ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 38

وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیۡرُ بِجَنَاحَیۡہِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمۡثَالُکُمۡ ؕ مَا فَرَّطۡنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ یُحۡشَرُوۡنَ ﴿۳۸﴾
اور زمین میں نہ کوئی چلنے والا ہے اور نہ کوئی اڑنے والا، جو اپنے دو پروں سے اڑتا ہے مگر تمھاری طرح امتیں ہیں، ہم نے کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی، پھر وہ اپنے رب کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے۔ En
اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا دو پروں سے اڑنے والا جانور ہے ان کی بھی تم لوگوں کی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کسی چیز (کے لکھنے) میں کوتاہی نہیں کی پھر سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائیں گے
En
اور جتنے قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے قسم کے پرند جانور ہیں کہ اپنے دونوں بازوؤں سے اڑتے ہیں ان میں کوئی قسم ایسی نہیں جو کہ تمہاری طرح کے گروه نہ ہوں، ہم نے دفتر میں کوئی چیز نہیں چھوڑی پھر سب اپنے پروردگار کے پاس جمع کئے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 38) ➊ {وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْاَرْضِ …:} یعنی زمین پر چلنے والا کوئی جانور (دیکھیے سورۂ نور: ۴۵) اور کوئی دو پروں سے اڑنے والا پرندہ نہیں، مگر سب تمھاری طرح امتیں ہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ طائر کا معنی ہی پرندہ (اڑنے والا) ہے، پھر ان الفاظ کی کیا ضرورت تھی کہ جو اپنے دو پروں سے اڑتا ہے؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ بعض اوقات تیز دوڑنے والے کو بھی پرندہ کہہ دیا جاتا ہے، جیسے کہہ دیا جائے کہ گھوڑا اڑتا جا رہا تھا۔ دو پروں کے لفظ نے یہ احتمال ختم کر دیا اور بتا دیا کہ یہاں مراد حقیقی پرندہ ہے، جو پروں سے اڑتا ہے، صرف تیز رفتار مراد نہیں۔
➋ {اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ:} یعنی زمین پر چلنے والے اور اڑنے والے تمام جانور تمھاری طرح کی امتیں ہیں، تمھاری طرح پیدا ہوتی ہیں، جوانی کو پہنچتی ہیں، پھر مر جاتی ہیں، تمھاری طرح ان کا پیدا کرنا، ان کی روزی کا سامان اور ہر ضرورت پوری کرنا اور ان کی مصلحتوں کا اہتمام کرنا سب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ (دیکھیے سورۂ ہود: ۶) جس طرح اللہ تعالیٰ ان کی مصلحتوں کی رعایت کرتا ہے اسی طرح تمھاری تمام مصلحتوں کا بھی خیال رکھتا ہے، ان لوگوں کے مطالبے کے مطابق نشانیاں اور معجزے نازل کرنا خود ان کی مصلحت کے خلاف ہے۔
➌ {مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ:} { الْكِتٰبِ } سے مراد لوح محفوظ ہے، جو مخلوقات کے تمام احوال پر حاوی ہے، کوئی چیز ایسی نہیں جس کے بیان کی اس میں کمی رہ گئی ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قلم خشک ہو چکا ہے اس پر جو تم کرنے والے ہو۔ [بخاری، القدر، باب جف القلم علی علم اللہ… قبل ح: ۶۵۹۶] { الْكِتٰبِ } سے مراد یہاں قرآن کریم بھی ہو سکتا ہے۔ رازی نے فرمایا (یہی معنی زیادہ ظاہر ہے) اس لحاظ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں دین کے متعلق تمام اصول (بنیادی امور) بیان کر دیے اور جن جزئیات کا ذکر نہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل سے بیان فرما دی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ» ‏‏‏‏ [النحل: ۸۹] ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل کی، اس حال میں کہ وہ ہر چیز کا واضح بیان ہے۔ اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ پیغمبر جس چیز کا حکم دیں اسے بجا لاؤ اور جس چیز سے منع کر دیں اس سے رک جاؤ، فرمایا: «وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا» ‏‏‏‏ [الحشر: ۷] خلاصہ یہ کہ حدیث نبوی بھی کتاب الٰہی ہے اور دین کی کوئی ایسی بات نہیں جو { الْكِتٰبِ } (قرآن و حدیث) میں بیان نہ کر دی گئی ہو۔
➍ {ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ:} کفار کو متنبہ کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ زمین کے کسی جانور یا پرندے کے حالات سے نا واقف نہیں ہے اور اس کا نامۂ اعمال محفوظ ہے اور اس کا بدلہ بھی اسے ملے گا تو تم اپنے بارے میں یہ کیوں سمجھ رہے ہو کہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ نہیں دیا جائے گا۔ (رازی)
➎ اس آیت: «ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ» اور ایک دوسری آیت: «وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ» [التکویر: ۵](اور جب جنگلی جانور اکٹھے کیے جائیں گے) سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کا بھی قیامت کے دن حشر ہو گا۔ ان سے کفر و شرک اور ایمان و اعمال کا محاسبہ تو نہیں ہو گا، مگر جو ظلم کسی جانور نے دوسرے پر کیا ہو گا اس کا بدلہ ضرور دلوایا جائے گا، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرور بالضرور حق داروں کے حقوق ادا کروائے جائیں گے، حتیٰ کہ بے سینگ بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا۔ [مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم: ۲۵۸۲] بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ بات بطور تمثیل بیان کی گئی ہے، کیونکہ جانور تو مکلف ہی نہیں ہیں، مگر حدیث میں بدلے کے صریح الفاظ اس خیال کی نفی کرتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

38۔ 1 یعنی انھیں بھی اللہ نے اسی طرح پیدا فرمایا جس طرح تمہیں پیدا کیا، اسی طرح انھیں روزی دیتا ہے جس طرح تمہیں دیتا ہے اور تمہاری ہی طرح وہ بھی اس کی قدرت و علم کے تحت داخل ہیں۔ 38۔ 2 کتاب دفتر سے مراد لوح محفوظ ہے۔ یعنی وہاں ہر چیز درج ہے یا مراد قرآن ہے جس میں اجمالاً یا تفصیلاً دین کے ہر معاملے پر روشنی ڈالی گئی ہے، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (ۭ (وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ) 16:89 (ہم نے آپ پر ایسی کتاب اتاری ہے جس میں ہر چیز کا بیان ہے)۔ یہاں پر سیاق کے لحاظ سے پہلا معنی اقرب ہے۔ 38۔ 3 یعنی تمام مذکورہ گروہ اکٹھے کئے جائیں گے۔ اس سے علماء کے ایک گروہ نے استدلال (ثبوت) کیا ہے، جس طرح تمام انسانوں کو زندہ کر کے ان کا حساب کتاب لیا جائے گا، جانوروں اور دیگر تمام مخلوقات کو بھی زندہ کرکے ان کا حساب کتاب بھی ہوگا، جس طرح ایک حدیث میں بھی نبی نے فرمایا، کسی سینگ والی بکری نے اگر بغیر سینگ والی بکری پر کوئی زیادتی کی ہوگی تو قیامت والے دن سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔ (صحیح مسلم) بعض علماء نے حشر سے مراد صرف موت لی ہے یعنی سب کو موت آئے گی اور بعض علماء نے کہا ہے کہ یہاں حشر سے مراد کفار کا حشر ہے اور درمیان میں مزید جو باتیں آئی ہیں وہ جملہ معترضہ کے طور پر ہیں اور حدیث مذکور جس میں بکری سے بدلہ لیے جانے کا ذکر ہے بطور تمثیل ہے جس سے مقصد قیامت کے حساب و کتاب کی اہمیت و عظمت کو واضح کرنا ہے یا یہ کہ حیوانات میں سے صرف ظالم اور مظلوم کو زندہ کر کے ظالم سے مظلوم کو بدلہ دلا دیا جائے گا پھر دونوں معدوم کر دئیے جائیں گے۔ (فتح القدیر) وغیرو اس کی تائید بعض احادیث سے بھی ہوتی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ زمین میں جتنے بھی چلنے والے جانور ہیں اور جتنے بھی اپنے بازوؤں سے اڑنے والے پرندے ہیں۔ وہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع [43] ہیں۔ ہم نے ان کی بھی تقدیر لکھنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ پھر یہ [44] سب اپنے پروردگار کے حضور اکٹھے کئے جائیں گے
[43] یعنی سب جانداروں کو خواہ وہ حشرات الارض ہوں یا پرندے ہوں یا چرندے ہوں، اللہ کی طرف سے وحی ہوتی ہے جیسے تمہیں ہوتی ہے اور یہ سب انواع اللہ کے قوانین کی پابند ہیں اور اپنی فطری حدود سے سر مو تجاوز نہیں کرتیں اور نہ کر سکتی ہیں۔ ان سب جانداروں کو وحی کے ذریعہ وہ علوم سکھائے جاتے ہیں جو ان کی نوع کے لیے اور نوع کی بقا کے لیے کارآمد اور ضروری ہیں اور ان چیزوں سے منع کیا جاتا ہے جو ان کے لیے مضر ہیں۔ مثلاً گائے، بھینس اور بھیڑ بکری وغیرہ پر حرام ہے کہ وہ گوشت کھائیں اور اگر وہ اس جرم کا ارتکاب کریں گے تو اس کا انہیں ضرور نقصان پہنچے گا۔ اسی طرح شیر پر گھاس کھانا حرام اور گوشت کھانا فرض ہے۔ اس کا الٹ کرے گا تو سخت نقصان اٹھائے گا اور زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ شہد کی مکھیوں کو بذریعہ وحی سکھا دیا کہ وہ اس قسم کا گھر تیار کریں۔ پھر پھلوں اور پھولوں سے رس چوس کر شہد بنائیں اور بہرحال اپنی سردار مکھی یعسوب کی اطاعت کریں۔ الغرض ہر نوع کی طرف وحی کی جاتی ہے اور اس کی شریعت جداگانہ ہے۔ اب انسان کو جو قوت ارادہ و اختیار دی گئی ہے تو اس کے ساتھ ابتلاء و آزمائش بھی انسان ہی کے لیے ہے۔ انسان کی بہتری اور نجات اسی صورت میں ہے کہ وہ کسی حسی معجزہ کا مطالبہ کیے بغیر اپنے عقل و ارادہ سے کام لے کر دوسری انواع کی طرح اپنے آپ کو احکام الٰہی کا پابند بنا لے۔
[44] جانوروں کا حشر:۔
اس آیت سے نیز ایک دوسری آیت ﴿وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کا بھی قیامت کے دن حشر ہو گا ان سے کفر و شرک اور ایمان و اعمال کا محاسبہ تو نہیں ہو گا مگر جو ظلم کسی جانور نے دوسرے پر زیادتی سے کیا ہو گا اس کا بدلہ ضرور دلایا جائے گا کیونکہ اتنی عقل انہیں بھی بخشی گئی ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن تم سے حقداروں کے حق ادا کروائے جائیں گے حتیٰ کہ سینگ والی بکری سے بے سینگ والی بکری کا بدلہ دلوایا جائے گا۔“ [مسلم۔ كتاب البروالصلة۔ باب تحريم الظلم]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

معجزات کے عدم اظہار کی حکمت ٭٭
کافر لوگ بطور اعتراض کہا کرتے تھے کہ «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» ۱؎ [17-الإسراء:90]‏‏‏‏ جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں یہ کیوں نہیں دکھاتے؟ مثلاً عرب کی کل زمین میں چشموں اور آبشاروں کا جاری ہو جانا وغیرہ۔ فرماتا ہے کہ ’ قدرت الٰہی سے تو کوئی چیز باہر نہیں لیکن اس وقت حکمت الہیہ کا تقاضا یہ نہیں ‘۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا» ۱؎ [17-الإسراء:59]‏‏‏‏ ’ اس میں ایک ظاہری حکمت تو یہ ہے کہ تمہارے چاہے ہوئے معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی اگر تم ایمان نہ لائے تو اصول الہیہ کے مطابق تم سب کو اسی جگہ ہلاک کر دیا جائے گا جیسے تم سے اگلے لوگوں کے ساتھ ہوا، ثمودیوں کی نظیر تمہارے سامنے موجود ہے ہم تو جو چاہیں نشان بھی دکھا سکتے ہیں اور جو چاہیں عذاب بھی کر سکتے ہیں ‘۔
چرنے چگنے والے جانور اڑنے والے پرند بھی تمہاری طرح قسم قسم کے ہیں مثلاً پرند ایک امت، انسان ایک امت، جنات ایک امت وغیرہ، یا یہ کہ وہ بھی سب تمہاری ہی طرح مخلوق ہیں، سب پر اللہ کا علم محیط ہے، سب اس کی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں، نہ کسی کا وہ رزق بھولے نہ کسی کی حاجت اٹکے نہ کسی کی حسن تدبیر سے وہ غافل خشکی تری کا ایک ایک جاندار اس کی حفاظت میں ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [11-هود:6]‏‏‏‏ یعنی ’ جتنے جاندار زمین پر چلتے پھرتے ہیں سب کی روزیاں اللہ کے ذمہ ہیں وہی ان کے جیتے جی کے ٹھکانے کو اور مرنے کے بعد سونپے جانے کے مقام کو بخوبی جانتا ہے اس کے پاس لوح محفوظ میں یہ سب کچھ درج بھی ہے، ان کے نام، ان کی گنتی، ان کی حرکات و سکنات سب سے وہ واقف ہے اس کے وسیع علم سے کوئی چیز خارج اور باہر نہیں ‘۔
اور مقام پر ارشاد ہے آیت «وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [29۔العنکبوت:60]‏‏‏‏ ’ بہت سے وہ جاندار ہیں جن کی روزی تیرے ذمہ نہیں انہیں اور تم سب کو اللہ ہی روزیاں دیتا ہے وہ باریک سے باریک آواز کو سننے والا ہے اور ہر چھوٹی بڑی چیز کا جاننے والا ہے ‘۔
ابو یعلیٰ میں جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دو سال کی خلافت کے زمانہ میں سے ایک سال ٹڈیاں دکھائی ہی نہیں دیں تو آپ رضی اللہ عنہ کو بہت خیال ہوا اور شام، عراق، یمن وغیرہ کی طرف سوار دوڑائے کہ دریافت کر آئیں کہ ٹڈیاں اس سال کہیں نظر بھی پڑیں یا نہیں؟ یمن والا قاصد جب واپس آیا تو، آپ رضی اللہ عنہ نے ساتھ مٹھی بھر ٹڈیاں بھی لیتا آیا اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سامنے ڈال دیں۔
آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر تین مرتبہ تکبیر کہی اور فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { اللہ عزوجل نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں۔ ان تمام امتوں میں سے سب سے پہلے ٹڈی ہلاک ہو گی اس کے بعد تو ہلاکت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا بالکل اس طرح جیسے کسی تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ گیا اور موتی یکے بعد دیگرے جھڑنے لگ گئے }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:10132/7:موضوع]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے ’ سب کا حشر اللہ کی طرف ہے ‘ یعنی سب کو موت ہے، چوپایوں کی موت ہی ان کا حشر ہے۔ ایک قول تو یہ ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ میدان محشر میں بروز قیامت یہ بھی اللہ جل شانہ کے سامنے جمع کئے جائیں گے۔
جیسے فرمایا آیت «وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ» [81۔ التکویر:5]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے کہ { دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ { جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ } جواب ملا کہ میں کیا جانوں؟ فرمایا: { لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور ان کے درمیان وہ فیصلہ بھی کرے گا } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1588:صحیح]‏‏‏‏۔
ابن جریر کی ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ { اڑنے والے ہر ایک پرند کا علم بھی ہمارے سامنے بیان کیا گیا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13227:حسن بالشواهد]‏‏‏‏
مسند کی اور روایت میں ہے کہ { بے سینگ بکری قیامت کے دن سینگ والی بکری سے اپنا بدلہ لے گی }۔ ۱؎ [مسند احمد:323/2:حسن لغیره]‏‏‏‏
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { تمام مخلوق چوپائے بہائم پرند وغیرہ غرض تمام چیزیں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گی۔ پھر ان میں یہاں تک عدل ہوگا کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس کا بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے جناب باری فرمائے گا ’ تم مٹی ہو جاؤ ‘۔ اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ «يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا» ۱؎ [78-النبأ:40]‏‏‏‏ ’ کاش ہم بھی مٹی ہو جاتے ‘ }۔ صور والی حدیث میں یہ مرفوعاً بھی مروی ہے۔
پھر کافروں کی مثال بیان کی گئی ہے کہ ’ وہ اپنی کم علمی اور کج فہمی میں ان بہروں گونگوں کے مثل ہیں جو اندھیروں میں ہوں۔ بتاؤ تو وہ کیسے راہ راست پر آ سکتے ہیں؟ نہ کسی کی سنیں نہ اپنی کہیں نہ کچھ دیکھ سکیں ‘۔
جیسے سورۃ البقرہ کی ابتداء میں ہے کہ «مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّـهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ» [2-البقرة:17-18]‏‏‏‏ ’ ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جو آگ سلگائے جب آس پاس کی چیزیں اس پر روشن ہو جائیں اس وقت آگ بجھ جائے اور وہ اندھیریوں میں رہ جائے اور کچھ نہ دیکھ سکے۔ ایسے لوگ بہرے گونگے اندھے ہیں وہ راہ راست کی طرف لوٹ نہیں سکتے ‘۔
اور آیت میں ہے «اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ يَّغْشٰـىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ظُلُمٰتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ» ۱؎ [24-النور:40]‏‏‏‏ یعنی ’ مثل ان اندھیروں کے جو گہرے سمندر میں ہوں جس کی موجوں پر موجیں اٹھ رہی ہوں اور اوپر سے ابر چھایا ہو اندھیروں پر اندھیریاں ہوں کہ ہاتھ بھی نظر نہ آ سکے۔ جسے قدرت نے نور نہیں بخشا وہ بے نور ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ ساری مخلوق میں اللہ ہی کا تصرف ہے وہ جسے چاہے صراط مستقیم پر کردے ‘۔