دن ہم ان سب کا حشر کریں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے کہاں ہیں تمہارے شریک؟‘ اس بارے کی اور آیتیں بھی بہت ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: لا أحد أعظم ظلماً ولا أكبر جُرماً ممَّن كَذَبَ على الله بأن نسب إلى الله قولاً أو حكماً وهو تعالى بريء منه، وإنما كان هذا أظلم الخلق؛ لأن فيه من الكذب وتغيير الأديان أصولها وفروعها ونسبة ذلك إلى الله ما هو من أكبر المفاسد، ويدخل في ذلك ادِّعاء النبوة، وأنَّ الله يوحي إليه، وهو كاذب في ذلك؛ فإنَّه مع كذبه على الله وجرأته على عظمته وسلطانه يوجب على الخلق أن يتَّبِعوه ويجاهِدَهم على ذلك ويستحلَّ دماء مَن خالفه وأموالهم. ويدخل في هذه الآية كلُّ من ادَّعى النبوة كمسيلمة الكذاب والأسود العنسي والمختار وغيرهم ممن اتصف بهذا الوصف. {ومن قال سأنزِلُ مثلَ ما أنزلَ الله}؛ أي: ومن أظلم ممَّن زعم أنه يقدر على ما يقدر الله عليه ويجاري الله في أحكامه ويشرعُ من الشرائع كما يشرعه الله. ويدخل في هذا كل من يزعم أنه يقدِرُ على معارضة القرآن، وأنَّه في إمكانه أن يأتي بمثله! وأي ظلم أعظمُ من دعوى الفقير العاجز بالذات الناقص من كل وجه، مشاركةَ القوي الغني الذي له الكمال المطلق من جميع الوجوه في ذاته وأسمائه وصفاته؟!
ولما ذمَّ الظالمين؛ ذَكَرَ ما أعدَّ لهم من العقوبة في حال الاحتضار ويوم القيامة، فقال: {وَلَوْ تَرى إذ الظالمونَ في غَمَراتِ الموتِ}؛ أي: شدائدِهِ وأهواله الفظيعة وكُرَبه الشنيعة؛ لرأيت أمراً هائلاً وحالةً لا يقدر الواصف أن يصفها. {والملائكة باسطو أيديهم}: إلى أولئك الظالمين المحتضرينَ بالضَّرب والعذاب؛ يقولون لهم عند منازعة أرواحهم وقلقها وتعصِّيها عن الخروج من الأبدان: {أخْرِجوا أنفُسَكُم اليومَ تُجْزَوْنَ عذاب الهُونِ}؛ أي: العذاب الشديد الذي يُهينكم ويُذِلُّكم، والجزاء من جنس العمل؛ فإنَّ هذا العذاب {بما كُنتم تقولونَ على الله غير الحقِّ}: من كذبِكم عليه وردِّكم للحقِّ الذي جاءت به الرسل، {وكنتُم عن آياتِهِ تستكبرونَ}؛ أي: تَرَفَّعُون عن الانقياد لها والاستسلام لأحكامها.
وفي هذا دليل على عذاب البرزخ ونعيمه؛ فإنَّ هذا الخطاب والعذاب الموجه إليهم إنما هو عند الاحتضار وقُبيل الموت وبعده. وفيه دليل على أن الرُّوح جسم يدخُلُ، ويخرُجُ، ويخاطَب، ويساكِن الجسد، ويفارقه.